Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 60 · Chapter 555

نماز جنازہ کے ابواب

نماز جنازہ میں تکبیرات کی تعداد اور سلام کا بیان

7 hadiths in this chapter

3174

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3174

Sahih

۔ (۳۱۷۴) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: نَعٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم النَّجَاشِیَّ لِأَصْحَابِہِ وَہُوَ بِالْمَدِیْنَۃِ فَصَلَّوْا خَلْفَہُ وَصَلَّی عَلَیْہِ وَکَبَّرَ أَرْبَعًا۔ (مسند احمد: ۷۷۶۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ منورہ میں صحابہ کرام کو نجاشی کی وفات کی خبر دی، پھر صحابہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اقتدا میں نمازِ جنازہ ادا کی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھاتے ہوئے چار تکبیرات کہیں۔

3175

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3175

Zaeef

۔ (۳۱۷۵) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کَبِّرُوْا عَلٰی مََوْتَاکُمْ بِاللَّیْلِ وَالنَّہَارِ أَرْبَعَ تَکْبِیَراتِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۶۷۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا جابر بن عبدا للہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دن ہو یا رات، تم اپنے مردوں پر نماز پڑھتے ہوئے چار تکبیرات کہا کرو۔

3176

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3176

Zaeef

۔ (۳۱۷۶) عَنْ أَبِی سُلَیْمَانَ الْمُؤَذِّنِ قَالَ: تُوُفِّیَ أَبُوْسَرِیْحَۃَ، فَصَلّٰی عَلَیْہِ زَیْدُ بْنُ أَرْقَمَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَکَبَّرَ عَلَیْہِ أَرْبَعًا، وَقَالَ: کَذَا فَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۹۵۱۶)

اردو ترجمہ · Urdu

ابو سلمان موذن سے روایت ہے کہ ابوسریحہ( حذیفہ بن اسید)فوت ہو گئے اور سیّدنا زید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کی نماز جنازہ ادا کی اور اس میں چار تکبیرات کہیں اور کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بھی ایسے ہی کیا تھا۔

3177

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3177

Sahih

۔ (۳۱۷۷) عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلٰی أَنَّ زَیْدَ بْنَ أَرْقَمَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کَانَ یُکَبِّرُ عَلٰی جَنَائِزِناَ أَرْبَعًا وَإِنَّہُ کَبَّرَ عَلٰی جَنَازَۃٍ خَمْسًا فَسَأَلُوْہُ ، فَقَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُکَبِّرُہَا أَوْکَبَّرَہَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۹۴۸۷)

اردو ترجمہ · Urdu

ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں: سیّدنازید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہمارے جنازوں میں چار تکبیرات کہا کرتے تھے، ایک جنازہ میں انہوں نے پانچ تکبیرات کہہ دیں، جب لوگوں نے اس کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اسی طرح تکبیرات کہا کرتے تھے۔

3178

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3178

Zaeef

۔ (۳۱۷۸)(وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ عَبْدِ الأَعْلٰی قَالَ: صَلَّیْتُ خَلْفَ زَیْدِ بْنِ أَرْقَمَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَلٰی جَنَازَۃٍ فَکَبَّرَ خَمْسًا، فَقَامَ إِلَیْہِ أَبُوْ عَیْسٰی عَبْدُالرَّحْمٰنِ بْنُ أَبِی لَیْلٰی، فَأَخَذَ بِیَدِہِ فَقَالَ: نَسِیْتَ؟ قَالَ: لَا، وَلٰکِنْ صَلَّیْتُ خَلْفَ أَبِی الْقَاسِمِ خَلِیْلِی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَکَبَّرَ خَمْسًا فَـلَا أَتْرُکُہَا۔ (مسند احمد: ۱۹۵۱۵)

اردو ترجمہ · Urdu

(دوسری سند) عبد الاعلی کہتے ہیں:میں نے سیّدنا زید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی اقتدا میں نماز جنازہ ادا کی،انہوں نے پانچ تکبیرات کہیں، ابو عیسیٰ عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ ان کی طرف گئے اور ان کا ہاتھ پکڑ کر کہا: کیا آپ بھول گئے تھے؟ انہوں نے کہا: جی نہیں، میں نے اپنے خلیل ابو القاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بھی پانچ تکبیرات کہی تھیں، لہٰذا میں اس عمل کو ترک نہیں کروں گا۔

3179

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3179

Sahih

۔ (۳۱۷۹) عَنْ یَحْییَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْجَابِرِ قَالَ: صَلَّیْتُ خَلْفَ عِیْسَی مَوْلًی لِحُذَیْفَۃَ (بْنِ الْیَمَانِ) بِاالْمَدَائِنِ عَلٰی جَنَازَۃٍ فَکَبَّرَ خَمْسًا، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَیْنَا فَقَالَ: مَا وَہَمْتُ، وَلَا نَسِیْتُ وَلٰکِنْ کَبَّرْتُ کَمَا کَبَّرَ مَوْلَایَ وَوَلِیُّ نِعْمَتِی حُذَیْفَہُ ابْنُ الْیَمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ صَلّٰی عَلٰی جَنَازَۃٍ وَکَبَّرَ خَمْسًا، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَیْنَا فَقَالَ: مَا نَسِیْتُ وَلَا وَہَمْتُ وَلٰکِنْ کَبَّرْتُ کَمَا کَبَّرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی جَنَازَۃٍ فَکَبَّرَ خَمْسًا۔ (مسند احمد: ۲۳۸۴۱)

اردو ترجمہ · Urdu

یحییٰ بن عبد اللہ کہتے ہیں:میں نے مدائن میں سیّدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے غلام عیسیٰ کی اقتدا میں نماز جنازہ ادا کی، انہوں نے پانچ تکبیرات کہیں، پھرہماری طرف متوجہ ہوئے اور کہا: مجھے وہم ہوا ہے نہ میں بھولا ہوں، میں نے تو اسی طرح تکبیرات کہی ہیں، جس طرح میرے آقا سیّدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہی تھیں، انہوں نے ایک جنازہ پڑھا اور پانچ تکبیرات کہیں، پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر کہا: میں بھولا ہوں نہ مجھے وہم ہوا ہے، بات یہ ہے کہ میں نے اسی طرح تکبیرات کہی ہیں جس طرح رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کہی تھیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پانچ تکبیرات کہیں ہیں۔

3180

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3180

Zaeef

۔ (۳۱۸۰)عَنْ إِبْرَاہِیْمَ الْہَجْرِیِّ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ أَبِی أَوْفٰی قَامَ عَلٰی جَنَازَۃَ بِنْتٍ لَہُ فَکَبَّرَ عَلَیْہَا أَرْبَعَ تَکْبِیْرَاتٍ، ثُمَّ قَامَ ہُنَیَّۃً، فَسَبَّحَ بَعْضُ الْقَوْمِ فَانْفَتَلَ فَقَالَ: أَکُنْتُمْ تَرَوْنَ أَنِّیْ أُکَبِّرُ الْخَامِسَۃَ؟ قَالُوْا: نَعَمْ قَالَ: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا کَبَّرَ الرَّابِعَۃَ قَامَ ہُنَیَّۃً فَلَمَّا وُضِعَتْ الْجَنَازَۃُ جَلَسَ وَجَلَسْنَا إِلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۹۶۳۷)

اردو ترجمہ · Urdu

ابراہیم ہجری کہتے ہیں کہ سیّدناعبد اللہ بن ابی اوفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنی بیٹی کی نماز جنازہ پڑھائی اور چار تکبیرات کہیں، پھر کچھ دیر کے لیے کھڑے رہے۔ جب بعض مقتدیوں نے سبحان اللہ کہہ کر لقمہ دیا تو انہوں نے سلام پھیر کر کہا: کیا تمہارا یہ خیال تھا کہ میں پانچویں تکبیر کہنے والا ہوں؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، پھر انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب چوتھی تکبیر کہہ لیتے تو کچھ دیر اسی حالت میں کھڑے رہتے، پھر جب جنازہ رکھ دیا گیا تو وہ بیٹھ گئے اور ہم بھی اس کے پاس بیٹھ گئے۔