Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 60 · Chapter 554

نماز جنازہ کے ابواب

دفن کے بعد قبر پر نماز جنازہ پڑھنے کا بیان

6 hadiths in this chapter

3168

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3168

Sahih

۔ (۳۱۶۸)حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ ثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَبِی رَافِعٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ إِنْسَانًا کَانَ یَقُمُّ الْمَسْجِدَ أَسْوَدَ، مَاتَ أَوْ مَاتَتْ، فَفَقَدَہَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مَا فَعَلَ اْلإِنْسَانُ الَّذِی کَانَ یَقُمُّ الْمَسْجِدَ؟)) قَالَ: فَقِیْلَ لَہُ: مَاتَ، قَالَ: ((فَہَلَّا آذْنْتُمُوْنِی بِہِ؟)) فَقَالُوْا: بِاَنَّہُ کَانَ لَیْلًا، قَالَ: ((فَدُلُّوْنِیْ عَلٰی قَبْرِہَا)) قَالَ: فَأَتَی الْقَبْرَ فَصَلّٰی عَلَیْہَا۔ قَالَ ثَابِتٌ عِنْدَ ذَالِکَ أَوْ فِی حَدِیْثٍ آخَرَ، ((إِنَّ ہٰذِہِ الْقُبُوْرَ مَمْلُوْئَ ۃٌ ظُلْمَۃً عَلٰی أَہْلِہَا وَ إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یُنَوِّرُہَا بِصَلَاتِی عَلَیْہِمْ)) (مسند احمد: ۹۰۲۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ مسجد میں جھاڑ و دینے والا ایک سیاہ فام آدمی تھا یا عورت تھی، وہ فوت ہو گیا، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو وہ نظر نہ آیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: مسجد کی صفائی کرنے والے کا کیا بنا؟ کسی نے کہا کہ وہ تو فوت ہو گیا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے مجھے اطلاع کیوں نہیں دی؟ صحابہ نے کہا: یہ رات کا واقعہ تھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کی قبر کی طرف میری رہنمائی کرو۔ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قبر پر تشریف لے گئے اور نمازجنازہ ادا کی۔ اس حدیث کے راوی ثابت نے یہ یا کوئی اور حدیث بیان کرتے ہوئے کہا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک یہ قبریں اندھیرے سے بھری ہوئی ہیں، میری اس نماز کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو منور کر دیا ہے۔

3169

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3169

Sahih

۔ (۳۱۶۹) عَنْ أَنَسِ (بْنِ مَالِکَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) أَنَّ أَسْوَدَ کَانَ یُنَظِّفُ الْمَسْجِدَ، فَدُفِنَ لَیْلًا وَاَتَی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأُخْبِرَ فَقَالَ: ((اِنْطَلَقُوْا إِلٰی قَبْرِہِ۔)) فَانْطَلَقُوْا إِلٰی قَبْرِہِ، فَقَالَ: ((إِنَّ ہٰذِہِ الْقُبُوْرَ مُمْتَلِئَۃٌ عَلٰی أَہْلِہَا ظُلْمَۃً، وَإِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یُنَوِّرُہَا بِصَلَاتِی عَلَیْہَا۔)) فَأَتَی الْقَبْرَ فَصَلّٰی عَلَیْہِ، وَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الأَنْصَارِ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّ أَخِی مَاتَ وَلَمْ تُصَلِّ عَلَیْہِ، قَالَ: فَأَیْنَ قَبْرُہُ؟ فَأَخْبَرَہُ فَانْطَلَقَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَعَ اْلأَنْصَارِیِّ۔ (مسند احمد: ۱۲۴۴۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک سیاہ فام آدمی مسجد کی صفائی کیا کرتا تھا، وہ رات کو فوت ہو گیا اور اسے رات کو ہی دفن کر دیا گیا۔ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس کی اطلاع دی گئی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چلو اس کی قبر کی طرف، یہ قبریں اندھیرے سے بھری ہوئی ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو ان پر میری نماز کی وجہ سے روشن کر دیتا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کی قبر کے پاس آئے اور اس کی نماز جنازہ ادا کی۔ ایک انصاری صحابی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا بھائی فوت ہوا تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی تھی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: اس کی قبر کہاں ہے؟ اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلایا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے ہمراہ وہاں تشریف لے گئے۔

3170

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3170

Sahih

۔ (۳۱۷۰) وَعَنْہُ أَیْضًا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی عَلٰی قَبْرِ امْرَأَۃٍ قَدْ دُفِنَتْ۔ (مسند احمد: ۱۲۳۴۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دفن کر دی جانے والی ایک عورت کی قبر پر نماز جنازہ پڑھی تھی۔

3171

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3171

Sahih

۔ (۳۱۷۱) عَنْ یَزِیْدَ بْنِ ثَابِتٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمَّا وَرَدْنَا الْبَقِیْعَ إِذَا ہُوَ بَقِبْرٍ جَدِیْدٍ، فَسَأَلَ عَنْہُ، فَقِیْلَ فُلَانَۃٌ، فَعَرَفَہَا، فَقَالَ: ((أَلَا آذنْتُمُوْنِی بِہَا؟)) قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کُنْتَ قَائِلًا صَائِمًا فَکَرِہْنَا أَنْ نُؤْذِنَکَ، فَقَالَ: ((لَا یَمُوْتَنَّ فِیْکُمْ مَیِّتٌ مَا کُنْتُ بَیْنَ أَظْہُرِکُمْ إِلَّا آذْنْتُمُوْنِی بِہِ فَإِنَّ صَلَاتِی عَلَیْہِ لَہُ رَحْمَۃٌ؟)) قَالَ: ثُمَّ أَتَی الْقَبْرَ فََصَفَّنَا خَلْفَہُ وَکَبَّرَ عَلَیْہِ أَرْبَعًا۔ (مسند احمد: ۱۹۶۸۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا یزید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ نکلے، جب ہم بقیع میں پہنچے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہاں ایک نئی قبر دیکھ کر اس کے متعلق پوچھا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتایا گیا کہ یہ فلاں عورت کی قبر ہے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے پہچان لیا اور پھر پوچھا: تم نے مجھے اس کے بارے میں بتلایا کیوں نہیں تھا؟ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ روزے کی حالت میں تھے اور قیلولہ کر رہے تھے، اس لیے ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اطلاع دینا مناسب نہ سمجھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (ایسے نہ کیا کرو،) جب بھی تم میں سے کوئی فوت ہو جائے اور میں تمہارے درمیان موجود ہوں تو مجھے ضرور اطلاع دیا کرو، کیونکہ کسی میت پر میرا نماز جنازہ ادا کرنا اس کے لیے باعث ِ رحمت ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کی قبر پر تشریف لے گئے اور ہمیں اپنے پیچھے صفوں میں کھڑا کیا اور چار تکبیرات کہیں۔

3172

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3172

Sahih

۔ (۳۱۷۲) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی عَلٰی صَاحِبِ قَبْرٍ بَعْدَ مَا دُفِنَ۔ (مسند احمد: ۱۹۶۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک قبر والے پر اس کی تدفین کے بعد اس کی نماز جنازہ ادا کی۔

3173

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3173

Sahih

۔ (۳۱۷۳) (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ شُعْبَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ سُلَیْمَانَ الشَّیْبَانِیَّ قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِیَّ قَالَ: أَخْبَرَنِی مَنْ مَرَّ مَعَ رَسُوْلِ للّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی قَبْرٍ مَنْبُوْذٍ، فَأَمَّہُمْ وَصَفُّوْا خَلْفَہُ، فَقُلْتُ: یَا أَبَا عَمْرٍو! وَمَنْ حَدَّثَکَ؟ قَالَ: اِبْنُ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌۔ (مسند احمد: ۳۱۳۴)

اردو ترجمہ · Urdu

(دوسری سند) امام شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے ایک ایسے آدمی نے خبر دی جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں ایک الگ تھلگ قبر کے پاس سے گزرا تھا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صحابہ کی امامت کرائی اور انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے صفیں بنائیں۔ سلیمان شیبانی نے کہا: اے ابو عمرو! آپ کو یہ واقعہ کس نے بیان کیا تھا؟ انھوں نے کہا: سیّدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے۔