Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 58 · Chapter 538

میت کو غسل دینے کے مسائل

میت کے امور کا ذمہ دار کون ہے؟ اس کا اور اس کے ساتھ نرمی کرنے اس پر پردہ ڈالنے اور اس کے ثواب کا بیان

4 hadiths in this chapter

3096

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3096

Zaeef

۔ (۳۰۹۶) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ غَسَّلَ مَیِّتًا فَأَدّٰی فِیْہِ الْأَماَنَۃَ، وَلَمْ یُفْشِ عَلَیْہِ مَا یَکُوْنُ مِنْہُ عِنْدَ ذَالِکَ، خَرَجَ مِنْ ذُنُوْبِہِ کَیَوْمِ وَلَدَتْہُ أُمُّہٗ۔)) وَقَالَ: ((لِیَلِہِ أَقْرَبُکُمْ مِنْہُ، إِنْ کَانَ یَعْلَمُ، فَإِنْ کَانَ لَا یَعْلَمُ فَمَنْ تَرَوْنَ أَنَّ عِنْدَہُ حَظًّا مِنْ وَرَعٍ وَأَمَانَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۲۵۳۹۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص میت کو غسل دے، (اس سلسلہ کے تمام امور کی) ادائیگی میں امانت کا خیال رکھے اور میت کی (پردہ والی اور ناپسندیدہ چیزوں کا) افشا نہ کرے تو وہ اپنے گناہوں سے اس دن کی طرح پاک ہو جاتا ہے، جس دن اس کی ماں نے اس کو جنم دیا تھا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میت کا قریبی رشتہ دار اس کے امور کا ذمہ دار بنے، بشرطیکہ اسے (ان امور کا) علم ہو، وگرنہ جس کو تم تقوے اور امانت والا سمجھو (اس کو یہ ذمہ داری سونپ دو)۔

3097

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3097

Zaeef

۔ (۳۰۹۷) عَنْ صَالِحٍ أَبِی حُجَیْرٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ خُدَیْجٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: وَکَانَتْ لَہُ صُحْبَۃٌ، مَنْ غَسَّلَ مَیِّتًا وَکَفَّنَہُ وَتَبِعَہُ وَوَلِیَ جُثَّتَہُ، رَجَعَ مَغْفُوْرًا لَہُ۔ قَالَ أَبُوْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ: قَالَ أَبِی: لَیْسَ بِمَرْفُوْعٍ۔ (مسند احمد: ۲۷۸۰۰)

اردو ترجمہ · Urdu

صحابی ٔ رسول سیّدنا معاویہ بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جو شخص میت کو غسل اور کفن دے، پھر اس کے ساتھ جائے اور اس کے دفن کا اہتمام کرے تو بخشا بخشایا واپس آئے گا۔ امام احمد رحمہ اللہ نے کہا: یہ مرفوع نہیں ہے۔

3098

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3098

Zaeef

۔ (۳۰۹۸) عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: أَنَّ آدَمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ قَبْضَتْہُ الْمَلَائِکَۃُ وَغَسَّلُوْا وَکَفَّنُوْہُ وَحَنَّطُوْہُ وَحَفَرُوْا لَہُ وَأَلْحَدُوْا لَہُ وَصَلَّوْا عَلَیْہِ ، ثُمَّ دَخَلُوْا قَبْرَہُ فَوَضَعُوْہُ عَلَیْہِ اللَّبِنَ ثُمَّ خَرَجُوْا مِنَ الْقَبْرِ ثُمَّ حَثَوْا عَلَیْہِ التُّرَابَ، ثُمَّ قَالُوْا: یَا بَنِیْ آدَمَ! ہٰذِہٖ سُنَّتُکُمْ۔ (مسند احمد: ۲۱۵۶۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: فرشتوں نے آدم علیہ السلام کی روح کو قبض کیا، پھر ان کو غسل دے کر کفن پہنایا اور خوشبو لگائی، بعد ازاں ان کی قبر کھودی اور لحد تیار کی۔ پھران کی نماز جنازہ پڑھی اور ان کی قبر میں داخل ہوئے اور ان کو قبر میں اتار دیا، پھر اس پر اینٹیں رکھ کرقبر سے باہر آئے اور اس پر مٹی ڈال کر کہا: اے بنی آدم! تمہارے لیے مردوں کو دفن کرنے کا یہ طریقہ ہے۔

3099

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3099

Sahih

۔ (۳۰۹۹) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: لَا یَسْتُرُ عَبْدٌ عَبْدًا فِی الدُّنْیَا إِلاَّ سَتَرَہُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۹۲۳۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص دنیا میں دوسرے آدمی پر پردہ ڈالے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس پر پردہ ڈالے گا۔