Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 55 · Chapter 515

نماز خوف اور اس کی کئی صورتیں ہیں

نمازِ خوف کی مشروعیت کا سبب، اس کا حکم اور یہ کب ادا کی جائے گی نماز خوف کی اقسام میں سے پہلی قسم کا بیان

6 hadiths in this chapter

2947

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2947

Sahih

۔ (۲۹۴۷) عَنِ ابْنِ عَباَّسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ فَرَضَ الصَّلَاۃَ عَلٰی لِسَانِ نَبِیِّکُمْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی الْمُقِیْمِ أَرْبَعًا وَعَلَی الْمَسُافِرِ رَکَعَتَیْنِ وَعَلَی الْخَائِفِ رَکْعَۃً۔ (مسند احمد: ۲۱۲۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زبان پر مقیم آدمی پر چار، مسافر پر دو اور خوف والے پر ایک رکعت فرض کی ہے۔

2948

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2948

Sahih

۔ (۲۹۴۸) عَنْ أَبِیْ عَیَّاشٍ الزُّرَقِی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِعُسْفَانَ فَاسْتَقْبَلَنَا الْمُشْرِکُوْنَ عَلَیْہٖمْ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیْدِ وَہُمْ بَیْنَنَا وَبَیْنَ الْقِبْلَۃِ فَصَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الظُّہْرَ فَقَالُوْا: قَدْ کَانُوْا عَلٰی حَالٍ لَوْ أَصَبْنَا غِرَّتَہُمْ، قَالُوْا: تَأْتِیْ عَلَیْہِمُ الْآنَ صَلَاۃٌ ہِیَ أَحَبُّ إِلَیْہِمْ مِنْ أَبْنَائِہِمْ وَأَنْفُسِہِمْ، ثُمَّ قَالَ: فَنَزَلَ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ بِہٰذِہِ الْآیَاتِ بَیْنَ الظَّہْرِ وَالْعَصْرِ {وَاِذَا کُنْتَ فِیْہِمْ فَأَقَمْتَ لَہُمْ الصَّلَاۃَ …} قَالَ: فَحَضَرَتْ فَأَمَرَہُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأخَذُوْا السَّلَاحَ، قَالَ: فَصَفَفْنَا خَلْفَہُ صَفَّیْنِ، قَالَ: ثُمَّ رَکَعَ فَرَکَعْنَا جَمِیْعًا، ثُمَّ رَفَعَ فَرَفَعْنَا جَمِیْعًا، ثُمَّ سَجَدَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالصَّفِّ الَّذِیْ یَلَیْہِ وَالآخَرُوْنَ قِیَامٌ یَحْرُسُوْنَھُمْ فَلَمَّا سَجَدُو وَقَامُوْا جَلَسَ اْلآخَرُوْنَ فَسَجَدُوْا فِی مَکَانِھِمْ ثُمَّ تَقَدَّمَ ھٰؤُلَائِ إِلَی مَصَافِّ ھٰؤُلَائِ وَجَائَ ھٰؤُلَائِ إِلٰی مَصَافِّ ھٰؤُلَائِ، قَالَ: ثُمَّ رَکَعَ فَرَکَعُوا جَمِیْعًا، ثُمَّ رَفَعَ فَرَفَعُوْا جَمِیْعًا، ثُمَّ سَجَدَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَالصَّفُّ الَّذِی یَلِیْہِ، وَالآخَرُوْنََ قِیَامٌ یَحْرُسُوْنَھُمْ، فَلَمَّا جَلَسَ جَلَسَ الآخَرُوْنَ فَسَجَدُوْ فَسَلَّمَ عَلَیْھِمْ ثُمَّ انْصَرَفَ، قَالَ: فَصَلَّاھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی اٰلِہِ وَسَلَّمَ مَرَّتَیْنِ، مَرَّۃً بِعُسْفَانَ، وَمَرَّۃً بَأَرْضِ بَنِی سُلَیْمٍ۔ (مسند احمد: ۱۶۶۹۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابو عیاش زرقی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ عسفان کے مقام پر تھے، مشرکین ہمارے مدمقابل آ گئے، ان کی قیادت خالد بن ولید کر رہے تھے، وہ لوگ ہمارے اور قبلہ کے درمیان تھے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی، وہ لوگ آپس میں کہنے لگے:یہ مسلمان نماز میں مشغول تھے، کاش کہ ہم ان کی غفلت سے فائدہ اٹھا لیتے۔ پھر انھوں نے کہا: ابھی کچھ دیر بعد ان کی ایک اور نماز کاوقت ہونے والا ہے، وہ ان کو اپنی جانوں اور اولادوں سے بھی زیادہ عزیز ہے۔اسی وقت ظہر اور عصر کے درمیان جبریل علیہ السلام یہ آیات لے کر نازل ہوئے۔ {وَاِذَا کُنْتَ فِیْہِمْ فَأَقَمْتَ لَہُمْ الصَّلَاۃَ …} (جب تو ان میں ہو، پس ان کے لیے نماز قائم کرے…۔) جب عصر کاوقت ہوا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا کہ صحابہ کرام اسلحہ لے کر کھڑے ہوں، ہم نے آپ کے پیچھے دو صفیں بنا لیں، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکوع کیا تو ہم سب نے رکوع کیا اور جب آپ رکوع سے اٹھے تو ہم بھی اٹھ گئے۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سجدہ کیا تو صرف آپ کے پیچھے والی پہلی صف والوں نے سجدہ کیا اور دوسری صف والے کھڑے ہو کر پہرہ دیتے رہے۔ جب وہ لوگ سجدے کرکے کھڑے ہوئے تو دوسری صف والوں نے بیٹھ کر اپنی اپنی جگہ سجدہ کیا، پھر (دوسری رکعت کے شروع میں) اگلی صف والے پیچھے اور پچھلی صف والے آ گئے۔ پھر اسی طرح سب نمازیوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ رکوع کیا اور رکوع سے سر اٹھایا، پھر جب آپ نے سجدہ کیا تو پہلی صف والوں نے آپ کے ساتھ سجدہ کیا اور دوسری صف والے کھڑے ہو کر پہرہ دیتے رہے، جب آپ اور پہلی صف والے لوگ سجدہ کرکے بیٹھ گئے تو دوسری صف والوں نے بیٹھ کر سجدہ کر لیا (اور سب تشہد میں بیٹھ گئے، پھر) سب نے مل کر سلام پھیر ا اور نماز سے فارغ ہوئے۔رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس انداز میں دو دفعہ نماز پڑھائی، ایک دفعہ عسفان میں اور دوسری دفعہ بنو سلیم کے علاقہ میں۔

2949

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2949

Sahih

۔ (۲۹۴۹) عَنْ عَطَائِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّہُ صَلَّی مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃَ الْخَوْفِ وَذَکَرَ أَنَّ الْعَدُوَّ کَانُوْا بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْقِبْلَۃِ وَأِنَّا صَفَفْنَا خَلْفَہُ فَکَبَّرَ وَکَبَّرْنَا مَعَہُ جَمِیْعًا، ثُمَّ رَکَعَ وَرَکَعْنَا مَعَہُ جَمِیْعًا،فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوْعِ سَجَدَ وَسَجَدَ مَعَہُ الصَّفُّ الَّذِی یَلِیْہِ، وَقَامَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ فِی نَحْرِالْعَدُوِّ، فَلَمَّا قَامَ وَقَامَ مَعَہُ الصَّفُّ الَّذِی یَلَیْہِ انْحَدَرَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ بِالسُّجُوْدِ،ثُمَّ تَقَدَّمَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ وَتَأَخَّرَ الصَّفُّ الْمُقَدَّمُ، فَرَکَعَ وَرَکَعْنَا مَعَہُ جَمِیْعًا،ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ مَعَہُ الصَّفُّ الَّذِی یَلَیْہِ، فَلَمَّا سَجَدَ الصَّفُّ الَّذِی یَلَیْہِ وَجَلَسَ انْحَدَرَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ بِالسَّجُوْدِ،ثُمَّ سَلَّمَ وَسَلَّمْنَا جَمِیْعًا۔ قَالَ جَابِرٌ: کَمَا یَفْعَلُ حَرَسُکُمْ ہَؤُلَائِ بِأُمَرَائِہِمْ۔ (مسند احمد: ۱۴۴۸۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِ خوف ادا کی ، اس موقع پر دشمن قبلہ کی جانب تھا ۔ ہم نے آپ کے پیچھے دو صفیں بنا لیں ، آپ نے اللہ اکبر کہہ کر نماز شروع کی ، ہم نے بھی اللہ اکبر کہا ، آپ نے رکوع کیا ، ہم سب نے بھی رکوع کیا ، رکوع کے بعد جب آپ نے سجدہ کیا تو آپ کے پیچھے والی صف نے سجدہ کیا اور دوسری صف دشمن کے سامنے کھڑی رہی ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور پہلی صف والے سجدوں کے بعد کھڑے ہو گئے تو دوسری صف والوں نے سجدے کیے ۔ اس کے بعد اگلی صف والے پیچھے ہو گئے اور پچھلی صف والے آگے ہو گئے ۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع کیا تو سب لوگوں نے رکوع کیا ۔ لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدہ کو گئے تو پہلی صف والوں نے آپ کے ساتھ سجدے کیے ۔ (اور پچھلی صف والے نمازی حسب سابق کھڑے رہے) جب آپ سجدوں کے بعد بیٹھے تو پچھلی صف والے نمازیوں نے سجدے کیے اور پھر وہ بھی بیٹھ گئے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب سلام پھیرا تو سب نمازیوں نے آپ کے ساتھ سلام پھیرا ۔ جابر کہتے ہیں : (دوسری صف والے نمازی اسی طرح کھڑے رہے) جس طرح آج کل پہرہ دینے والے حضرات امراء و حکام کے ساتھ کرتے ہیں ۔‘‘

2950

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2950

Sahih

۔ (۲۹۵۰) عَنْ عِکْرِمَۃَ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: مَا کَانَتْ صَلَاۃُ الْخَوْفِ إِلاَّ کَصَلَاۃِ اَحْرَاسِکُمْ ہٰؤُلَائِ الْیَوْمَ خَلْفَ أَئِمَّتِکُمْ، إِلَّا أَنَّہَا کَانَتْ عُقَبًا، قَامَتْ طَائِفَۃٌ وَہُمْ جَمِیْعٌ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَسَجَدَتْ مَعَہُ طَائِفَۃٌ، ثُمَّ قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَسَجَدَ الَّذِیْنَ کَانُوْا قِیَامًالِأَنْفُسِہِمْ، ثُمَّ قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَامُوْا مَعَہُ جَمِیْعًا، ثُمَّ رَکَعَ وَرَکَعُوْا مَعَہُ جَمِیْعًا، ثُمَّ سَجَدَ فَسَجَدَ الَّذِیْنَ کَانُوْا مَعَہُ قِیَامًا أَوَّلَ مَرَّۃٍ وَقَامَ الْآخَرُوْنَ الَّذِیْنَ کَانُوْا سَجَدُوْا مَعَہُ أَوَّلَ مَرَّۃٍ ، فَلَمَّا جَلَسَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَالَّذِیْنَ سَجَدُوْا مَعَہُ فِی آخِرِ صَلَاتِہِمْ سَجَدَ الَّذِیْنَ کَاُنْوَ قِیَامًا لِأَنْفُسِہِمْ ثُمَّ جَلَسُوْا، فَجَمَعَہُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالسَّلَامِ۔ (مسند احمد: ۲۳۸۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عبد اللہ بن عباس کہتے ہیں کہ نماز خوف اسی طرح ہوتی تھی جس طرح آج کل کے تمہارے پہرہ دار اماموں کے پیچھے ادا کرتے ہیں، البتہ ان کی نماز باری باری ہوتی تھی اور وہ سب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے کھڑے ہوتے تھے۔ سب لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز شروع کرتے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سجدے کرتے تو پہلی صف والے بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سجدے کرتے اور پچھلی صف والے کھڑے رہتے۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سجدوں کے بعدکھڑے ہوتے تو پچھلی صف والے، جو کھڑے رہے تھے، وہ اپنا سجدہ کرتے اور پھر سب (دوسری رکعت کے لیے) کھڑے ہو جاتے۔ پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رکوع کرتے تو سب لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ رکوع کرتے اور جب آپ سجدے کرتے تو پہلی رکعت میں جو لوگ کھڑے رہے تھے وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سجدے کرتے اور جن لوگوں نے پہلی دفعہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سجدے کئے تھے، وہ اب کی بار کھڑے رہتے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور ایک صف والے سجدوں کے بعد (تشہد کے لیے) بیٹھ جاتے تو کھڑے ہوئے لوگ اپنے سجدے کرکے بیٹھ جاتے ، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سب لوگوں کو سلام میں جمع کر لیتے۔

2951

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2951

Zaeef

۔ (۲۹۵۱) عَنْ سُلَیْمٍ بْنِ عَبْدٍ السَّلُوْلِیِّ قَالَ: کُنَّا مَعَ سَعِیْدِ بْنِ الْعَاصِ بِطَبَرِسْتَانِ وَمَعَہُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: أَیُّکُمْ صَلّٰی مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃَ الْخَوْفِ؟ فَقَالَ حُذَیْفَۃُ: أَنَا فَأْمُرْ أَصْحَابِکَ یَقُوْمُوْنَ طَائِفَتَیْنِ طَائِفَۃٌ خَلْفَکَ وَطَائِفَۃٌ بِإِزَائِ الْعَدُوِّ فَتُکَبِّرُ وَیُکَبِّرُوْنَ جَمِیْعًا، ثُمَّ تَرْکَعُ فَیَرْکَعُوْنَ جَمِیَعْاً، ثُمَّ تَرْفَعُ فَیَرْفَعُوْنَ جَمِیْعًا، ثُمَّ تَسْجُدُو وَیَسْجُدُ مَعَکَ الطَّائِفَۃُ الَّتِی تَلِیْکَ، وَالطَّائِفَۃُ الَّتِی بِإِزَائِ الْعَدُوِّ قِیَامٌ بِاِزَائِ اتعَدُوِّ، فَإِذَا رَفَعْتَ رَأْسَکَ مِنَ السُّجُوْدِ یَسْجُدُوْنَ، ثُمَّ یَتَأَخَّرُ ہٰؤُلَائِ وَیَتَقَدَّمُ الْآخَرُوْنَ فَقَامُوْا فِی مَصَافِّہِمْ فَتَرْکَعُ فَیَرْکَعُوْنَ جَمِیْعًا، ثُمَ تَسْجُدُ فَتَسْجُدُ الطَّائِفَۃُ التَّیِ تَلِیَْکَ وَالطَّائِفَۃُ اْلأُخْرٰی قَائِمَۃٌ بِإِزَائِ الْعَدُوِّ، فَإِذَا رَفَعْتَ رَأْسَکَ مِنَ السُّجُودِ سَجَدُوْا ثُمَّ سَلَّمْتَ وَسَلَّمَ بَعْضُہُمْ عَلٰی بَعْضٍ، وَتَاْمُرُ أَصْحَابَکَ إِنْ ہَاجَہُمْ ہَیْجٌ مِنَ الْعَدُوِّ فَقَدْ حَلَّ لَہُمْ الْقِتَالُ وَالْکَلَامُ ۔ (مسند احمد : ۲۳۸۴۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سلیم بن عبد سلولی کہتے ہیں:ہم سعید بن عاص کے ساتھ طبرستان کے علاقہ میں تھے، ان کے ہمراہ کچھ صحابہ بھی تھے۔ انہوں نے پوچھا: آپ میں سے کس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نمازِ خوف پڑھی ہے؟ سیّدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا:میں نے پڑھی ہے۔ آپ اس طرح کریں کہ لوگوں کو حکم دیں کہ وہ آپ کے پیچھے دو صفوں میں کھڑے ہو جائیں۔ ایک گروہ آپ کے پیچھے ہو گا اور دوسرا دشمن کے سامنے۔ آپ اللہ اکبر کہیں گے، سب لوگ بھی اللہ اکبر کہیں گے۔ آپ رکوع کریں گے،سب لوگ بھی آپ کے ساتھ رکوع کریں گے، آپ رکوع سے سر اٹھائیں گے، سب لوگ بھی رکوع سے سر اٹھائیں گے۔ لیکن جب آپ سجدہ کریں گے تو آپ کے ساتھ والی صف سجدے کرے گی اور دوسری صف والے دشمن کے سامنے کھڑے رہیں گے۔ جب آپ سجدے کر لیں گے، تو دوسری صف والے لوگ سجدے کریں گے، پھر پہلی صف والے پیچھے اور پچھلی صف والے آگے آ جائیں گے اور اسی طریقہ کے مطابق سب لوگ آپ کے ساتھ رکوع کریں گے، لیکن جب آپ سجدہ کریں گے تو پہلی صف والے لوگ آپ کے ساتھ سجدے کریں گے اور پچھلی صف والے کھڑے رہیں گے، جب آپ سجدے کر لیں گے تو دوسری صف والے لوگ سجدے کریں گے، اس کے بعد جب آپ سلام پھیریں گے تو سب لوگ آپ کے ساتھ سلام پھیریں گے۔نیز آپ اپنے ساتھیوں کو بتلا دیں کہ اگر دشمن حملہ آور ہو جائے تو ان کے لیے (نماز کے دوران) قتال اور کلام جائز ہو جائے گا۔

2952

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2952

Sahih

۔ (۲۹۵۲) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: غَزَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وآلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّم سِتَّ مِرَارٍ قَبْلَ صَلَاۃِ الْخَوْفِ وَکَانَتْ صَلَاۃُ الْخَوْفِ فِی السَّنَۃِ السَّابِعَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۴۸۱۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نمازِ خوف سے پہلے چھ غزوے کئے تھے اور نماز خوف ہجرت کے ساتویں سال مشروع ہوئی۔