Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 53 · Chapter 499

نمازِکسوف کے ابواب

اس شخص کا بیان جو یہ روایت کرتاہے کہ اس نماز کی دو رکعتیں (دوسری نمازوں کی) عام رکعات کی طرح ہوں گی

8 hadiths in this chapter

2895

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2895

Sahih

۔ (۲۸۹۵) عَنْ مَحْمُوْدِ بْنِ لَبِیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَسَفَتِ الشَّمْسُ یَوْمَ مَاتَ اِبْرَاھِیْمُ بْنُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالُوا: کَسَفَتٍ الشَّمْسُ لِمَوْتِ اِبْرَاھِیْمَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، أَلَا وَاِنَّہُمَا لَا یَنْکَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَیَاتِہِ، فَاِذَا رَأَیْتُمُوْھُمَا کَذٰلِکَ فَافْزَعُوا اِلَی الْمَسَاجِدِ۔)) ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ فِیْمَا نُرَی بَعْضَ {الٓرکِتَابٌ} ثُمَّ رَکَعَ ثُمَّ اعْتَدَلَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ ثُمَّ قَامَ فَفَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلَ فِی الْأُوْلٰی۔ (مسند احمد: ۲۴۰۲۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا محمود بن لبید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:جس دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بیٹے ابراہیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ فوت ہوئے، اس دن سورج کو گرہن لگ گیا۔پس لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا: جناب ابراہیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی موت کی وجہ سے سورج کو گرہن لگا ہے، یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ خبردار! یہ کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے، جب تم ان کو اس طرح دیکھو تو ڈر کر مسجد کی طرف پناہ لو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور ہمارا خیال ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سورۂ ابراہیم کی بعض آیات تلاوت کیں، پھر رکوع کیا، اس کے بعدسیدھے ہوئے اور پھر دو سجدے کیے، پھر کھڑے ہوئے اور پہلی رکعت کی طرح دوسری رکعت ادا کی۔

2896

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2896

Sahih

۔ (۲۸۹۶) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَامَ وَقُمْنَا مَعَہُ فَأَطَالَ الْقِیَامَ حَتّٰی ظَنَنَّا أَنَّہُ لَیْسَ بِرَاکِعٍ ثُمَّ رَکَعَ فَلَمْ یَکَدْ یَرْفَعُ رَأْسَہُ، ثُمَّ رَفَعَ فَلَمْ یَکَدْ یَسْجُدُ،ثُمَّ سَجَدَ فَلَمْ یَکَدْ یَرْفَعُ رَأْسَہُ، ثُمَّ جَلَسَ فَلَمْ یَکَدْ یَسْجُدُ ثُمَّ سَجَدَ فَلَمْ یَکَدْ یَرْفَعُ رَأْسَہُ، ثُمَّ فَعَلَ فِی الرَّکْعَۃِ الثَّانِیَۃِ کَمَا فَعَلَ فِی الْأُوْلٰی وَجَعَلَ یَنْفُخُ فِی الْأَرْضِ وَیَبْکِی وَھُوَ سَاجِدٌ فِی الرَّکْعَۃِ الثَّانِیَۃِ، وَجَعَلَ یَقُوْلُ: ((رَبِّ لِمَ تُعَذِّبُہُمْ وَأَنَا فِیْھِمْ، رَبِّ لِمَ تُعَذِّبُنَا وَنَحْنُ نَسْتَغْفِرُکَ)) فَرَفَعَ رَأْسَہُ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ وَقَضٰی صَلَاتَہُ فَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ: ((أَیُّہَا النَّاسُ! اِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، فَاِذَا کَسَفَ أَحَدُھُمَا فَافْزَعُوا اِلَی الْمَسَاجِدِ، فَوَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَقَدْ عُرِضَتْ عَلَیَّ الْجَنَّۃُ حَتّٰی لَوْ أَشَائُ لَتَعَاطَیْتُ بَعْضَ أَغْصَانِہَا وَعُرِضَتْ عَلَیَّ النَّارُ حَتّٰی اِنِّی لَأُطْفِئُہَا خَشْیَۃَ أَنْ تَغْشَاکُمْ، وَرَأَیْتُ فِیْہَا امْرَأَۃً مِنْ حِمْیَرَ سَوْدَائَ طُوَالَۃً تُعَذَّبُ بِہِرَّۃٍ لَھَا تَرْبِطُھَا فَلَمْ تُطْعِمْہَا وَلَمْ تَسْقِہَا وَلَا تَدَعْہَا تَأْکُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ کُلَّمَا أَقْبَلَتْ نَہَشَتْہَا، وَکُلَّمَا أَدْبَرَتْ نَھَشَتْہَا وَرَأَیْتُ فِیْہَا أَخَابَنِی دَعْدَعٍ وَرَأَیْتُ صَاحِبَ الْمِحْجَنِ مُتَّکِئًا فِی النَّارِ عَلٰی مِحْجَنِہِ کَانَ یَسْرِقُ الْحَاجَّ بِمِحْجَنِہِ، فَاِذَا عَلِمُوا بِہِ قَالَ لَسْتُ أَنَا أَسْرِقُکُمْ، اِنَّمَا تَعَلَّقَ بِمِحْجَنِی۔)) (مسند احمد: ۶۴۸۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے، ہم بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ کھڑے ہوگئے،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اتنا لمبا قیام کیاکہ ہمیں یہ گمان ہونے لگا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکوع ہی نہیں کرنا، بالآخر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکوع کیا اور قریب نہیں تھا کہ رکوع سے سر اٹھائیں، پھر سر اٹھایا اور سجدے میں گر گئے، قریب نہیں تھا کہ اس سے بھی سر اٹھاتے، بالآخر سر اٹھایا اور (جلسہ میں) بیٹھ گئے (اور اتنی دیر کے لیے بیٹھے رہے کہ) قریب نہیں تھا کہ دوسرا سجدہ کریں گے، پھر سجدہ کیا اور قریب نہیں تھا کہ سجدہ سے سر اٹھائیں گے، پھر دوسری رکعت بھی پہلی رکعت کی طرح ادا کی، جب دوسری رکعت کا سجدہ کر رہے تھے تو زمین میں پھونکنا اور رونا شروع کر دیا اور یہ کہنا شروع کر دیا: اے رب! تو ان کو عذاب کیوں دے رہا ہے، حالانکہ میں ان میں موجود ہوں، اے رب! تو ہمیں عذاب کیوں دیتا ہے، حالانکہ ہم تجھ سے بخشش طلب کر رہے ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور سورج صاف ہوچکا تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز مکمل کرنے کے بعد اللہ کی حمدو ثنا بیان کی اور فرمایا: اے لوگو! بے شک سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، پس جب تم ان میں سے کسی کو بے نور ہوتا دیکھو تو ڈر کر مساجد کی طرف پناہ لو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!تحقیق میرے اوپر جنت پیش کی گئی (اور اتنی قریب کی گئی کہ) اگر میں چاہتا تو اس کی ٹہنی کو پکڑ لیتا اورمجھ پر آگ کو بھی پیش کیا گیا (اور اتنا قریب کیا گیا کہ) اس ڈر سے میں اس کو بجھا رہا تھا کہ وہ کہیں تم کو اپنی لپیٹ میں نہ لے لے۔میں نے اس میں حمیر قبیلے کی ایک سیاہ رنگ کی طویل عورت دیکھی،اس کوایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا جا رہا تھا، اس نے اس کو باندھ دیا تھا، نہ اس کو خود کھلاتی پلاتی تھی اور نہ اس کو چھوڑتی تھی کہ وہ زمین کے حشرات وغیرہ کھا سکے، (عذاب کی کیفیت یہ تھی کہ) وہ جب آگے کی طرف آتی تو وہ بلی اس کو (سامنے سے) نوچتی اور جب وہ واپس جاتی تو وہ اس کو (پیچھے سے) نوچتی، میں نے آگ میں بنو دعدع کے ایک فرد کو بھی دیکھا اور اس میں لاٹھی والے کو بھی دیکھا، وہ آگ میں اپنی لاٹھی پر ٹیک لگائے ہوئے تھا، (اس کا جرم یہ تھا کہ) وہ اپنی لاٹھی کے ساتھ حاجیوں کی چوری کیا کرتا تھا، پس جب لوگوں کو اس کا پتہ لگ جاتا تو وہ کہتا: میں چوری تو نہیں کر رہا، ویسے یہ چیز لاٹھی کے ساتھ لٹک گئی ہے۔

2897

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2897

Sahih

۔ (۲۸۹۷)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ) وَعُرِضَتْ عَلَیَّ النَّارُ فَجَعَلْتُ أَنْفُخُ خَشْیَۃَ أَنْ یَغْشَاکُمْ حَرُّھَا، وَرَأَیْتُ فِیْہَا سَارِقَ بَدَنَتَیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ۔ (مسند احمد: ۶۷۶۳)

اردو ترجمہ · Urdu

(دوسری سند) اس میں ہے : اور مجھ پر آگ کو پیش کیا گیا ، میں اس پر اس ڈر سے پھونک مار رہا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کی گرمی تم کو ڈھانپ لے اور میں نے اس میں اللہ کے رسول کے دو اونٹ چوری کرنے والا شخص بھی دیکھا ۔‘‘

2898

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2898

Zaeef

۔ (۲۸۹۸) عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی فِی کُسُوْفِ الشَّمْسِ نَحْوًا مِنْ صَلَاتِکُمْ یَرْکَعُ وَیَسْجُدُ۔ (مسند احمد: ۱۸۵۸۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سورج گرہن کے موقع پر تمہاری نماز کی طرح کی نماز پڑھی کہ اس میں رکوع اور سجدہ بھی کیا۔

2899

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2899

Zaeef

۔ (۲۸۹۹)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ انْکَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَصَلّٰی وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَرْکَعُ وَیَسْجُدُ قَالَ حَجَّاجٌ مِثْلَ صَلَاتِنَا ۔ (مسند احمد: ۱۸۶۳۴)

اردو ترجمہ · Urdu

(دوسری سند)وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں سورج بے نور ہوگیا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز پڑھائی اور اس میں رکوع و سجود کیے، حجاج نے کہا: وہ ہماری نمازکی طرح ہی تھی۔

2900

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2900

Zaeef

۔ (۲۹۰۰) عَنْ ثَعْلَبَۃَ بْنِ عَبَّادٍ الْعَبْدِیِّ مِنْ أَھْلِ الْبَصْرَۃِ قَالَ: شَہِدْتُ یَوْمًا خُطْبَۃً لِسَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَذَکَرَ فِی خُطْبَتِہِ حَدِیْثًا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: بَیْنَا أَنَا وَغُلَامٌ مِنَ الْأَنْصَارِ نَرْمِیْ فِی غَرَضَیْنِ لَنَا عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی اِذَا کَانَتِ الشَّمْسُ قِیْدَ رُمْحَیْنِ أَوْ ثَـلَاثَۃٍ فِی عَیْنِ النَّاظِرِ اِسْوَدَّتْ حَتّٰی آضَتْ کَأَنَّہَا تَنُّوْمَۃٌ، قَالَ: فَقَالَ أَحَدُنَا لِصَاحِبِہِ: اِنْطَلِقْ بِنَا اِلَی الْمَسْجِدِ فَوَاللّٰہِ! لَیُحْدِثَنَّ شَأْنُ ھٰذِہِ الشَّمْسِ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی أُمَّتِہِ حَدَثًا، قَالَ: فَدَفَعْنَا اِلَی الْمَسْجِدِ فَاِذَا ھُوَ بَارِزٌ قَالَ: وَوَافَقْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ خَرَجَ اِلَی النَّاسِ فَاسْتَقْدَمَ فَقَامَ بِنَا کَأَطْوَلِ مَا قَامَ بِنَا فِی صَلَاۃٍ قَطُّ لَانَسْمَعُ لَہُ صَوْتًا ثُمَّ رَکَعَ کَا طْوَلِ مَا رَکَعَ بِنَا فِی صَلَاۃٍ قَطُّ لَا نَسْمَعُ لَہُ صَوْتًا، ثُمَّ فَعَلَ فِی الرَّکْعَۃِ الثَّانِیَۃِ مِثْلَ ذٰلِکَ فَوَافَقَ تَجَلِّی الشَّمْسِ جُلُوْسَہُ فِی الرَّکْعَۃِ الثَّانِیَۃِ، قَالَ زُھَیْرٌ (أَحد الرواۃ): حَسِبْتُہُ، قَالَ: فَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ وَشَہِدَ أَنَّہُ عَبْدُاللّٰہِ وَرَسُوْلُہُ، ثُمَّ قَالَ: ((أَیُّہَا النَّاسُ! أَنْشُدُکُمْ بِاللّٰہِ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ أَنِّی قَصَّرْتُ عَنْ شَیْئٍ مِنْ تَبْلِیْغِ رِسَالَاتِ رَبِّی عَزَّوَجَلَّ لَمَا أَخْبَرْتُمُوْنِی ذَاکَ، فَبَلَّغْتُ رِسَالَاتِ رَبِّی کَمَا یَنْبَغِی لَھَا أَنْ تُبَلَّغَ، وَاِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ أَنِّی بَلَّغْتُ رِسَالَاتِ رَبِّی لَمَا أَخْبَرْتُمُوْنِی ذَاکَ۔)) قَالَ: فَقَامَ رِجَالٌ فَقَالُوا: نَشْھَدُ أَنَّکَ قَدْ بَلَّغْتَ رِسَالَاتِ رَبِّکَ وَنَصَحْتَ لِأُمَّتِکَ وَقَضَیْتَ الَّذِی عَلَیْکَ ثُمَّ سَکَتُوْا۔ ثُمَّ قَالَ: ((أَمَّا بَعْدُ! فَاِنَّ رِجَالًا یَزْعُمُوْنَ أَنَّ کُسُوْفَ ھٰذِہِ الشَّمْسِ وَکُسُوْفَ ھٰذَا الْقَمَرِ وَزَوَالَ ھٰذِہِ النُّجُوْمِ عَنْ مَطَالِعِہَا لِمَوْتِ رِجَالٍ عُظَمَائَ مِنْ أَھْلِ الْأَرْضِ وَاِنَّہُمْ قَدْ کَذَبُوا، وَلٰکِنَّہَا آیَاتٌ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالیٰ یَعْتَبِرُ بِھَا عِبَادُہُ فَیَنْظُرُ مَنْ یُحْدِثُ لَہُ مِنْہُمْ تَوْبَۃً، وَاَیْمُ اللّٰہِ! لَقَدْ رَأَیْتُ مُنْذُ قُمْتُ أُصَلِّیْ مَا أَنْتُمْ لَاقُوْنَ فِی أَمْرِ دُنْیَاکُمْ وَآخِرَتِکُمْ وَاِنَّہُ وَاللّٰہِ! لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی یَخْرُجَ ثَـلَاثُوْنَ کَذَّابًا، آخِرُھُمْ الْأَعْوَرُ الدَّجَّالُ مَمْسُوْحُ الْعَیْنِ الْیُسْرٰی کَأَنَّہَا عَیْنُ أَبِی یَحْیٰی لِشَیْخٍ حِیْنَئِذٍ مِنَ الْأَنْصَارِ بَیْنَہُ وَبَیْنَ حُجْرَۃِ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، وَاِنَّہُ مَتٰی یَخْرُجُ أَوْ قَالَ مَتٰی مَا یَخْرُجُ فَاِنَّہُ سَوْفَ یَزْعُمُ أَنَّہُ اللّٰہُ، فَمَنْ آمَنَ بِہِ وَصَدَّقَہُ وَاتَّبَعَہُ لَمْ یَنْفَعْہُ صَالِحٌ مِنْ عَمَلِہِ سَبَقَ، وَمَنْ کَفَرَ بِہِ وَکَذَّبَہُ لَمْ یُعَاقَبْ بِشَیْئٍ مِنْ عَمَلِہِ (وَفِی رِوَایَۃٍ: بِشَیْئٍ مِنْ عَمَلِہِ سَلَفَ) وَاِنَّہُ سَیَظْہَرُ أَوْ قَالَ سَوْفَ یَظْہَرُ عَلَی الْأَرْضِ کُلِّہَا اِلَّا الْحَرَمَ وَبَیْتَ الْمَقْدِسِ وَاِنَّہُ یَحْصُرُ الْمُؤْمِنِیْنَ فِی بَیْتِ الْمَقْدِسِ فَیُزَلْزَلُوْنَ زِلْزَالاً شَدِیْدًا ثُمَّ یُہْلِکُہُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی وَجُنُوْدَہُ حَتّٰی اِنَّ جِذْمَ الْحَائِطِ أَوْ قَالَ أَصْلَ الْحَائِطِ، وَقَالَ حَسَنُ الْأَشْیَبُ وَأَصْلَ الشَّجَرَۃِ لَیُنَادِیْ أَوْ قَالَ یَقُوْلُ: یَامُؤْمِنُ! أَوْ قَالَ یَا مُسْلِمُ! ھٰذَا یَھُوْدِیٌّ أَوْ قَالَ ھٰذَا کَافِرٌ تَعَالَ فَاقْتُلْہُ قَالَ وَلَنْ یَکُوْنَ ذٰلِکَ کَذٰلِکَ حَتّٰی تَرَوْا أُمُوْرًا یَتَفَاقَمُ شَأْنُہَا فِی أَنْفُسِکُمْ وَتَسَائَلُوْنَ بَیْنَکُمْ ھَلْ کَانَ نَبِیُّکُمْ ذَکَرَ لَکُمْ مِنْہَا ذِکْرًا، وَحَتّٰی تَزُوْلَ جِبَالٌ عَنْ مَرَاتِبِہَا ثُمَّ عَلٰی أَثَرِ ذٰلِکَ الْقَبْضُ ثُمَّ شَہِدْتُ خُطْبَۃً لِسَمُرَۃَ ذَکَرَ فِیْھَا ھٰذَا الْحَدِیْثَ، فَمَا قَدَّمَ کَلِمَۃً وَلَا أَخَّرَھَا عَنْ مَوْضِعِھَا۔ (مسند احمد: ۲۰۴۴۰)

اردو ترجمہ · Urdu

ثعلبہ بن عباد عبدی، جو اہل بصرہ میں سے تھے، کہتے ہیں: میں ایک دن سیّدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے خطبے میں حاضر تھا، انہوں نے اس خطبے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک حدیث بیان کرتے ہوئے کہا: میں اور ایک انصاری لڑکا عہد ِ نبوی میں دو نشانوں کے درمیان تیر پھینک رہے تھے، جب سورج دیکھنے والے کی نظر میں دو تین نیزے بلند ہوا تو وہ کالا ہونا شروع ہو گیا اور (سیاہ رنگ کا پھل) تنومہ کی طرح ہو گیا، ہم میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: مسجد کی طرف چلیے، اللہ کی قسم! سورج کی یہ کیفیت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے اس امت میں کوئی نیا حکم پیدا کرے گی، پس ہم مسجد کی طرف بھاگے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واقعی باہر آئے ہوئے تھے، پھر جب آپ لوگوں کے پاس آئے تو آگے بڑھے اور (نماز شروع کر دی) اور اتنا لمبا قیام کروایاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کسی نماز میں کبھی بھی ایسی طوالت اختیار نہیں کی تھی، ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آواز نہیں سن رہے تھے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انتہائی لمبا رکوع کیا کہ کبھی بھی ہمیں ایسا رکوع نہیں کروایا تھا، ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آواز نہیں سن رہے تھے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوسری رکعت میں بھی ایسے ہی کیا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دوسری رکعت کے بعد بیٹھے تو سورج بھی صاف ہو گیا تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سلام پھیرا اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور یہ شہادت دی کہ آپ خود اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے لوگو! میں تم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ اگر تم جانتے ہو کہ میں نے رب تعالیٰ کے پیغامات کو پہنچانے میں کوئی کمی کی ہے تو تم مجھ کو اس کی خبر دو گے، (میں خود تو یہ کہتا ہوں کہ) میں نے اپنے رب کے پیغامات کے اس طرح پہنچا دئیے، جس طرح پہنچانے کا حق تھا، بہرحال اگر تم جانتے ہو کہ میں نے اللہ تعالیٰ کے پیغامات پہنچا دیئے ہیں تو تم مجھے اس کی خبر دو۔ کچھ لوگ کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ بے شک آپ نے اپنے رب کے پیغامات پہنچا دئیے ہیں اور آپ نے اپنی امت کی خیر خواہی کردی ہے اور جو حق آپ پر تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے ادا کر دیا ہے، پھر وہ خاموش ہوگئے۔ اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:حمد و ثناء کے بعد، بعض لوگوں کا خیال ہے کہ سورج اور چاند کا بے نور ہو جانا اور ستاروں کا اپنے مقام سے ہٹ جانا اہل زمین میں سے کسی بڑے آدمی کی موت کی وجہ سے ہوتا ہے، یہ لوگ جھوٹے ہیں،یہ تو اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں،وہ ان کے ذریعے اپنے بندوں کا امتحان لیتاہے اور پھر وہ دیکھتاہے کہ ان میں سے کون اس موقع پر توبہ کرتا ہے۔ اللہ کی قسم! جب میں اس نماز میں کھڑا ہوا تو میں نے وہ سارا کچھ دیکھ لیا جس کو تم دنیا و آخرت میں ملنے والے ہو۔اللہ کی قسم! اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہوگی ، جب تک تیس کذاب نہ نکل آئیں، ان میں سے آخری دجال ہوگا، جو کانا ہو گا اور جس کی بائیں آنکھ مٹی ہوئی ہوگی، گویا کہ وہ ابویحیی کی آنکھ ہے۔ یہ ایک انصاری شیخ تھا جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اور سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے حجرے کے درمیان بیٹھا ہوا تھا۔ جب وہ دجال نکلے گا تو وہ یہ دعوی کرے گا کہ وہی اللہ ہے، پس جو شخص اس کے ساتھ ایمان لائے گا،اس کی تصدیق کرے گا اور اس کی پیروی کرے گا تو سابقہ نیک اعمال بھی اسے کوئی فائدہ نہیں دیں گے، (یعنی اس کے اعمال صالحہ ضائع ہو جائیں گے)۔اور جس نے اس کے ساتھ کفر کیا اور اس کی تکذیب کردی تواس کا اس کے سابقہ (برے) اعمال کی وجہ مؤاخذہ نہیں ہو گا، (یعنی اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیئے جائیں گے)۔ بے شک وہ دجال ساری زمین پر غالب آجائے گا، ما سوائے حرم اور بیت المقدس کے، وہ مومنوں کو بیت المقدس میں محصور کردے گا اور ان کو انتہائی سختی سے ہلا دیا جائے گا، (یعنی وہ اِس کی وجہ سے سخت گھبراہٹ، تنگی اور پریشانی میں ہوں گے)۔ پھر اللہ اس کو اور اس کے لشکروں کو ہلاک کردے گا، حتیٰ کہ دیوار کی بنیاد یا درخت کا بنیادی تنا پکار پکار کر کہے گا: او مومن! او مسلمان! یہ یہودی (چھپا ہوا) ہے، یہ کافر ہے، ادھر آ اور اس کو قتل کر دے۔ لیکن یاد رکھو کہ دجال والا یہ معاملہ اس وقت تک نہیں ہو گا، جب تلک تم بڑے بڑے امور نہ دیکھ لو گے اور جن کے وقوع پذیر ہونے کے بعد تم آپس میں سوال کرو گے کہ کیا تمہارے نبی نے ان کا کوئی ذکر کیا تھا، بطور مثال پہاڑ اپنی جگہوں سے سرک جائیں گے، پھر اس کے بعد قیامت بپا ہوجائے گی۔

2901

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2901

Sahih

۔ (۲۹۰۱) عَنْ أَبِی بَکْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَامَ یَجُرُّ ثَوْبَہُ مُسْتَعْجِلًا حَتّٰی أَتٰی الْمَسْجِدَ وَثَابَ النَّاسُ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ فَجُلِّیَ عَنْھَا ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَیْنَا فَقَالَ: ((اِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالیٰ یُخَوِّفُ بِہِمَا عِبَادَہُ وَلَا یَنْکَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ۔)) قَالَ وَکَانَ ابْنُہُ اِبْرَاھِیْمُ عَلَیْہِ السَّلَامُ مَاتَ، ((فَاِذَا رَأَیْتُمْ مِنْہُمَا شَیْئًا فَصَلُّوا وَادْعُوْا حَتَّی یَنْکَشِفَ مِنْہُمَا مَا بِکُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۶۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابوبکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگ گیا، آپ کھڑے ہوئے اور کپڑا گھسیٹتے ہوئے جلدی جلدی مسجد پہنچے اور لوگ بھی لگاتار جمع ہونا شروع ہو گئے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو رکعت نماز پڑھائی اور سورج کا گرہن ختم ہوگیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: بے شک سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں،وہ ان کے ذریعے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے، یہ کسی کی موت کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے۔ اس دن دراصل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا بیٹا(ابراہیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ) فوت ہوا تھا۔ پس جب تم ان میں سے اس قسم کی چیز دیکھو تو نماز پڑھو اور دعا کرو، حتیٰ کہ وہ چیز ختم ہو جائے، جس میں تم مبتلا ہو۔

2902

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2902

Zaeef

۔ (۲۹۰۲) عَنْ قَبِیْصَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اِنْکَسَفَتِ الشَّمْسُ فَخَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ فَأَطَالَ فِیْہِمَا الْقِرَائَ ۃَ، فَانْجَلَتْ، فَقَالَ: ((اِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی یُخَوِّفُ بِہِمَا عِبَادَہُ، فَاِذَا رَأَیْتُمْ ذٰلِکَ فَصَلُّوا کَأَحدَثِ صَلَاۃٍ صَلَّیْتُمُوْھَا مِنَ الْمَکْتُوْبَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۸۸۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا قبیصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: سورج کو گرہن لگ گیا، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باہر تشریف لائے اور دو رکعت نماز پڑھائی اور ان میں قراءت کو لمبا کیا، اتنے میں سورج صاف ہوگیا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، وہ ان کے ذریعے اپنے بندوں کو ڈراتاہے، پس جب تم اس چیز کو دیکھو تو جو تم نے تازہ تازہ فرض نماز پڑھی ہے، اس کی طرح کی نماز پڑھو۔