Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 53 · Chapter 497

نمازِکسوف کے ابواب

کسوف کے لیے نماز کی مشروعیت اور اس کے لیے بلانے کی کیفیت کا بیان

7 hadiths in this chapter

2885

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2885

Sahih

۔ (۲۸۸۵) عَنْ زِیَادِ بْنِ عِلَاقَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ الْمُغِیْرَۃَ بْنِ شُعْبَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَقُوْلُ: اِنْکَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ مَاتَ اِبْرَاھِیْمَ فَقَالَ النَّاسُ: اِنْکَسَفَتْ لِمَوْتِ اِبْرَاھِیْمَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ لَا یَنْکَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَیَاتِہِ فَاِذَا رَأَیْتُمُوْہُ فَادْعُوا اللّٰہَ وَصَلُّوا حَتّٰی تَنْکَشِفَ۔)) (مسند احمد: ۱۸۳۶۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ عہد نبوی میں جس دن (آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بیٹے) ابراہیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ فوت ہوئے سورج کو گرہن لگ گیا، لوگوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ ابراہیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وفات کی وجہ سے گرہن لگا ہے۔ لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، یہ کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے، جب تم یہ چیز دیکھو تو دعا کیا کرو اور نماز پڑھا کرو، حتیٰ کہ وہ صاف ہوجائے۔

2886

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2886

Zaeef

۔ (۲۸۸۶) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ اِذَا خَسَفَا أَوْ أَحَدُھُمَا، فَاِذَا رَأَیْتُمْ ذٰلِکَ فَصَلُّوا حَتّٰی یَنْجَلِیَ خُسُوْفُ أَیِّہِمَا خَسَفَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۸۲۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدناجابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب سورج اور چاند یا ان میں سے ایک بے نور ہو جائے اور تم اس چیز کو دیکھ لو تو نماز پڑھا کرو، حتی کہ گرہن ختم ہو جائے، وہ جس کو بھی لگا ہوا ہو۔

2887

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2887

Sahih

۔ (۲۸۸۷) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا یَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَیَاتِہِ وَلٰکِنَّھُمَا آیَۃٌ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی،فَاِذَا رَأَیْتُمُوْھُمَا فَصَلُّوا)) (مسند احمد: ۵۸۸۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک سورج اور چاند کسی کی زندگی اور موت کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے، بلکہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے نشانی ہیں، اس لیے جب تم ان دونوں کو (گرہن زدہ) دیکھو تو نماز پڑھا کرو۔

2888

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2888

Sahih

۔ (۲۸۸۸) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ (بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) قَالَ: کُنَّا نَرَی الْآیَاتِ فِی زَمَانِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَرَکَاتٍ وَأَنْتُمْ تَرَوْنَھَا تَخْوِیْفًا۔ (مسند احمد: ۳۷۶۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں بعض نشانیوں کو برکت کے طور پر دیکھتے تھے اور تم ان کو بطور تخویف یعنی ڈرکے طور پر دیکھتے ہو۔ سیّدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں بعض نشانیوں کو برکت کے طور پر دیکھتے تھے اور تم ان کو بطور تخویف یعنی ڈرکے طور پر دیکھتے ہو۔

2889

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2889

Sahih

۔ (۲۸۸۹) عَنْ أَبِی مَسْعُوْدٍ الْبَدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا یَنْکَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ، قَالَ یَزِیْدُ (أَحد الرواۃ) وَلَا لِحِیَاتِہِ وَلَکِنَّہُمَا آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ تَعَالیٰ، فَاِذَا رَأَیْتُمُوْھُمَا فَصَلُّوا۔)) (مسند احمد: ۱۷۲۳۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابومسعود بدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک سورج اور چاند کسی کی موت اور زندگی کے موقع پر بے نور نہیں ہوتے، یہ تو اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، لہٰذا جب تم ان کو اس حالت میں دیکھو تو نماز پڑھا کرو۔

2890

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2890

Sahih

۔ (۲۸۹۰) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّہُ قَالَ: کَسَفَتِ الشَّمْسَ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنُوْدِیَ بِالصَّلَاۃَ جَامِعَۃً فَرَکَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَکْعَتَیْنِ فِی سَجْدَۃٍ ثُمَّ قَامَ فَرَکَعَ رَکْعَتَیْنِ فِی سَجْدَۃٍ ثُمَّ جُلِّیَ عَنِ الشَّمْسِ۔ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَۃُ: مَا سَجَدْتُّ سُجُوْدًا قَطُّ وَلَا رَکَعْتُ رُکُوْعًا قَطُّ أَطْوَلَ مِنْہُ۔ (مسند احمد: ۶۶۳۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگ گیا، اس لیے الصلاۃ جامعۃ کی آواز دی گئی۔ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک رکعت میں دو رکوع کئے، پھر کھڑے ہوئے اور پھر ایک رکعت میں دو رکوع کیے، پھر سورج صاف ہوگیا۔ سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: میں نے کبھی بھی ایسا سجدہ نہیں کیا اور نہ ایسا رکوع کیا جو اس سے زیادہ لمبا ہو۔

2891

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2891

Sahih

۔ (۲۸۹۱) عَنْ أَبِی حَفْصَۃَ مَوْلٰی عَائِشَۃَ أَنَّ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَخْبَرَتْہُ أَنَّہُ لَمَّا کَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَوَضَّأَ وَأَمَرَ فَنُوْدِیَ أَنِ الصَّلَاۃَ جَامِعَۃً فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِیَامَ فِی صَلَاتِہِ، قَالَتْ فَأَحْسِبُہُ قَرَأَ سُوْرَۃَ الْبَقَرَۃِ ثُمَّ رَکَعَ فَأَطَالَ الرُّکُوْعَ ثُمَّ قَالَ: ((سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ)) ثُمَّ قَامَ مِثْلَ مَا قَامَ وَلَمْ یَسْجُدُ ثُمَّ رَکَعَ فَسَجَدَ ثُمَّ قَامَ فَصَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعَ ثُمَّ رَکَعَ رَکْعَتَیْنِ فِی سَجْدَۃٍ ثُمَّ جَلَسَ وَجُلِّیَ عَنِ الشَّمْسِ۔ (مسند احمد: ۲۵۱۷۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: عہد نبوی میں سورج کو گرہن لگا، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وضو کیا اور حکم دیا، پس الصلاۃ جامعۃ کی آواز دی گئی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (نے نماز شروع کر دی اور) لمبا قیام کیا، میرا خیال ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سورۂ بقرہ کی تلاوت کی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکوع کیا اور طویل رکوع کیا، پھر سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہا اور پھر گزشتہ قیام کی طرح قیام کیا اور سجدہ نہ کیا، اس کے بعد دوبارہ رکوع کیا اور پھر سجدہ کیا، پھر (دوسری رکعت کے لیے) کھڑے ہوئے اور اسی طرح کیا، جس طرح پہلی رکعت میں کیا تھا، یعنی ایک رکعت میں دو رکوع کیے، پر (تشہد کے لیے) بیٹھ گئے اور اتنے میں سورج صاف ہو گیا۔