Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 5 · Chapter 53

کتاب و سنت کو تھامنے کے ابواب

نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے بعد کسی چیز میں تبدیلی کر دینے والے یا کسی چیز کو ایجاد کرنے والے کی وعید کا بیان

5 hadiths in this chapter

340

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #340

Sahih

۔ (۳۴۰)۔عَنْ أَبِیْ بَکْرَۃَؓ اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَیَرِدَنَّ عَلَیَّ الْحَوْضَ رِجَالٌ مِمَّنْ صَحِبَنِیْ وَرَآنِیْ حَتَّی اِذَا رُفِعُوْا اِلَیَّ وَرَأَیْتُہُمْ اُخْتُلِجُوْا دُوْنِیْ فَلَأَقُوْلَنَّ: رَبِّ أَصْحَابِیْ! فَیُقَالُ: اِنَّکَ لَا تَدْرِیْ مَا أَحْدَثُوْا بَعْدَکَ)) (مسند أحمد: ۲۰۷۶۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو بکرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میری صحبت اختیار کرنے والوں اور مجھے دیکھنے والوں میں سے بعض لوگ حوض پر میرے پاس آئیں گے، لیکن جب ان کو میری طرف لایا جائے گا تو ان کو مجھ سے پرے ہی کھینچ لیا جائے گا، پس میں کہوں گا: اے میرے ربّ! میرے ساتھی، پس مجھ سے کہا جائے گا: آپ نہیں جانتے کہ انھوں نے آپ کے بعد کون کون سی چیزیں ایجاد کر لی تھیں۔

341

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #341

Sahih

۔ (۳۴۱)۔ عَنْ یَعْقُوْبَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَنْ أَبِیْ حَازِمٍ قَالَ: سَمِعْتُ سَہْلًا (یَعْنِی ابْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِیَّؓ) یَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((أَنَا فَرَطُکُمْ عَلَی الْحَوْضِ، مَنْ وَرَدَ شَرِبَ وَمَنْ شَرِبَ لَمْ یَظْمَأْ بَعْدَہُ أَبَدًا، وَلَیَرِدَنَّ عَلَیَّ أَقْوَامٌ أَعْرِفُہُمْ وَیَعْرِفُوْنَنِیْ ثُمَّ یُحَالُ بَیْنِیْ وَبَیْنَہُمْ،(قَالَ أبُوْحَازِمٍ: فَسَمِعَ النُّعْمَانُ بْنُ أَبِیْ عَیَّاشٍ وَأَنَا أُحَدِّثُہُمْ ھٰذَا الْحَدِیْثَ فَقَالَ: ہٰکَذَا سَمِعْتَ سَہْلًا یَقُوْلُ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: وَأَنَا أَشْہَدُ عَلَی أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ لَسَمِعْتُہُ یَزِیْدُ فَیَقُوْلُ: ((اِنَّہُمْ مِنِّیْ۔ فَیُقَالُ: اِنَّکَ لَا تَدْرِیْ مَا عَمِلُوْا بَعْدَکَ، فَأَقُوْلُ: سُحْقًا سُحْقًا لِمَنْ بَدَّلَ بَعْدِیْ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۲۱۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا سہل بن سعد ساعدی ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: میں حوض پر تم لوگوں کا پیش رو ہوں گا، جو وہاں آئے گا، وہ پی لے گا اور جو وہاں سے پی لے گا، وہ اس کے بعد کبھی بھی پیاسا نہیں ہو گا، اور حوض پر میرے پاس ایسے لوگ بھی آئیں گے کہ میں ان کو پہنچانتا ہوں گا اور وہ مجھے پہچانتے ہوں گے، لیکن پھر میرے اور ان کے درمیان رکاوٹ ڈال دی جائے گی۔ ابو حازم نے کہا: پس نعمان بن ابو عیاش نے سنا، جبکہ میں ان کو یہ حدیث بیان کر رہا تھا، پس اس نے کہا: کیاتم نے سیدنا سہل ؓ کو اسی طرح کہتے ہوئے سنا؟ میں نے کہا: جی ہاں اس نے کہا! اور میں سیدنا ابو سعید خدری ؓپر گواہی دیتا ہوں کہ میں نے ان کو یہ الفاظ زیادہ کرتے ہوئے سنا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میں کہوں گا: یہ لوگ تو مجھ سے ہیں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے کہا جائے گا: آپ نہیں جانتے کہ انھوں نے آپ کے بعد کیا کیا عمل کیے تھے، پس میں کہوں گا: بربادی ہو،بربادی ہو، اس شخص کے لیے جس نے میرے بعد (دین کو) تبدیل کر دیا۔

342

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #342

Sahih

۔ (۳۴۲)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند أحمد: ۲۳۶۷۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا حذیفہ بن یمان ؓ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اس طرح کی حدیث بیان کی ہے۔

343

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #343

Sahih

۔ (۳۴۳)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ ؓ نے بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اس طرح کی حدیث بیان کی ہے۔

344

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #344

Sahih

۔ (۳۴۴)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ رَافِعٍٍ الْمَخْزُوْمِیِّ قَالَ: کَانَتْ أُمُّ سَلَمَۃَؓ تُحَدِّثُ، أَنَّہَا سَمِعَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ عَلَی الْمِنْبَرِ وَہِیَ تَمْتَشِطُ: ((أَیُّہَا النَّاسُ!۔)) فَقَالَتْ لِمَاشِطَتِہَا: لُفِّیْ رَأْسِیْ، قَالَتْ: فَقَالَتْ: فَدَیْتُکِ، اِنَّمَا یَقُوْلُ: أَیُّہَا النَّاسُ! قُلْتُ: وَیْحَکِ، أَوَ لَسْنَا مِنَ النَّاسِ؟ فَلَفَّتْ رَأْسَہَا وَقَامَتْ فِیْ حُجْرَتِہَا فَسَمِعَتْہُ یَقُوْلُ: ((أَیُّہَا النَّاسُ! بَیْنَمَا أَنَا عَلَی الْحَوْضِ جِیْئَ بِکُمْ زُمَرًا فَتَفَرَّقَتْ بِکُمُ الطُّرُقَ، فَنَادَیْتُکُمْ، أَلَا! ہَلُمُّوْا اِلَی الطَّرِیْقِ، فَنَادٰنِیْ مُنَادٍ مِنْ بَعْدِیْ فَقَالَ: اِنَّہُمْ قَدْ بَدَّلُوْا بَعْدَکَ، فَقُلْتُ: أَ لَا! سُحْقًا، أَ لَا! سُحْقًا۔)) (مسند أحمد: ۲۷۰۸۱)

اردو ترجمہ · Urdu

عبد اللہ بن رافع مخزومی کہتے ہیں: سیدہ ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو سنا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے منبر پر جلوہ افروز ہو کر فرمایا: اے لوگو! جب کہ میں کنگھی کر رہی تھی، میں نے کنگھی کرنے والی خاتون سے کہا: میرا سر ڈھانپ دے، اس نے کہا: میں تجھ پر قربان جاؤں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تو فرما رہے ہیں: اے لوگو! میں نے کہا: تیرا ناس ہو، کیا ہم لوگ نہیں ہیں، پس اس نے اس کا سر ڈھانپ دیا اور وہ اپنے حجرے میں کھڑی ہو گئی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: لوگو! میں حوض پر ہوں گا، تم لوگوں کو گروہوں کی شکل میں لایا جائے گا، پس تمہارے راستے جدا جدا ہو جائیں، (کوئی حوض کے راستے پر چل پڑے گا اور کوئی کسی اور راستے پر) اس لیے میں آ واز دوں گا: خبردار! اس راستے کی طرف آؤ، لیکن میرے پیچھے سے ایک آواز دینے والا مجھے آواز دے گا: بیشک ان لوگوں نے آپ کے بعد دین کو بدل دیا تھا، پس میں کہوں گا: خبردار! بربادی ہو، خبردار! بربادی ہو۔