Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 45 · Chapter 426

نماز با جماعت کے بارے میں ابواب

جماعت کے بارے میں تاکید اور اس پر آمادہ کرنے کابیان

10 hadiths in this chapter

2463

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2463

Sahih

۔ (۲۴۶۳) عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الشَّیْطَانَ ذِئْبُ الْاِنْسَانِ کَذِئْبِ الْغَنَمِ یَأْخُذُ الشَّاۃَ الْقَاصِیَۃَ وَالنَّاحِیَۃَ فَاِیَّاکُمْ وَالشِّعَابَ وَعَلَیْکُمْ بِالْجَمَاعَۃِ وَالْعَامَّۃِ وَالْمَسْجِدِ)) (مسند احمد: ۲۲۳۷۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مرو ی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک شیطان انسان کے لیے اسی طرح کا بھیڑیا ہے، جیسے بکریوں کا بھیڑیا ہوتا ہے، جو دور جانے والی اور علیحدہ رہنے والی بکری کو پکڑ لیتا ہے، پس تم گھاٹیوں سے بچو اور جماعت، عام مسلمانوں اور مسجد کو لازم پکڑو ۔

2464

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2464

Sahih

۔ (۲۴۶۴) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیَنْتَہِیَنَّ رِجَالٌ مِمَّنْ حَوْلَ الْمَسْجِدِ لَا یَشْہُدُوْنَ الْعِشَائَ الْآخِرَۃِ فِی الْجَمِیْعِ أَوْ لَأُحَرِّقَنَّ حَوْلَ بُیُوْتِہِمْ بِحُزَمِ الْحَطَبِ۔)) (مسند احمد: ۷۹۰۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسجد کے ارد گرد والے لوگ ضرور ضرور اس چیز سے باز آ جائیں کہ نمازِ عشاء کی جماعت میں حاضر نہ ہوں، وگرنہ میں ان کے گھروں کو جلانے کی لکڑیوں کی گٹھڑیوں کے ساتھ ضرور ضرور جلا دوں گا۔

2465

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2465

Sahih

۔ (۲۴۶۵) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْلَا مَا فِی الْبُیُوْتِ مِنَ النِّسَائِ وَالذُّرِّیَّۃِ لَأَقَمْتُ صَلَاۃَ الْعِشَائِ وَأَمَرْتُ فِتْیَانِیْ یُحَرِّقُوْنَ مَا فِی الْبُیَوْتِ بِالنَّارِ۔)) (مسند احمد: ۸۷۸۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر گھروں میں عورتیں اور بچے نہ ہوتے تو میں نمازِ عشاء کھڑی کرتا اور اپنے نوجوانوں کو حکم دیتا کہ وہ گھروں میں جو کچھ ہے، اسے جلا دیں ۔

2466

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2466

Sahih

۔ (۲۴۶۶) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَثْقَلُ الصَّلَاۃِ عَلَی الْمُنَافِقِیْنَ صَلَاۃُ الْعِشَائِ وَصَلَاۃُ الْفَجْرِ، وَلَوْ یَعْلَمُوْنَ مَا فِیْہِمَا لَأَتَوْھُمَا وَلَوْ حَبْوًا وَلَقَدْ ھَمَمْتُ أَنْ آمُرَ الْمُؤَذِّنَ فَیُؤَذِّنَ ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا یُصَلِّی بِالنَّاسِ ثُمَّ أَنْطَلِقَ مَعِی بِرِجَالٍ مَعَہُمْ حُزَمُ الْحَطَبِ اِلَی قَوْمٍ یَتَخَلَّفُوْنَ عَنِ الصَّلَاۃِ فَأُحَرِّقَ عَلَیْہِمْ بُیُوْتَھُمْ بِالنَّارِ۔)) (مسند احمد: ۹۴۸۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عشاء اور فجر کی نمازیں منافقوں پر سب سے بھاری ہیں اور اگر یہ لوگ جان لیں کہ ان میں کتنا اجر و ثواب ہے تو یہ ضرور آئیں، اگرچہ ان کو سرینوں کے بل گھسٹ کر آنا پڑے۔ میں نے ارادہ کیا ہے کہ مؤذن کو حکم دوں کہ وہ اذان کہے، پھر کسی آدمی کا حکم دوں کہ لوگوں کو نماز پڑھائے اور میں خود نماز سے پیچھے رہ جانے والے لوگوں کی طرف ایسے افرادکو لے کر چلوں، جنھوں نے جلنے والی لکڑیوں کی گٹھڑیاں اٹھا رکھی ہوں، اور پھر ان کے گھروں کو آگ سے جلا دوں۔

2467

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2467

Sahih

۔ (۲۴۶۷) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْھَادِ عَنِ ابْنِ أُمِّ مَکْتُوْمٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَتَی الْمَسْجِدَ فَرَأَی فِی الْقَوْمِ رِقَّۃً، فَقَالَ: ((اِنِّی لَأَھُمَّ أَنْ أَجْعَلَ لِلنَّاسِ اِمَامًا ثُمَّ أَخْرُجَ فَـلَا أَقْدِرُ عَلٰی اِنْسَانٍ یَتَخَلَّفُ عَنِ الصَّلَاۃِ فِی بَیْتِہِ اِلَّا أَحْرَقْتُہُ عَلَیْہِ۔)) فَقَالَ ابْنُ أُمَّ مَکْتُوْمٍ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ بَیْنِی وَبَیْنَ الْمَسْجِدِ نَخْلًا وَشَجَرًا وَلَا أَقْدِرُ عَلٰی قَائِدٍ کُلَّ سَاعَۃٍ، أَیَسَعُنِی أَنْ أُصَلِّیَ فِی بَیْتِی؟ قَالَ: ((أَتَسْمَعُ الْاِقَامَۃَ؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَأْتِہَا۔)) (مسند احمد: ۱۵۵۷۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدناعبد اللہ بن ام مکتوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں آئے اور دیکھا کہ نماز یوں میں قلت ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک میرا ارادہ یہ ہے کہ میں لوگوں کے لیے ایک امام مقرر کروں، پھر میں خود نکل جاؤں اور نماز سے پیچھے رہ جانے والے جس جس انسان پر قدرت پاؤں، اس کو اس کے گھرسمیت جلا دوں۔ سیّدنا عبد اللہ بن ام مکتوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول!میرے اور مسجد کے درمیان کھجوریں اور درخت ہیں اور میں ہر وقت قائد بھی نہیں ہوتا(جو مسجد میں لے آئے) ، توکیا مجھے گھر میں نماز پڑھ لینے کی رخصت ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیا تو اذان سنتا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر تو نماز کے لیے آنا پڑے گا۔

2468

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2468

Sahih

۔ (۲۴۶۸) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَقَدْ ھَمَمْتُ أَنْ آمُرَ فِتْیَانِیَ فَیَجْمَعُوْا حَطَبًا، ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا یَؤُمُّ النَّاسَ ثُمَّ أَخَالِفَ اِلٰی رِجَالٍ یَتَخَلَّفُوْنَ عَنِ الصَّلَاۃِ فَأُحَرِّقَ عَلَیْہِمْ بُیُوتَہُمْ وَاَیْمُ اللّٰہِ! لَوْ یَعْلَمُ أَحَدُھُمْ أَنَّ لَہُ بِشُہُوْدِھَا عَرْقًا سَمِیْنًا أَوْ مِرْمَاتَیْنِ لَشَہِدَھَا وَلَوْ یَعْلَمُوْنَ مَا فِیْہَا لَأَتَوْھَا وَلَوْ حَبْوًا۔)) (مسند احمد: ۸۸۷۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرا یہ ارادہ ہے کہ میں جوانوں کو جلنے والی لکڑیاں اکٹھی کرنے کا حکم دوں، پھر میں ایک آدمی کو حکم دوں وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، اور خود نماز سے پیچھے رہ جانے والے لوگوں کے پیچھے چلا جاؤں اور ان سمیت ان کے گھروں کو جلا دوں۔ اللہ کی قسم! اگر ان میں سے کسی کو یہ پتہ چل جائے کہ اسے نماز میں حاضر ہونے پر گوشت والی اچھی سی ہڈی یا دو کھر ملیں گے تو وہ ضرور آئے گا، اور اگر ان کو پتہ چل جائے کہ اس نماز میں کتنا اجر وثواب ہے تو یہ ضرور حاضر ہوں، اگرچہ ان کو سرینوں کے بل گھسٹ کر آنا پڑے ۔

2469

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2469

Sahih

۔ (۲۴۶۹) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: جَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَی الْمَسْجِدِ، وَفِی رِوَایَۃٍ: دَخَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَسْجِدَ صَلَاۃَ الْعِشَائِ، فَرَآھُمْ عِزِیْنَ مُتَفَرِّقِیْنَ، قَالَ: فَغَضِبَ غَضَبًا شَدِیدًا مَا رَأَیْنَاہُ غَضِبَ غَضَبًا أَشَدَّ مِنْہُ، قَالَ: ((وَاللّٰہِ! لَقَدْ ھَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا یَؤُمُّ النَّاسَ ثُمَّ أَتَتَبَّعَ ھٰؤُلَائِ الَّذِیْنَ یَتَخَلِّفُوْنَ عَنِ الصَّلَاۃِ فِی دُوْرِھِمْ فَأُحَرِّقَہَا عَلَیْہِمْ۔)) (مسند احمد: ۸۸۹۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز عشاء کے وقت مسجد میں تشریف لائے اور لوگوں کو علیحدہ علیحدہ گروہوں میں بیٹھے ہوئے دیکھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سخت غصے میں آگئے، ہم نے کبھی بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اتنی سخت ناراضگی میں نہیں دیکھا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں کسی آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، پھر میں ان لوگوں کے پیچھے جاؤں جو نماز سے پیچھے رہ جاتے ہیں اوران سمیت ان کے گھروں کو جلا دوں ۔

2470

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2470

Sahih

۔ (۲۴۷۰) وَعَنْہُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَخَّرَ الْعِشَائَ الْآخِرَۃَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ حَتّٰی کَادَ یَذْھَبُ ثُلُثُ اللَّیْلِ أَوْ قُرابُہُ، قَالَ: ثُمَّ جَائَ وَفِی النَّاسِ رِقَّۃٌ وَھُمْ عِزُونَ فَغَضِبَ غَضَبًا شَدِیْدًا، ثُمَّ قَالَ: ((لَوْ أَنَّ رَجُلًا بَدَا النَّاسَ اِلٰی عَرْقٍ أَوْ مِرْمَاتَیْنِ لَاَجَابُوا لَہُ، وَھُمْ یَتَخَلَّفُوْنَ عَنْ ھٰذِہِ الصَّلَاۃِ، لَقَدْ ھَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا فَیَتَخَلَّفَ عَلٰی أَھْلِ ھٰذِہِ الدُّوْرِ الَّذِیْنَ یَتَخَلَّفُوْنَ عَنْ ھَذِہِ الصَّلَاۃِ فَأْحَرِّقَہَا عَلَیْھِمْ بِالنِّیْرَانِ۔)) (مسند احمد: ۹۳۷۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک رات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عشاء کی نماز کو مؤخر کیا، حتیٰ کہ رات کا تیسرا حصہ یا اس کے قریب قریب وقت گزر گیا، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے تو لوگوں میں قلت تھی اوروہ ٹولیوں کی صورت میں بیٹھے ہوئے تھے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شدید غصے میں آگئے اور پھر فرمایا: اگر کوئی آدمی اِن لوگوں کو گوشت والی ہڈی یا دو کھروں کی طرف اپنی بستی میں بلائے تو وہ اس کی بات کو ضرور قبول کریں گے۔ یہ لوگ اِس نماز سے بھی پیچھے رہ جاتے ہیں، البتہ تحقیق میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں ایک آدمی کو حکم دوں کہ وہ پیچھے رہ کر (نماز پڑھائے) اور میں ان گھر والوں کی طرف جاؤں جو اس نماز سے پیچھے رہ جاتے ہیں اور ان سمیت ان کے گھروں کو آگ کے ساتھ جلا دوں ۔

2471

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2471

Sahih

۔ (۲۴۷۱) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ (یَعْنِی ابْنَ مَسْعُوْدٍ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَقَدْ ھَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا فَیُصَلِّیَ بِالنَّاسٍ، ثُمَّ آمُرَ بِالنَّاسٍ لَا یُصَلُّوْنَ مَعَنَا فَتُحَرَّقَ عَلَیْھِمْ بُیُوْتُہُمْ۔)) (مسند احمد: ۳۷۴۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یقینا میں نے ارادہ کیا ہے کہ ایک آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، پھر ان لوگوں سمیت ان کے گھر جلا دینے کا حکم دوں، جو ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھتے ۔

2472

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2472

Zaeef

۔ (۲۴۷۲) عَنْ سَہْلٍ عَنْ أَبِیْہِ (یَعْنِی مُعَاذَ بْنَ أَنَسٍ الْجُہَنِیَّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ) عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((اَلْجَفَائُ کُلُّ الْجَفَائِ وَالْکُفْرُ وَالْنِّفَاقُ مَنْ سَمِعَ مُنَادِیَ اللّٰہِ ُنَادِی بِالصَّلَاۃِ یَدْعُوا اِلَی الْفَـلَاحِ وَلَا یُجِیْبُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۵۷۱۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا معاذ بن انس جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (اللہ کی رحمت سے) دوری ہے، بہت دوری ہے، کفر ہے اور نفاق ہے، اس شخص میں جو اللہ تعالیٰ کے مُنَادی کو نماز کے لیے اذان دیتے ہوئے اور کامیابی کی طرف دعوت دیتے ہوئے سنتا ہے، لیکن اس کی بات قبول نہیں کرتا (اور نماز باجماعت کے لیے نہیں آتا) ۔