Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 45 · Chapter 425

نماز با جماعت کے بارے میں ابواب

جماعت کے بارے میں تاکید اور اس پر آمادہ کرنے کابیان

5 hadiths in this chapter

2458

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2458

Zaeef

۔ (۲۴۵۸) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَتَی ابْنُ أُمِّ مَکْتُوْمٍ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَنْزِلِی شَاسِعٌ وَأَنَا مَکْفُوْفُ الْبَصَرِ وَأَنَا أَسْمَعُ الْأَذَانَ، قَالَ: ((فَاِنْ سَمِعْتَ الْأَذَانَ فَأَجِبْ وَلَوْ حَبْوًا أَوْ زَحْفًا۔)) (مسند احمد: ۱۵۰۱۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: سیّدنا ابن ام مکتوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور کہا:اے اللہ کے رسول! میرا گھر مسجد سے دور ہے، جبکہ میں نابینا بھی ہوں اور اذان بھی سنتاہوں (تو کیا میں گھر میں نماز پڑھ سکتا ہوں؟) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تو اذان سنتا ہے تو اس کا جواب دیا کر، اگرچہ تجھے سرین کے بل گھسٹ کر یا کولہوں کے بل سرک کر آنا پڑے ۔

2459

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2459

Sahih

۔ (۲۴۵۹) عَنْ عَمْرِو بْنِ أُمِّ مَکْتُوْمٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: جِئْتُ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کُنْتُ ضَرِیْرًا شَاسِعَ الدَّارِ وَلِی قَائِدٌ لَا یُلَائِمُنِیْ فَہَلْ تَجِدُ لِی رُخْصَۃً أَنْ أُصَلِّیَ فِی بَیْتِی؟ قَالَ: ((أَتَسْمَعُ النِّدَائَ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ((مَا أَجِدُلَکَ رُخْصَۃً۔)) (مسند احمد: ۱۵۵۷۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عمرو بن ام مکتوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیااور کہا: اے اللہ کے رسول!میں نابینا ہوں اور میرا گھر بھی مسجد سے دور ہے اور میرا ایک قائد تو ہے لیکن وہ میری موافقت نہیں کرتا تو کیا مجھے گھر میں نماز پڑھنے کی رخصت دیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیا تم اذان کی آواز سنتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تب میں تیرے لیے کوئی رخصت نہیں پاتا ۔

2460

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2460

Zaeef

۔ (۲۴۶۰) حدثنا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الزُّھْرِیِّ فَسُئِلَ سُفْیَانُ عَمَّنْ؟ قَالَ: ھُوَ مَحْمُوْدٌ اِنْ شَائَ اللّٰہُ أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِکٍ کَانَ رَجُلًا مَحْجُوبَ الْبَصَرِ وَاِنَّہُ ذَکَرَ لِلنَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَلتَّخَلُّفَ عَنِ الصَّلَاۃِ، قَالَ: ((ھَلْ تَسْمَعُ النِّدَائَ؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَلَمْ یُرَخِّصْ لَہُ۔ (مسند احمد: ۱۶۵۹۴)

اردو ترجمہ · Urdu

محمود بن ربیع کہتے ہیں: سیّدنا عتبان بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ایک نابینا آدمی تھا، اس لیے اس نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے نماز سے پیچھے رہ جانے کا ذکر کیا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تو اذان کی آواز سنتا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو رخصت نہیں دی۔

2461

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2461

Sahih

۔ (۲۴۶۱) عَنْ أَبِی مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: عَلَّمَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: ((اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلَاۃِ فَلْیَؤُمَّکُمْ أَحَدُکُمْ، وَاِذَا قَرَأَ الْاِمَامُ فَأَنْصِتُوا)) (مسند احمد: ۱۹۹۶۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدناابوموسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں (بعض امور کی)تعلیم دی ، بیچ میں یہ بھی فرمایا تھا: جب تم نماز کے لیے اٹھو تو تم میں سے ایک آدمی امامت کروایا کرے اور جب امام قراءت کرے تو تم خاموش رہا کرو ۔

2462

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2462

Sahih

۔ (۲۴۶۲) عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ الْیَعْمَرِیِّ قَالَ: قَالَ لِی أَبُو الدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: أَیْنَ مَسْکَنُکَ؟ قَالَ: قُلْتُ: فِی قَرْیَۃٍ دُوْنَ حِمْصَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَا مِنْ ثَـلَاثَۃٍ فی قَرْیَۃٍ لَا یُؤَذَّنَ وَلَا تُقَامُ فِیْہِمُ الصَّلَاۃُ اِلَّا اسْتَحْوَذَ عَلَیْھِمُ الشَّیْطَانُ، فَعَلَیْکَ بِالْجَمَاعَۃِ فَاِنَّ الذَّئْبَ یَأْکُلُ الْقَاصِیَۃَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۰۵۳)

اردو ترجمہ · Urdu

معدان بن ابی طلحہ یعمری کہتے ہیں: سیّدنا ابوالدرداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھ سے پوچھا:تیرا گھر کہاں ہے ؟ میں نے کہا: حمص سے پیچھے ایک بستی میں۔ پھر انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:یعنی: جس بستی میں تین آدمی ہوں اور اس میں نہ اذان دی جاتی ہو اور نہ نماز قائم کی جاتی ہو تو وہاں شیطان غالب آ جاتا ہے، اس لیے تم جماعت کا التزام کرو، (وگرنہ ذہن نشین کر لو کہ) بھیڑیا (ریوڑ سے) دور چلی جانے والی بکری کو کھا جاتا ہے ۔