Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 34 · Chapter 353

سجدہ سہو کے ابواب

دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دینے والے کا بیان اور اس میں سیدنا ذوالیدین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کے قصے کا تذکرہ

7 hadiths in this chapter

1989

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1989

Sahih

۔ (۱۹۸۹) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِیْ عَدِیٍّ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ (یَعْنِیْ ابْنَ سِیْرِیْنَ) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِحْدٰی صَلَاتَیِ الْعَشِیِّ، قَالَ: ذَکَرَھَا أَبُوْ ھُرَیْرَۃَ وَنَسِیَہَا مَحَمَّدٌ، فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ سَلَّمَ وَأَتٰی خَشَبَۃً مُعْرُوْضَۃً فِی الْمَسْجِدِ (وَفِی رِوَایَۃٍ: ثُمَّ أَتٰی جِذْعًا فِی الْقِبْلَۃِ کَانَ یُسْنِدُ إِلَیْہِ ظَھْرَہُ فَأَسْنَدَ إِلَیْہِ ظَھْرَہُ) فَقَالَ بِیَدِہِ عَلَیْہَا کَأَنَّہُ غَضْبَانُ وَخَرَجَتِ السَّرْعَانُ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ قَالُوْا: قُصِرَتِ الصَّلَاۃُ، قَالَ: وَفِی الْقَوْمِ أَبُوبَکْرٍ وَعُمَرُ، فَہَابَاہُ اَنْ یُکَلِّمَاہُ، وَفِی الْقَوْمِ رَجُلٌ فِیْیَدَیْہِ طُوْلٌ، یُسَمّٰی ذَا الْیَدَیْنِ، فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! أَنَسِیْتَ أَمْ قُصِرَتِ الصَّلَاۃُ؟ فَقَالَ: ((لَمْ أَنْسَ وَلَمْ تُقَصَرِ الصَّلَاۃُ (وَفِی رِوَایَۃٍ مَاقُصِرَتْ وَمَا نَسِیْتُ)۔)) قَالَ: فَإِنَّکَ لَمْ تُصَلِّ إِلاَّ رَکْعَتَیْنِ، قَالَ: ((کَمَا یَقُوْلُ ذَُوالْیَدَیْنِ؟)) قَالُوْا: نَعَمْ، فَجَائَ فَصَلَّی الَّذِی تَرَکَ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ کَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُوْدِہِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ وَکَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُوْدِہِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ وَکَبَّرَ، قَالَ: فَکَانَ مُحَمَّدٌ یُسْئَلُ: ثُمَّ سَلَّمَ؟ فَیَقُوْلُ: نُبِّئْتُ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَیْنٍ قَالَ: ثُمَّ سَلَّمَ۔ (مسند احمد: ۷۲۰۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پچھلے پہر کی (ظہر اور عصر کی) دو نمازوں میں سے ایک نماز پڑھائی، سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے تو اس نماز کا ذکر کیا تھا، لیکن ابن سیرین اس کو بھول گئے تھے، بہرحال آپ نے دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا اور مسجد میں پڑی ہوئی ایک لکڑی کے پاس آ گئے۔ایک روایت میں ہے: پھر آپ قبلہ کی سمت پڑے ہوئے ایک تنے کے پاس آئے آپ اس کے ساتھ کمر کی ٹیک لگا لیا کرتے تھے۔ پس آپ نے اس کے ساتھ کمر کی ٹیک لگا لی اور اپنا ہاتھ بھی اس پر رکھ لیا، گویا کہ آپ غصے میں ہیں،اُدھر مسجد کے دروازوں سے جلد باز لوگ یوں کہتے ہوئے نکلتے گئے: نماز کم ہو گئی ہے۔ لوگوں میں سیدنا ابو بکراورسیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بھی موجود تھے، لیکن وہ دونوں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بات کرنے سے گھبرا گئے، لوگوں میں ایک آدمی تھا، اس کے ہاتھ ذرا لمبے تھے، اسی وجہ سے اسے ذوالیدین کہتے تھے، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ بھول گئے ہیں یا نماز کم ہوگئی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہ میں بھولا ہوں اور نہ نماز کم ہوئی ہے۔ وہ کہنے لگا: یقینا آپ نے دو رکعتیں پڑھائی ہیں۔ آپ نے پوچھا: (بات ایسے ہی ہے) جیسے ذوالیدین کہہ رہا ہے؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے اور نماز کی جتنی رکعتیں رہ گئی تھیں، وہ ادا کیں، پھر سلام پھیرا، پھر اللہ اکبر کہا اور عام سجدوں کی طرح یا ان سے بھی لمبا سجدہ کیا، پھر اپنا سر اٹھایا اور اللہ اکبر کہا، پھر عام سجدوں کی طرح یا لمبا سجدہ کیا، پھر اپنا سر اٹھایا اور اللہ اکبر کہا، ابن عون کہتے ہیں: جب محمد بن سیرین سے پوچھا گیا کہ کیا (سجدوں کے بعد) سلام پھیرا تھا، تو انھوں نے کہا: مجھے سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حوالے سے یہ بتلایا گیا ہے کہ انھوں نے کہا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سلام پھیرا تھا۔

1989

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1989

Sahih

۔ (۱۹۸۹) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِیْ عَدِیٍّ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ (یَعْنِیْ ابْنَ سِیْرِیْنَ) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِحْدٰی صَلَاتَیِ الْعَشِیِّ، قَالَ: ذَکَرَھَا أَبُوْ ھُرَیْرَۃَ وَنَسِیَہَا مَحَمَّدٌ، فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ سَلَّمَ وَأَتٰی خَشَبَۃً مُعْرُوْضَۃً فِی الْمَسْجِدِ (وَفِی رِوَایَۃٍ: ثُمَّ أَتٰی جِذْعًا فِی الْقِبْلَۃِ کَانَ یُسْنِدُ إِلَیْہِ ظَھْرَہُ فَأَسْنَدَ إِلَیْہِ ظَھْرَہُ) فَقَالَ بِیَدِہِ عَلَیْہَا کَأَنَّہُ غَضْبَانُ وَخَرَجَتِ السَّرْعَانُ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ قَالُوْا: قُصِرَتِ الصَّلَاۃُ، قَالَ: وَفِی الْقَوْمِ أَبُوبَکْرٍ وَعُمَرُ، فَہَابَاہُ اَنْ یُکَلِّمَاہُ، وَفِی الْقَوْمِ رَجُلٌ فِیْیَدَیْہِ طُوْلٌ، یُسَمّٰی ذَا الْیَدَیْنِ، فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! أَنَسِیْتَ أَمْ قُصِرَتِ الصَّلَاۃُ؟ فَقَالَ: ((لَمْ أَنْسَ وَلَمْ تُقَصَرِ الصَّلَاۃُ (وَفِی رِوَایَۃٍ مَاقُصِرَتْ وَمَا نَسِیْتُ)۔)) قَالَ: فَإِنَّکَ لَمْ تُصَلِّ إِلاَّ رَکْعَتَیْنِ، قَالَ: ((کَمَا یَقُوْلُ ذَُوالْیَدَیْنِ؟)) قَالُوْا: نَعَمْ، فَجَائَ فَصَلَّی الَّذِی تَرَکَ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ کَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُوْدِہِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ وَکَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُوْدِہِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ وَکَبَّرَ، قَالَ: فَکَانَ مُحَمَّدٌ یُسْئَلُ: ثُمَّ سَلَّمَ؟ فَیَقُوْلُ: نُبِّئْتُ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَیْنٍ قَالَ: ثُمَّ سَلَّمَ۔ (مسند احمد: ۷۲۰۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پچھلے پہر کی (ظہر اور عصر کی) دو نمازوں میں سے ایک نماز پڑھائی، سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے تو اس نماز کا ذکر کیا تھا، لیکن ابن سیرین اس کو بھول گئے تھے، بہرحال آپ نے دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا اور مسجد میں پڑی ہوئی ایک لکڑی کے پاس آ گئے۔ایک روایت میں ہے: پھر آپ قبلہ کی سمت پڑے ہوئے ایک تنے کے پاس آئے آپ اس کے ساتھ کمر کی ٹیک لگا لیا کرتے تھے۔ پس آپ نے اس کے ساتھ کمر کی ٹیک لگا لی اور اپنا ہاتھ بھی اس پر رکھ لیا، گویا کہ آپ غصے میں ہیں،اُدھر مسجد کے دروازوں سے جلد باز لوگ یوں کہتے ہوئے نکلتے گئے: نماز کم ہو گئی ہے۔ لوگوں میں سیدنا ابو بکراورسیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بھی موجود تھے، لیکن وہ دونوں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بات کرنے سے گھبرا گئے، لوگوں میں ایک آدمی تھا، اس کے ہاتھ ذرا لمبے تھے، اسی وجہ سے اسے ذوالیدین کہتے تھے، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ بھول گئے ہیں یا نماز کم ہوگئی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہ میں بھولا ہوں اور نہ نماز کم ہوئی ہے۔ وہ کہنے لگا: یقینا آپ نے دو رکعتیں پڑھائی ہیں۔ آپ نے پوچھا: (بات ایسے ہی ہے) جیسے ذوالیدین کہہ رہا ہے؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے اور نماز کی جتنی رکعتیں رہ گئی تھیں، وہ ادا کیں، پھر سلام پھیرا، پھر اللہ اکبر کہا اور عام سجدوں کی طرح یا ان سے بھی لمبا سجدہ کیا، پھر اپنا سر اٹھایا اور اللہ اکبر کہا، پھر عام سجدوں کی طرح یا لمبا سجدہ کیا، پھر اپنا سر اٹھایا اور اللہ اکبر کہا، ابن عون کہتے ہیں: جب محمد بن سیرین سے پوچھا گیا کہ کیا (سجدوں کے بعد) سلام پھیرا تھا، تو انھوں نے کہا: مجھے سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حوالے سے یہ بتلایا گیا ہے کہ انھوں نے کہا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سلام پھیرا تھا۔

1990

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1990

Sahih

۔ (۱۹۹۰) (وِمِنْ طَرِیقٍ ثَالِثٍ) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الظُّہْرَ أَوِ الْعَصْرَ فَسَلَّمَ فِی رَکْعَتَیْنِ فَقَالَ لَہُ ذُوالشَّمَالَیْنِ بْنُ عَبْدِ عَمْرٍو، وَکَانَ حَلِیْفًا لِبَنِیْ زُھْرَۃَ: أَخُفِّفَتِ الصَّلَاۃُ أَمْ نَسِیْتَ؟ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا یَقُوْلُ ذُوالْیَدَیْنِ؟)) قَالُوْا: صَدَقَ یَا نَبِیَّ اللَّہِ! فَأَتَمَّ بِہِمُ الرَّکَعَتَیْنِ اللَّتَیْنِ نَقَصَ۔ (مسند احمد: ۷۶۵۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (تیسری سند) سیدنا ابو ہریرہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی اور دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا، سیدنا ذوالشمالین بن عبد عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، بنو زہرہ کے حلیف تھے، نے آپ سے کہا: آیا نماز میں تخفیف کردی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ذوالیدین کیا کہہ رہا ہے ؟ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! اس نے سچ کہا ہے، پھر آپ نے ان کو ساتھ لے کر وہ دو رکعتیں مکمل کیں، جو رہ گئی تھیں۔

1991

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1991

Sahih

۔ (۱۹۹۱) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ رَابِعٍ) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَّی الظُّہْرَ رَکَعَتَیْنِ ثُمَّ سَلَّمَ، قَالُوْا: أَقُصِرَتِ الصَّلَاۃُ؟ قَالَ: فَقَامَ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ بَعْدَ مَا سَلَّمَ۔ (مسند احمد: ۸۹۹۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (چوتھی سند)رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ظہر کی دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دیا، لوگوں نے کہا: کیا نماز کم ہوگئی ہے؟ یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے، دو رکعتیں پڑھیں، پھر سلام پھیرا اور بعد ازاں دو سجدے کیے۔

1992

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1992

Sahih

۔ (۱۹۹۲) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ خَاِمسٍ) قَالَ: بَیْنَمَا أَنَا أُصَلِّیْ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃَ الظُّہْرِ، سَلَّم رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ رَکْعَتَیْنِ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ بَنِیْ سُلَیْمٍ فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! أَقُصِرَتِ الصَّلَاۃُ أَمْ نَسِیْتَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَمْ تُقْصَرْ وَلَمْ أَنْسَہْ۔)) قَالَ: یَارَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّمَا صَلَّیْتَ رَکْعَتَیْنِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَحَقٌ مَا یَقُولُ ذُوالْیَدَیْنِ؟)) قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَقَامَ فَصَلّٰی بِہِمْ رَکْعَتَیْنِ آخِرَتَیْنِ قَالَ یَحْیٰی حَدَّثَنِیْ ضَمْضَمُ بْنُ جَوْسٍ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا ھُرَیْرَۃَیَقُوْلُ ثُمَّ سَجَدَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَجَدَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۹۴۵۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (پانچویں سند)سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ایک دفعہ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھ رہا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا، بنو سلیم کا ایک آدمی اٹھ کر کہنے لگا: اے اللہ کے رسول ! کیا نماز کم ہوگئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہ نماز کم ہوئی ہے اور نہ میں بھولا ہوں۔ ا س نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے صرف دو رکعتیں پڑھیں ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو کچھ ذوالیدین کہہ رہا ہے، کیا وہ سچ ہے ؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں! پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اٹھ کر آخری دو رکعتیں پڑھائیں، ((ضمضم بن جوس کی ابوہریرہ سے روایت کے مطابق)) پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو سجدے کیے۔

1993

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1993

Sahih

۔ (۱۹۹۳) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ سَادِسٍ) قَالَ: صَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃَ الْعَصْرِ فَسَلَّمَ مِنْ رَکْعَتَیْنِ، فَقَامَ ذُوالْیَدَیْنِ فَقَالَ: أَقُصِرَتِ الصَّلَاۃُیَا رَسُولَ اللّٰہِ أَمْ نَسِیْتَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کُلُّ ذَلِکَ لَمْ یَکُنْ۔)) فَقَالَ: قَدَ کَانَ ذٰلِکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَأَقْبَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی النَّاسِ، فَقَالَ: ((أَصَدَقَ ذُوالْیَدَیْنِ؟)) فَقَالُوا: نَعَمْ، فَأَتَمَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا بَقِیَ مِنْ صَلَاتِہِ ثُمَّ سَجَدَ سَجَدَتَیْنِ وَھُوَ جَالِسٌ۔ (مسند احمد: ۹۹۲۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (چھٹی سند)سیدنا ابوہریرہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا، سیدنا ذوالیدین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کھڑے ہو کر کہا: کیا نماز کم ہوگئی ہے اے اللہ کے رسول ! یا آپ بھول گئے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کچھ بھی نہیں ہوا۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یقینا کچھ تو ہوا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں پر متوجہ ہوکر فرمانے لگے: کیا ذوالیدین نے سچ کہا ہے؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، سو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی بقیہ نماز مکمل فرمائی، پھر دو سجدے کیے، جب کہ آپ بیٹھے ہوئے تھے۔

1994

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1994

Sahih

۔ (۱۹۹۴) عَنْ عَطَائٍ أَنَّ ابْنَ الزُّبَیْرِ صَلَّی الْمَغْرِبَ فَسَلَّمَ فِی رَکْعَتَیْنِ وَنَہَضَ لِیَسْتِلَمَ الْحَجَرَ فَسَبَّحَ الْقَوْمُ، فَقَالَ: مَاشَأَنُکُمْ؟ قَالَ: فَصَلّٰی مَا بَقِیَ وَسَجَدَ سَجْدَتَیْنَ، قَالَ: فَذُکِرَ ذٰلِکَ لِأِبْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ: مَا أَمَاطَ عَنْ سُنَّۃِ نَبِیِّہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۳۲۸۵)

اردو ترجمہ · Urdu

عطا کہتے ہیں:سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مغرب کی نماز پڑھائی اوردو رکعتوں کے بعد سلام پھیر کرحجر اسود کو بوسہ دینے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے، لوگوں نے سبحان اللہ کہا، انہوں نے کہا: تمہیں کیا ہواہے؟ (جب صورتحال بتائی گئی) تو انھوں نے بقیہ نماز پڑھی اور دو سجدے کیے، جب سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اس کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے تصدیق کرتے ہوئے کہا: وہ اپنے نبی کی سنت سے نہیں ہٹے۔