Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 34 · Chapter 352

سجدہ سہو کے ابواب

نماز میں شک کرنے والا کیا کرے؟

17 hadiths in this chapter

1972

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1972

Sahih

۔ (۱۹۷۲) عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ قَالَ لَہُ عُمَرُ: یَاغُلَامُ! ھَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَوْ مِنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِہِ إِذَا شَکَّ الرَّجُلُ فِی صَلاَتِہِ مَاذَا یَصْنَعُ؟ قَالَ: فَبَیْنَمَا ھُوَ کَذٰلِکَ إِذْ أَقْبَلَ عَبْدُالرَّحْمٰنِ بْنُ عَوْفٍ فَقَالَ: فِیْمَ أَنْتَمَا؟ فَقَالَ عُمَرُ: سَأَلْتُ ھٰذَا الْغُلاَمَ ھَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَوْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِہِ إِذَا شَکَّ الرَّجُلُ فِی صَلاَتِہِ مَاذَا یَصْنَعُ؟ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((إِذَا شَکَّ أَحَدُکُمْ فِیْ صَلَاتِہٖفَلَمْ یَدْرِ أَوَاحِدَۃً صَلّٰی أَمْ ثِنْتَیْنِ فَلْیَجْعَلْہَا وَاحِدَۃً، وَإِذَا لَمْ یَدْرِ ثِنْتَیْنِ صَلّٰی أَمْ ثَلاَثًا فَلْیَجْعَلْھَا ثِنْتَیْنِ، وَإِذَا لَمْ یَدْرِ أَثَلَاثًا صَلّٰی أَمْ أَرْبَعًا فَلْیَجْعَلْہَا ثَلَاثًا، ثُمَّ یَسْجُدُ إِذَا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِہِ وَھُوَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ یُسَلِّمَ سَجْدَتَیْنِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۵۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: اے لڑکے! کیا تو نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کسی صحابی سے کوئی ایسی حدیث سنی ہے کہ اگر نمازی کو نماز میں شک ہو جائے تو وہ کیا کرے؟ یہی بات ہو رہی تھی کہ اتنے میں سیدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پہنچ گئے اور انھوں نے پوچھا: تم کیا بات کر رہے ہو؟ سیدناعمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے اس لڑکے سے پوچھا ہے کہ کیا اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یا کسی صحابی سے کوئی اس قسم کی حدیث سنی ہے کہ جب آدمی کو نماز میں شک ہو جائے تو وہ کیا کرے؟ یہ سن کر سیدنا عبد الرحمن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہو جائے اوروہ یہ نہ جان سکے کہ اس نے ایک رکعت پڑھی ہے یا دو تو وہ ایک رکعت ہی سمجھ لے، جب اسے یہ پتہ نہ چل سکے کہ اس نے دو رکعتیں پڑھی ہیں یا تین تو وہ ان کو دو ہی سمجھ لے اور جب اسے یہ معلوم نہ ہو سکے کہ تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار تو وہ ان کو تین ہی سمجھ لے، پھر جب نماز سے فارغ ہو نے لگے تو بیٹھے بیٹھے اور سلام سے پہلے دو سجدے کر لے۔

1973

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1973

Sahih

۔ (۱۹۷۳) عَنْ مُرَّۃَ بْنِ مَعْبَدٍ عَنْ یَزْیِدَ بْنِ أَبِیْ کَبْشَۃَ عَنْ عُثْمَانَ (بْنِ عَفَّانَ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّیْ صَلَّیْتُ فَلَمْ أَدْرِ أَشَفَعْتُ أَمْ أَوْتَرْتُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِیَّایَ وَأَنْ یَتَلَعَّبَ بِکُمُ الشَّیْطَانُ فِیْ صَلاَتِکُمْ، مَنْ صَلّٰی مِنْکُمْ فَلَمْ یَدْرِ أَشَفَعَ أَوْ أَوْتَرَ فَلَیْسْجُدْ سَجْدَ تَیْنِ فَإِنَّہُمَا تَمَامُ صَلَاتِہِ۔)) (مسند احمد: ۴۵۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے نمازپڑھی لیکن (بھول گیا)، جس کی وجہ سے اب یہ پتہ نہیں چل رہا کہ جفت رکعتیں پڑھی ہیں یا طاق؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اپنے آپ کواس سے ڈراتا ہوں کہ شیطان تمہاری نماز میں تم سے کھیلنے لگ جائے، تم میں سے جو آدمی نماز پڑھے اور وہ یہ نہ جان سکے کہ جفت رکعتیں پڑھ لی ہیں یا طاق تو وہ دو سجدے کر لے، ان سے اس کی نماز کی تکمیل ہو جائے گی۔

1974

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1974

Sahih

۔ (۱۹۷۴) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) قَالَ: صَلّٰی بِنَا یَزِیْدُ ابْنُ أَبِی کَبْشَۃَ الْعَصْرَ فَانْصَرَفَ إِلَیْنَا بَعْدَ صَلَاتِہٖفَقَالَ: إِنِّیْ صَلَّیْتُ مَعَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ فَسَجَدَ مِثْلَ ھَاتَیْنِ السَّجْدَتَیْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَیْنَا فَأَعْلَمَنَا أَنَّہُ صَلّٰی مَعَ عُثْمَانَ (بْنِ عَفَّانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ) وَحَدَّثَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَ کَرَ مِثْلَہُ أَوْنَحْوَہُ۔ (مسند احمد: ۴۵۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند)مرہ بن معبد کہتے ہیں: یزید بن ابو کشبہ نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد ہماری طرف متوجہ ہوئے اور کہا: میں نے مروان بن حکم کے ساتھ نماز پڑھی تھی، انہوں نے اسی طرح دو سجدے کیے تھے، پھر وہ ہماری طرف پھرے اور ہمیں یہ بتلایا کہ انھوں نے سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ نماز پڑھی تھی اور انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیان کیا تھا، پھر اوپر والی حدیث کی طرح کی حدیث بیان کی۔

1975

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1975

Sahih

۔ (۱۹۷۵) عَنْ إِبْرَاھِیْمَ عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ (بْنِ مَسْعُوْدٍ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلاَۃً فَلَا أَدْرِیْ زَادَ أَمْ نَقَصَ فَلَمَّا سَلَّمَ، قِیْلَ لَہُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! ھَلْ حَدَثَ فِی الصَّلاَۃِ شَیْئٌ؟ قَالَ: ((لاَ، وَمَا ذَاکَ؟)) قَالُوْا: صَلَّیْتَ کَذَا وَکَذَا،، قَالَ: فَثَنٰی رِجْلَیْہِ فَسَجَدَ سَجْدَتَیِ السَّہْوِ، فَلَمَّا سَلَّمَ، قَالَ: ((إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسٰی کَمَا تَنْسَوْنَ، وَإِذَاشَکَّ أَحَدُ کُمْ فِی الصَّلاَۃِ فَلْیَتَحَرَّ الصَّلاَۃ،َ فَإِذَا سَلَّمَ فَلْیَسْجُدْ سَجْدَتَیْنِ۔)) (مسند احمد: ۳۶۰۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک نماز پڑھائی،مجھےیہ یاد نہیں رہا کہ زیادتی ہو گئی تھی یا کمی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سلام پھیرا تو کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا نماز میں کوئی نئی چیز مشروع ہو گئی ہے؟ آ پ نے فرمایا: (نہیں، اور وہ کیا ہے (جو تم محسوس کر رہے ہو)؟ لوگوں نے کہا: آپ نے اتنی اتنی نماز پڑھائی ہے۔ تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے پاؤں موڑے اور سہوکے دو سجدے کئے، پھر جب سلام پھیرا تو فرمایا: میں تو ایک انسان ہی ہوں، جیسے تم بھول جاتے ہو اسی طرح میں بھی بھول جاتا ہوں، جب تم میں سے کسی کو نماز میں شک ہو جائے تو وہ نماز (کی رکعتوں کی تعداد کی درست صورت کو) تلاش کرے اور جب سلام پھیرے تو دو سجدے کر لے۔

1976

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1976

Sahih

۔ (۱۹۷۶) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ) وَفِیْہِ فَثَنٰی رِجْلَہُ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ وَسَجَدَ سَجْدَتَیْنِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَیْنَا بِوَجْھِہِ فَقَالَ: ((لَوْ حَدَثَ فِی الصَّلَاۃِ شَیْئٌ لَأَنْبَأْ تُکُمُوہُ وَلٰکِنْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسٰی کَمَا تَنْسَوْنَ، فَإِنْ نَسِیْتُ فَذَکِّرُونِی وَأَیُّکُمْ مَا شَکَّ فِی صَلَاتِہِ فَلْیَتَحَرَّ أَقْرَبَ ذٰلِکَ لِلصَّوَابِ فَلْیُتِمَّ عَلَیْہِ وَیُسَلِّمْ ثُمَّ یَسْجُدْ سَجْدَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۴۱۷۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند)اسی قسم کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا پاؤں موڑا،قبلہ رخ ہوئے اور دو سجدے کیے، پھر ہم پر متوجہ ہوئے اور فرمایا: اگر نماز میں کوئی نئی چیز مشروع ہوتی تو میں تمہیں ضرور بتاتا، بات یہ ہے کہ میں صرف ایک انسان ہوں، میں بھی اسی طرح بھول جاتا ہوں، جیسے تم بھولتے ہو، پس اگر میں بھول جاؤں تو مجھے یاد کرا دیا کرو اور تم میں جس کسی کو بھی نماز میں شک ہو جائے تو وہ ایسی صورت کو تلاش کرے جو درستگی کے زیادہ قریب ہو، پھر اس نماز کو مکمل کرے اور سلام پھیر کر دو سجدے کر لے۔

1977

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1977

Zaeef

۔ (۱۹۷۷) عَنْ أَبِیْ عُبَیْدَۃَ عَنْ أَبِیْہِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَاکُنْتَ فِی الصَّلَاۃَ فَشَکَکْتَ فِی ثَلاَثٍ أَوْ اَرْبَعٍ، وَأَکْثَرُ ظَنِّکَ عَلٰی أَرْبَعٍ، تَشَہَّدْتَّ ثُمَّ سَجَدْتَّ سَجْدَتَیْنِ وَأَنْتَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ تُسْلِّمَ، ثُمَّ تَشَہَّدْتَ أَیْضًا ثُمّ َسَلَّمْتَ۔)) (مسند احمد: ۴۰۷۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تونماز میں ہو اور تین یا چار رکعتوں میں شک ہو جائے، البتہ تیرا زیادہ گمان چار پر ہو، تو تو تشہد پڑھ اور سلام سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر، پھر تشہد پڑھ اور اس کے بعد سلام پھیر۔

1978

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1978

Zaeef

۔ (۱۹۷۸) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: ((إِذَا شَکَکْتَ فِیْ صَلَاتِکَ وَأَنْتَ جَالِسٌ فَلَمْ تَدْ رِثَلَاثًا صَلَیْتَ أَمْ أَرْبَعًا، فَاِنْ کَانَ أَکْبَرُ ظَنِّکَ أَنَّکَ صَلَّیْتَ ثَلاَثًا فَقُمْ فَارْکَعْ رَکْعَۃً ثُمَّ سَلِّمْ ثُمَّ اسْجُدْ سَجْدَتَیْنِ ثُمَّ تَشَہَّدْ ثُمَّ سَلِّمْ، وَإِنْ کَانَ أَکْبَرُ ظَنِّکَ أَنَّکَ صَلَّیْتَ أَرْبَعًا فَسَلِّمْ ثُمَّ اسْجُدْ سَجْدَتَیْنِ ثُمَّ تَشَہَّدْ ثُمَّ سَلِّمْ۔ (مسند احمد: ۴۰۷۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند)سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جب تجھے اپنی نماز میں شک ہو جائے اور تو بیٹھا ہوا ہو اور تجھے یہ پتہ نہ چل سکے کہ تو نے تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار، تو اگر تیرا غالب ظن یہ ہو کہ تو نے تین رکعتیں پڑھ لی ہیں تو تو کھڑا ہو جا اور ایک رکعت ادا کر، پھر سلام پھیر، پھر دو سجدے کر، پھر تشہد پڑھ اور پھر سلام پھیر، اور اگر غالب ظن یہ ہو کہ تو نے چار رکعتیں پڑھ لی ہیں تو سلام پھیر دے، پھر دو سجدے کر، پھر تشہد پڑھ اور پھر سلام پھیر دے۔

1979

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1979

Sahih

۔ (۱۹۷۹) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((یَأْتِیْ أَحَدَکُمُ الشَّیْطَانُ وَھُوَ فِیْ صَلَاتِہِ فَیُلَبِّسُ عَلَیْہِ حَتّٰی لَا یَدْرِیْ کَمْ صَلّٰی فَمَنْ وَجَدَ مِنْ ذٰلِکَ شَیْئًا فَلْیَسْجُدْ سَجْدَتَیْنِ وَھُوَ جَالِسٌ)) (مسند احمد: ۷۲۸۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز میں ہوتا ہے تو اس کے پاس شیطان آتا ہے تو اس پر اس کی نماز کو اتنا خلط ملط کر دیتا ہے کہ وہ یہ بھی نہیں جان سکتا کہ اس نے کتنی نماز پڑھ لی ہے، پس جو آدمی ایسی صورتحال پائے تو وہ دو سجدے کرے، اس حال میں کہ وہ بیٹھا ہوا ہو۔

1980

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1980

Sahih

۔ (۱۹۸۰) عَنْ أَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا صَلّٰی أَحَدُکُمْ فَلَا یَدْرِیْ کَمْ صَلّٰی فَلْیَسْجُدْ سَجْدَتَیْنِ وَھُوَ جَالِسٌ، وَإِذَا جَائَ أَحَدَکُمُ الشَّیْطَانُ فَقَالَ إِنَّکَ قَدْ أَحْدَثْتَ فَلْیَقُلْ کَذَبْتَ إِلاَّ مَاوَجَدَ رِیْحَہُ بَأَنْفِہِ أَوْ سَمِعَ صَوْتَہُ بَأُذُنِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۰۹۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے اور وہ (اس قدر بھول جائے کہ یہ) بھی نہ جان سکے کہ اس نے کتنی نماز پڑھی ہے تووہ بیٹھے بیٹھے ہی دو سجدے کرلے اور جب شیطان کسی کے پاس آ کر کہے کہ تو بے وضو ہو گیا ہے تو وہ اسے کہے کہ تو نے جھوٹ کہا، الا یہ کہ وہ اپنے ناک سے بو محسوس کر لے یا اپنے کان سے آواز سن لے۔

1981

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1981

Sahih

۔ (۱۹۸۱) وَعَنْہُ أَیْضًا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا شَکَّ أَحَدُکُمْ فِیْ صَلَاتِہِ فَلَمْ یَدْرِکَمْ صَلّٰی فَلْیَبْنِ عَلَی الْیَقَیْنِ حَتّٰی إِذَا اسْتَیْقَنَ أَنْ قَدْ أَتَمََ فَلَیْسْجُدْ سَجْدَتَیْنِ قَبْلَ أَنْ یُسَلِّمَ، فَإِنَّہُ إِنْ کَانَتْ صَلَاتُہُ وِتْراً صَارَتْ شَفْعًا وَإِنْ کَانَتْ شَفْعًا کَانَ ذٰلِکَ تَرْغِیْمًا لِلشَّیْطَانِ)) (مسند احمد: ۱۱۷۱۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو نماز میں شک ہو جائے اور وہ یہ نہ جان سکے کہ اس نے کتنی نماز پڑھ لی ہے، تو وہ یقین پر بنیاد رکھے (اور مزید رکعت ادا کرے) حتی کہ اسے نماز کے مکمل ہونے کا یقین ہو جائے، پھر وہ سلام سے پہلے دو سجدے کرے، اگر اس کی (پڑھی ہوئی زائد نماز) طاق رکعتیں ہوں گی تو وہ (سہو کے دو سجدوں) کی بنا پر جفت بن جائے گی اور اگر اس کی نماز جفت (یعنی پوری ہی) ہو گی تو یہ سجدے شیطان کو خاک آلود کریں دیں گے۔

1982

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1982

Zaeef

۔ (۱۹۸۲) عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَلَا أُحَدِّثُکُمْ بِحَدِیْثٍ سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالُوْا: بَلٰی۔ قَالَ: فَأَشْہَدُ أَنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: مَنْ صَلّٰی صَلَاۃًیَشُکُّ فِی النُّقْصَانِ فَلْیُصَلِّ حَتّٰییَشُکَّ فِی الزِّیَادَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۸۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیامیں تمہیں وہ حدیث نہ بیان کروں جو میں نے خود رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی تھی؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ انھوں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جو شخص نماز پڑھتا ہے اور اسے اس کے کم ہونے کا شک ہوتا ہے تو وہ نماز پڑھتا رہے، یہاں تک کہ اسے زیادہ ہونے میں شک ہونے لگے۔

1983

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1983

Zaeef

۔ (۱۹۸۳) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ جَعْفَرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ شَکَّ فِی صَلَاتِہِ فَلْیَسْجُدْ سَجْدَتَیْنِ وَھُوَ جَالِسٌ۔)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((فَلْیَسْجُدْ سَجْدَتَیْنِ بَعْدَ مَایُسَلِّمُ۔)) (مسند احمد: ۱۷۶۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن جعفر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص نماز میں شک کرے تو وہ بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے۔ ایک روایت میں ہے: وہ سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کرلے۔

1984

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1984

Sahih

۔ (۱۹۸۴) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : لَاإِغْرَارَ فِیْ صَلَاۃٍ وَلاَ تَسْلِیْمَ۔)) (مسند احمد: ۹۹۳۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہ نماز (کے ارکان) میں نقص پیدا کرنا جائز ہے اور نہ (نماز میں) سلام کہنا ہے۔

1985

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1985

Sahih

۔ (۱۹۸۵) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا عَبْدُالرَّحْمٰنِ (یَعْنِیْ اِبْنَ مَہْدِیٍّ) عَنْ سُفْیَانَ (یَعْنِیْ الثَّوْرِیَّ) قَالَ: سَمِعْتُ أَبِیْیَقُوْلُ: سَأَلْتُ أَبَا عَمْرٍو اَلشَّیْبَانِیَّ عَنْ قَوْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَا إِغْرَارَ فِی الصَّلاَۃِ۔)) فَقَالَ: إِنَّمَا ھُوَ لَاغِرَارَ فِی الصَّلاَۃِ، وَمَعْنَی غِرَارَ یَقُولُ لاَیَخْرُجُ مِنْہَا وَھُوَ یَظُنُّ أَنَّہُ قَدْ بَقِیَ عَلَیْہِ مِنْہَاشَیْئٌ حَتّٰییَکُونَ عَلَی الْیَقِیْنِ وَالْکَمَالِ۔ (مسند احمد: ۹۹۳۸) ذکر الامام احمد ھذا القول بعد الحدیث السابق: ۸۸۷

اردو ترجمہ · Urdu

سفیان ثوری کہتے ہیں: میرے باپ نے ابو عمرو شیبانی سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قول لَا إِغْرَارَ فِی الصَّلاَۃِ۔ (نماز میں نقص پیدا کرنا نہیں ہے۔) کے متعلق سوال کیا تو انھوں نے کہا: یہ روایت اس طرح ہے: لَا غِرَارَ فِی الصَّلَاۃِ۔ اور لَا غِرَار کا معنی یہ ہے کہ بندہ اس حال میں نماز سے نہ نکلے کہ اسے یہ گمان بھی ہو کہ اس کی نماز کا کچھ حصہ باقی ہے، (وہ اس وقت نکلے) جب اسے مکمل ہونے کا یقین ہو۔

1986

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1986

Sahih

۔ (۱۹۸۶) عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِیْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِیْہِ أَنَّ عَمَّارًا (یَعْنِی بْنَ یَاسِرٍ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ صَلّٰی رَکْعَتَیْنِ فَقَالَ لَہُ عَبْدُالرَّحْمٰنِ ابْنُ الْحَارِثِ: یَا أَبَا الْیَقْظَانِ! لَا أَرَاکَ إِلاَّ خَفَّفْتَہُمَا۔ قَالَ: ھَلْ نَقَصْتُ مِنْ حُدُودِھَا شَیْئًا؟ قَالَ: َلا، وَلٰکِنْ خَفَّفْتَہُمَا، قَالَ: إِنِّی بَادَرْتُ بِہِمَا السَّہْوَ، إِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((إِنَّ الرَّجُلَ لَیُصَلِّیْ وَلَعَلَّہُ أَنْ لَا یَکُوْنَ لَہُ مِنْ صَلَاتِہِ إِلاَّ عُشْرُھَا أَوْ تُسْعُہَا أَوْ ثُمْنُہَا أَوْ سُبْعُہَا،…۔)) حَتَّی انْتَھٰی إِلٰی آخِرٍ الْعَدَدِ۔ (مسند احمد: ۱۹۰۸۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عماربن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے دو رکعت نماز پڑھی، عبدالرحمن بن حارث نے ان سے کہا: اے ابو الیقظان! میرا خیال یہ ہے کہ آپ نے ان میں تخفیف کی ہے۔ انہوں نے کہا: کیا میں نے اس کی حدود و قیود میں سے کسی چیز کی کمی کی ہے؟ وہ کہنے لگے: نہیں، لیکن آپ نے ان میں تخفیف کی ہے۔ انہوں نے کہا: (اصل بات یہ ہے کہ) میں نے بھولنے سے پہلے جلدی جلدی ان کو ادا کر لیا ہے، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بیشک آدمی تو نماز پڑھتا ہے، لیکن ممکن ہے کہ اس کے لیے اس کی نماز سے نہ ہو مگر دسواں حصہ، یا نواں حصہ، یا آٹھواں حصہ، یا ساتواں حصہ، …۔ حتی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آخری عدد تک پہنچ گئے۔

1987

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1987

Sahih

۔ (۱۹۸۷) (وَمِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) عَنِ ابْنِ َلاسٍ الْخُزَاعِیِّ قَالَ: دَخَلَ عَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ الْمَسْجِدَ فَرَکَعَ فِیِہِ رَکْعَتَیْنِ أَخَفَّھُمَا وَأَتَمَّہُمَا، قَالَ: ثُمَّ جَلَسَ، فَقُمْنَا إِلَیْہِ فَجَلَسْنَا عِنْدَہُ ثُمَّ قُلْنَا لَہُ لَقَدْ خَفَّفْتَ رَکْعَتَیْکَ ھَاتَیْنِ جِدًّا یَا أَبَا الْیَقْظَانِ! فَقَالَ: إِنِّیْ بَادَرْتُ بِہِمَا الشَّیْطَانَ أَنْ یَدْخُلَ عَلَیَّ فِیْہِمَا، قَالَ فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۱۸۵۱۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند)ابن لاس خزاعی کہتے ہیں: سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مسجد میں داخل ہوئے اور دو رکعت نماز ادا کی، وہ بہت تخفیف والی تھیں، لیکن مکمل بھی تھیں، پھر وہ بیٹھ گئے، ہم کھڑے ہوئے اور ان کے پاس بیٹھ گئے، ہم نے کہا: ابو الیقظان! آپ نے ان دو رکعتوں میں تخفیف کی ہے؟ انھوں نے کہا: جی میں نے ان کو اپنے اندر شیطان کے داخل ہونے سے پہلے ادا کر لیا ہے، پھر اسی طرح کی حدیث ذکر کی۔

1988

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1988

Sahih

۔ (۱۹۸۸) عَنْ أَبِی العَلاَئِ بْنِ الشِّخِّیْرِ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ أَبِی الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: یَارَسُولَ اللّٰہِ! حَالَ الشَّیْطَانُ بَیْنِی َوَبَیْنَ صَلَاتِیْ وَبَیْنَ قِرَائَ تِیْ قَالَ: ((ذَاکَ شَیْطَانٌیُقَالُ لَہُ خِنْزَبٌ فَإِذَا أَنْتَ حَسَسْتَہُ فَتَعَوَّذْ بِاللّٰہِ مِنْہُ وَاتْفُلْ عَنْ یَسَارِکَ ثَلاَثًا۔)) قَالَ: فَفَعَلْتُ ذَاکَ فَاَذْھَبَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَنِّیْ۔ (مسند احمد: ۱۸۰۵۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عثمان بن ابی العاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! شیطان میرے اور میری نماز اور قراءت کے درمیان حائل ہوگیا ہے، آپ نے فرمایا: یہ شیطان ہے، اس کو خنزب کہتے ہیں، جب تو اسے محسوس کرے تو اس سے اللہ کی پناہ مانگ اور تین دفعہ اپنی بائیں جانب تھوک دے۔ انھوں نے کہا: پس میں نے یہ عمل کیا اور اللہ تعالیٰ نے مجھ سے یہ وسوسہ ختم کردیا۔