Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 33 · Chapter 346

نماز کو باطل کرنے والے اور اس میں مکروہ اور جائز امور کا بیان

نماز میں سبحان اللہ کہنے ، تالی بجانے اور اشارہ کے جواز کا بیان (نماز میں سلام کا جواب دینے کی بحث)

10 hadiths in this chapter

1938

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1938

Sahih

۔ (۱۹۳۸) عَنْ جَابِرٍ (بْنِ عَبْدِاللّٰہِ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَرْسَلَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ مُنْطَلِقٌ إِلٰی بَنِی الْمُصْطَلِقِ فَأَتَیْتُہُ وَھُوَ یُصَلِّیْ عَلٰی بَعِیْرِہ فَکَلَّمْتُہُ فَقَالَ بِیَدِہِ ھٰکَذَا، ثُمَّ کَلَّمْتُہُ فَقَالَ بِیَدِہِ ھَکَذَا، وَأَنَا أَسْمَعُہُ یَقْرَأُ وَیُومِیئُ بِرَأْسِہِ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: ((مَا فَعَلْتَ فِی الَّذِی أَرْسَلْتُکَ؟ فَإِنَّہُ لَمْ یَمْنَعْنِی إِلاَّ أَنِّی کُنْتُ أُصَلِّیْ۔)) (زَادَ فِی رِوَایَۃٍ) وَھُوَ مُوَجِّہٌ حِیْنَئِذٍ إِلَی الْمَشْرِقِ۔ (مسند احمد: ۱۴۶۹۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے (کسی کام کے لئے) بھیجا، جبکہ آپ خود بنو مصطلق کی طرف جارہے تھے، جب میں آپ کے پاس واپس آیا جبکہ آپ اونٹ پر نماز پڑھ رہے تھے، میں نے اسی حالت میں آپ سے بات کی، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا، میں نے پھر بات کرنا چاہی، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کر دیا، جبکہ میں سن رہا تھا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تلاوت کررہے تھے اور سر سے اشارہ کر رہے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فارغ ہوئے تو فرمایا: جس کام کیلئے میں نے تجھے بھیجا تھا، اس کا کیا بنا؟ مجھے بولنے سے روکنے والی چیز صرف یہ تھی کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔ اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مشرق کی طرف متوجہ تھے۔

1939

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1939

Sahih

۔ (۱۹۳۹) عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃَ الْفَجْرِ فَجَعَلَ یَہْوِی بِیَدِہِ قَالَ خَلَفٌ یَہْوِی فِی الصَّلاَۃِ قُدَّامَہُ، فَسَأَلَہُ الْقَوْمُ حِیْنَ انْصَرَفَ، فَقَالَ: ((إِنَّ الشَّیْطَانَ ھُوَ کَانَ یُلْقِیْ عَلَیَّ شَرَرَ النَّارِ لِیَفْتِنَنِی عَنْ صَلاَۃٍ، فَتَنَاوَلْتُہُ فَلَوْ أَخَذْتُہُ مَا انْفَلَتَ مِنِّیْ حَتّٰییُنَاطَ إِلٰی سَارِیَۃٍ مِنْ سَوَارِی الْمَسْجِدِ یَنْظُرُ إِلَیْہِ وِلْدَانُ أَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۳۱۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں نمازِ فجر پڑھائی، (عبدالرزاق اور خلف دونوں راویوں کے الفاظ کا اکٹھا مفہوم یہ ہے کہ) آپ نماز میں ہی اپنے سامنے اپنا ہاتھ جھکانے لگ گئے یا خود جھکنے لگ گئے۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فارغ ہوئے تو لوگوں نے ایسا کرنے کے بارے میں پوچھا،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بلاشبہ شیطان مجھ پر آگ کی چنگاریاں ڈال رہا تھا تاکہ مجھے میری نماز سے فتنے میں ڈال دے تو مجھے اسے پکڑنے کا خیال آیا اور اگر میں اسے پکڑ لیتا تو وہ مجھ سے نہ چھوٹ پاتا اور اسے مسجد کے کسی ستون کے ساتھ باندھ دیا جاتا اور اہل مدینہ کے بچے اس کی طرف دیکھتے۔

1940

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1940

Sahih

۔ (۱۹۴۰) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ صُہَیْبٍ صَاحِبِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَرَضِیَ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ: مَرَرْتُ بِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یُصَلِّی فَسَلَّمْتُ فَرَدَّ إِلَیَّ إِشَارَۃً وَقَالَ: لاَ أَعْلَمُ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ إِشَارَۃً بِإِصْبَعِہِ۔ (مسند احمد: ۱۹۱۳۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ صہیب نامی صحابی ٔ رسول ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے گزرا جبکہ آپ نماز پڑھ رہے تھے، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سلام کہا تو آپ نے اشارہ کر کے مجھ پر (سلام کا جواب) لوٹایا، راوی کہتا ہے: میں تو نہیں جانتا مگر یہی بات کہ انھوں نے انگلی کے ساتھ اشارہ کرنے کی بات کی تھی۔

1941

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1941

Sahih

۔ (۱۹۴۱) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قُلْتُ لِبِلاَلٍ: کَیْفَ کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَرُدُّ عَلَیْہِمْ حِیْنَ کَانُوا یُسَلِّمُونَ فِی الصَّلاَۃِ؟ قَالَ: کَانَ یُشِیْرُ بِیَدِہِ۔ (مسند احمد: ۲۴۳۸۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھا کہ لوگ جب نماز میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سلام کہتے تھے تو آپ کیسے جواب دیتے تھے؟ انھوں نے کہا: آپ اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے تھے۔

1942

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1942

Sahih

۔ (۱۹۴۲) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُشِیْرُ فِی الصَّلاَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۲۴۳۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز میں اشارہ کیا کرتے تھے۔

1943

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1943

Sahih

۔ (۱۹۴۳) عَنْ یَزِیْدَ بْنِ کَیْسَانَ اِسْتَأْذَنْتُ عَلٰی سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ وَھُوَ یُصَلِّیْ فَسَبَّحَ لِیْ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: إِنَّ إِذْنَ الرَّجُلِ إِذَا کَانَ فِی الصَّلَاۃِیُسَبِّحُ وَإِنَّ إِذْنَ الْمَرْأَۃِ أَنْ تُصَفِّقَ۔ (مسند احمد: ۷۸۸۰)

اردو ترجمہ · Urdu

یزید بن کیسان سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے سالم بن ابو جعد سے اجازت طلب کی جبکہ وہ نماز پڑھ رہے تھے، انہوں نے مجھے (جواباً)سبحان اللہ کہا، پھر جب سلام پھیرا تو کہا: جب مردنماز پڑھ رہا ہو تو اس کا اجازت دینایہ ہے کہ وہ سُبْحَانَ اللّٰہِ کہے اور عورت تالی بجائی۔

1944

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1944

Zaeef

۔ (۱۹۴۴) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنْتُ آتِی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَسْتَأْذِنُ فَاِنْ کَانَ فِیْ صَلاَۃٍ سَبَّحَ، وَإِنْ کَانَ فِیْ غَیْرِ صَلاَۃٍ أَذِنَ لِیْ۔ (مسند احمد: ۵۹۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا کرتا تھا، پس جب میں اجازت مانگتا اور آپ نماز میں ہوتے تو سبحان اللہ کہہ دیتے اور اگر نماز میں نہ ہوتے تو مجھے اجازت دے دیتے۔

1945

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1945

Sahih

۔ (۱۹۴۵) عَنْ جَابِرِ (بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ) قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((إِذَا أَنْسَانِیَ الشَّیْطَانُ شَیْئًا مِنْ صَلَاتِیْ فَلْیُسَبِّحِ الرِّجَالُ وَلْیُصَفِّقِ النِّسَائُ)) (مسند احمد: ۱۴۷۰۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب شیطان نماز سے کوئی چیز مجھے بھلا دے تو مرد سبحان اللہ کہیں اور عورتیں تالی بجائیں۔

1946

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1946

Sahih

۔ (۱۹۴۶) عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ نَابَہُ شَیْئٌ فِیْ صَلَاتِہِ فَلْیَقْلْ سُبْحَانَ اللّٰہِ،إِنَّمَا التَّصْفِیْقُ لِلنِّسَائِ وَالتَّسْبِیْحُ لِلرِّجَالِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۱۸۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا سہل بن سعد ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جسے نماز میں کوئی ضرورت پیش آجائے تو وہ سبحان اللہ کہے، تالی بجانا عورتوں کے لیے اور سبحان اللہ کہنا مردوں کے لیے ہے۔

1947

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1947

Sahih

۔ (۱۹۴۷) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلتَّسْبِیْحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِیْقُ لِلنِّسَائِ۔)) (مسند احمد: ۹۶۷۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ کہنا مردوں کے لئے اور تالی بجانا عورتوں کے لئے ہے۔