Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 33 · Chapter 341

نماز کو باطل کرنے والے اور اس میں مکروہ اور جائز امور کا بیان

نمازمیں ہنسنے، اِدھر اُدھر متوجہ ہونے، انگلیوں کے پٹاخے نکالنے اور ان میں تشبیک ڈالنے کا بیان

8 hadiths in this chapter

1906

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1906

Sahih

۔ (۱۹۰۶) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَوْصَانِیْ خَلِیْلِیْ بِثَلاَثٍ وَنَہَانِیْ عَنْ ثَلاَثٍ، أَوْصَانِیْ بِالْوِتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ، وَصِیَامِ ثَلاَثَۃِ أَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَہْرٍ، وَرَکْعَتَیْ الضُّحٰی۔ قَالَ: وَنَہَانِیْ عَنِ الإِْلْتِفَاتِ وَإِقْعَائٍ کَإِقْعَاِء الْقِرْدِ، وَنَقْرٍ کَنَقْرِالدِّیْکِ۔ (مسند احمد: ۷۵۸۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میرے خلیل ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے تین چیزوں کا حکم دیا اور تین چیزوں سے منع فرمایا، مجھے (حکم دیتے ہوئے) یہ وصیت فرمائی کہ میں سونے سے پہلے وتر پڑھ لوں، ہر ماہ میں تین روزے رکھوں اور چاشت کی دو رکعت پڑھا کروں۔ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے (نماز میں) اِدھر اُدھر متوجہ ہونے، بندر کے بیٹھنے کی طرح بیٹھنے اور مرغ کی طرح ٹھونگے مارنے سے منع کیا۔

1907

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1907

Zaeef

۔ (۱۹۰۷) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِہِ’ وَفِیْہِ وَنَہَانِیْ عَنْ نَقْرَۃٍ کَنَقْرَۃِ الدِّیْکِ، وَإِقْعَائٍ کَإِقْعَائِ الْکَلْبِ وَالْتِفَاتٍ کَالْتِفَاتِ الثَّعْلَبِ۔ (مسند احمد: ۸۰۹۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند)اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: اور آپ نے مجھے مرغ کی طرح ٹھونگے مارنے سے،کتے کی طرح بیٹھنے سے اور لومڑ کی طرح جھانکنے سے منع فرمایا۔

1908

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1908

Zaeef

۔ (۱۹۰۸) عَنْ سَہْلِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ کَانَ یَقُوْلُ: ((اَلضَّاحِکُ فِی الصَّلاَۃِ وَالْمُلْتَفِتُ وَالْمُفَقِّعُ أَصَابِعَہُ بِمَنْزِلَۃٍ وَاحِدۃٍ)) (مسند احمد: ۱۵۷۰۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا نماز میں ہنسنے والا،جھانکنے والا اور اپنی انگلیوں کے پٹاخے نکالنے والا ایک درجہ کے لوگ ہیں۔

1909

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1909

Sahih

۔ (۱۹۰۹) عَنْ أَبِی ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لاَ یَزَالُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ مُقْبِلاً عَلَی الْعَبْدِ فِیْ صَلاَتِہِ مَا لَمْ یَلْتَفِتْ، فَإِذَا صَرَفَ وَجْہَہُ اِنْصَرَفَ عَنْہُ)) (مسند احمد: ۲۱۸۴۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس وقت تک بندے کی نماز کی طرف متوجہ رہتے ہیں، جب تک وہ ادھر ادھر متوجہ نہیں ہوتا، پس جب وہ چہرہ پھیرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے پھر جاتے ہیں۔

1910

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1910

Sahih

۔ (۱۹۱۰) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: سَأَلْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ التَّلَفُّتِ فِی الصَّلاَۃِ فَقَالَ: ((اِخْتِلاَسٌ یَخْتَلِسُہُ الشَّیْطَانُ مِنْ صَلاَۃِ الْعَبْدِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۹۱۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے نماز میں جھانکنے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: یہ تواچکنا ہے، جسے شیطان بندے کی نماز سے اچک لیتا ہے۔

1911

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1911

Zaeef

۔ (۱۹۱۱) عَنْ أَبِیْ الدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مَرْفُوْعًا: ((یَاأَیُّہَا النَّاسُ! إِیَّاکُمْ وَالإِْلْتِفَاتَ فَإِنَّہُ لاَصَلاَۃَ لِلْمُلْتَفِتِ، فَإِنْ غُلِبْتُمْ فِی التَّطَوُّعِ فَلاَ تُغْلَبُنَّ فِی الْفَرَائِضِ)) (مسند احمد: ۲۸۰۴۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’اے لوگو! التفات سے بچو، کیونکہ التفات کرنے والے کی کوئی نماز نہیں ہے، اگر تم نفل نماز میں مغلوب ہوجاؤ (تو دیکھ لیا کرو) بہرحال فرائض میں ہرگز مغلوب نہ ہونا۔

1912

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1912

Sahih

۔ (۱۹۱۲) عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: دَخَلَ عَلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَسْجِدَ وَقَدْ شَبَّکْتُ بَیْنَ أَصَابِعِیْ، فَقَالَ لِیْ: ((یَاکَعْبُ! إِذَا کُنْتَ فِی الْمَسْجِدِ فَلاَ تُشَبِّکْ بَیْنَ أَصَابِعِکَ فَأَنْتَ فِی صَلاَۃٍ مَا انْتَظَرْتَ الصَّلاَۃَ)) (مسند احمد: ۱۸۳۱۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا کعب بن عجرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھ پر مسجد میں داخل ہوئے جبکہ میں نے اپنی انگلیوں کے درمیان تشبیک کی ہوئی تھی، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا: کعب! جب تو مسجد میں ہو تو اپنی انگلیوں کے درمیان تشبیک نہ ڈالا کر، کیونکہ جب تک تو نماز کی انتظار میں رہے گا، نماز میں ہی ہو گا۔

1913

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1913

Sahih

۔ (۱۹۱۳) عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لاَ یَتَطَہَّرُ رَجُلٌ فِیْ بَیْتِہِ ثُمَّ یَخْرُجُ لاَ یُرِیْدُ إِلاَّ الصَّلاَۃَ إِلاَّ کَانَ فِی صَلاَۃٍ حَتّٰییَقْضِیَ صَلاَتَہُ، وَلاَ یُخَالِفْ أَحَدُکُمْ بَیْنَ أَصَابِعِ یَدَیْہِ فِی الصَّلاَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۲۹۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا کعب بن عجرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی بھی گھر میں وضو کر کے صرف نماز کے لیے (مسجد کی طرف) نکلتا ہے تو وہ نماز میں ہی ہوتا ہے، جب تک نماز پوری نہیں کر لیتا، اور تم میں سے کوئی نماز میں اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کے درمیان مخالفت نہ کرے (یعنی تشبیک نہ ڈالے)۔