Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 33 · Chapter 340

نماز کو باطل کرنے والے اور اس میں مکروہ اور جائز امور کا بیان

نماز میں بال باندھنے، کنکریوں سے کھیلنے اور پھونکنے کا بیان

10 hadiths in this chapter

1896

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1896

Sahih

۔ (۱۸۹۶) عَنْ کُریْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ رَأیٰ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ الْحَارِثِ یُصَلِّیْ وَرَأْسُہُ مَعْقُوْصٌ مِنْ وَرَائِہٖفَقَامَوَرَائَہُوَجَعَلَیَحُلُّہُ وَأَقَرَّ لَہُ الْآخَرُ ثُمَّ اَقْبَلَ عَلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ: مَالَکَ وَرَأْسِیْ؟ قَالَ: إِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((إِنَّمَا مَثَلُ ھٰذَا کَمَثَلِ الَّذِیْیُصَلِّیْ وَھُوَ مَکْتُوْفٌ۔)) (مسند احمد: ۲۷۶۷)

اردو ترجمہ · Urdu

کریب کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عبد اللہ بن حارث کو اس حالت میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا کہ ان کے سر کے بال پیچھے سے بندھے ہوئے تھے، وہ ان کے بال کھولنے لگے اور انھوں نے بھی ان کو ایسا کرنے پر برقرار رکھا۔ لیکن وہ (نماز کے بعد) سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر متوجہ ہوئے اور کہا: آپ کو میرے سر کے ساتھ کیا تھا؟ انہوں نے کہا:میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جو شخص اس طرح کر کے نماز پڑھتا ہے، اس کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جو اس حال میں نماز ادا کرتا ہے کہ اس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہوں۔

1897

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1897

Sahih

۔ (۱۸۹۷) عَنْ أَبِیْ رَافِعٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ (مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) قَالَ: نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یُّصَلِّیَ الرَّجُلُ وَشَعْرُہُ مَعْقُوصٌ۔ (مسند احمد: ۲۷۷۲۶)

اردو ترجمہ · Urdu

مولائے رسول اللہ سیدنا ابو رافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ آدمی اس حال میں نماز پڑھے کہ اس کے بال باندھے ہوئے ہوں۔

1898

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1898

Sahih

۔ (۱۸۹۸) عَنْ عَلَیِّ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ الْمَعَاوِیِّ قَالَ صَلَّیْتُ إِلٰی جَنْبِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَلَبْتُ الْحَصٰی، فَقَالَ: لاَ تَقْلِبِ الْحَصٰی فَإِنَّہُ مِنَ الشَّیْطَانِ وَلٰکِنْ کَمَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَفْعَلُ، کَانَ یُحَرِّکُہُ ھٰکَذَا، قَالَ أَبُوْ عَبْدِاللّٰہِ یَعْنِی مَسْحَۃً۔ (مسند احمد: ۴۵۷۵)

اردو ترجمہ · Urdu

علی بن عبدالرحمن معاوی کہتے ہیں:میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پہلو میں نماز پڑھی اور نماز میں کنکریوں کو الٹ پلٹ کیا، انہوں نے کہا: کنکریوں کو الٹ پلٹ نہ کرو، کیونکہ ایسا کرنا شیطان کی طرف سے ہوتا ہے، البتہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس طرح حرکت دے لیتے تھے۔ امام ابو عبد اللہ احمد نے کہا: یعنی ایک دفعہ

1899

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1899

Zaeef

۔ (۱۸۹۹) عَنْ أَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا قَامَ أَحَدُکُمْ إِلَی الصَّلاَۃِ فَإِنَّ الرَّحَمْۃَ تُوَاجِہُہُ فَلاَ یَمْسَحِ الْحَصٰی (وَفِیْ رِوَایَۃ)ٍ فَلاَ یُحَرِّکِ الْحَصٰی، أَوْ لَا یَمَسََّ الْحَصٰی۔ (مسند احمد: ۲۱۶۵۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہو تو کنکریوں کو صاف نہ کرے یا ان کو حرکت نہ دے یا ان کو نہ چھوئے، کیونکہ رحمت اس کے سامنے ہوتی ہے۔

1900

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1900

Zaeef

۔ (۱۹۰۰) عَنْ جَاِبرِ بْنِِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ مَسْحِ الْحَصٰی فَقَالَ: ((وَاحِدَۃً، وَلَئِنْ تُمْسِکْ عَنْہَا خَیْرٌ لَّکَ مِنْ مِائَۃِ بَدَنَۃٍ کُلُّہَا سُوْدُ الْحَدَقَۃِ (زَادَفِیْ رِوَایَۃٍ) فَاِنْ غَلَبَ أَحَدَکُمُ الشَّیْطَانُ فَلْیَمْسَحْ مَسْحَۃً وَاحِدَۃً)) (مسند احمد: ۱۴۲۵۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کنکریوں کو چھونے کے بارے سوال کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک مرتبہ کر لو، اور اگر اس سے بھی رک جاؤ تو یہ تمہارے لیے سیاہ آنکھوں والے سو اونٹوں سے بہتر ہے اور اگر تم میں سے کسی پر شیطان غالب آ جائے تو وہ ایک دفعہ صاف کر لیا کرے۔

1901

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1901

Sahih

۔ (۱۹۰۱) عَنْ مُعَیْقِیْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قِیْلَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَسْحُ فِی الْمَسْجِدِ یَعْنِی الْحَصٰی فَقَالَ: ((إِنْ کُنْتَ لاَبُدَّ فَاعِلاً فَوَا حِدَۃً۔)) (مسند احمد: ۲۴۰۰۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا معیقیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا گیا کہ سجدہ گاہ میں کنکریوں کو چھونا کیسا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرضروری کرنا ہی ہو تو ایک دفعہ کر لیا کر۔

1902

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1902

Sahih

۔ (۱۹۰۲)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ فِی الرَّجُلِ یُسَوِّی التُّرَابَ حَیْثُیَسْجُدُ قَالَ: ((إِنْ کُنْتَ فَاعِلاً فَوَاحِدَۃً۔)) (مسند احمد: ۲۴۰۱۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) جو آدمی سجدے والی جگہ سے مٹی صاف کرتا ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: اگر تو نے کرنا ہی ہے تو ایک دفعہ کر لیا کر۔

1903

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1903

Sahih

۔ (۱۹۰۳) عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَنْصَاریِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنْتُ أُصَلِّیْ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الظُّہْرَ فَآخُذُ قَبْضَۃً مِنْ حَصًی فِیْ کَفِّیْ لِتَبْرُدَ حَتّٰی أَسْجُدَ عَلَیْہِ مِنْ شِدَّۃِ الْحَرِّ (وَفِیْرِوَایَۃٍ) فَأَجْعَلُہَا فِییَدِیَ الْأُخْرٰی حَتّٰی تَبْرُدَ مِنْ شَدَِّۃِ الْحَرِّ۔ (مسند احمد: ۱۴۵۶۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھتا تھا، گرمی کی شدت کی وجہ سے میں مٹھی بھر کنکریاں اپنی ہتھیلی میں پکڑ لیتا تاکہ وہ ٹھنڈی ہو جائیں اور پھر میں ان پر سجدہ کر سکوں۔ایک روایت میں ہے: گرمی کی شدت کی وجہ سے میں ان کو دو سر ے ہاتھ میں کرلیتا تاکہ وہ ٹھنڈی ہوجائیں۔

1904

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1904

Zaeef

۔ (۱۹۰۴) عَنْ أَبِیْ صَالِحٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلٰی أُمِّ سَلَمَۃَ (زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) فَدَخَلَ عَلَیْہَا ابْنُ أَخٍ لَھَا فَصَلّٰی فِی بَیْتِھَا رَکْعَتَیْنِ، فَلَمَّا سَجَدَ نَفَخَ التُّرَابَ، فَقَالَتْ لَہُ أُمُّ سَلَمَۃَ: اِبْنَ أَخِیْ! لاَ تَنْفُخْ، فَإِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ لِغُلَامٍ لَہُ یُقَالُ لَہُ یَسَارٌ وَنَفَخَ: ((تَرِّبْ وَجْہَکَ لِلّٰہِ)) (مسند احمد: ۲۷۱۰۷)

اردو ترجمہ · Urdu

ابو صالح کہتے ہیں: میں زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس گیا، جبکہ ان کے پاس ان کا ایک بھتیجا بھی آگیا تھا، اس نے ان کے گھر میں دو رکعت نماز پڑھی، جب اس نے سجدہ کیا تو مٹی کو پھونک ماری، سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے اسے کہا: بھتیجے! پھونک نہ مار، کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے یسارنامی غلام نے پھونک ماری اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا: اللہ کے لئے اپنے چہرے کو مٹی لگنے دے۔

1905

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1905

Sahih

۔ (۱۹۰۵) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو (ابْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَصِفُ صَلَاۃَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی کُسُوْفِ الشَّمْسِ قَالَ …… وَجَعَلَ یَنْفُخُ فِیْ الْأَرْضِ وَیَبْکِیْ وَھُوَ سَاجِدٌ فِیْ الرَّکْعَۃِ الثَّانِیْۃِ وَجَعَلَ یَقُوْلُ: ((رَبِّ لِمَ تُعَذِّبُہُمْ وَأَنَا فِیْہِمْ، رَبِّ لِمَ تُعَذِّبُنَا وَنَحْنُ نَسْتَغْفِرُکَ۔)) فَرَفَعَ رَأْسَہُ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، الحدیث۔ (مسند احمد: ۶۴۸۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سورج گرہن کے موقع پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کی کیفیت بیان کرتے کہا: … … پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوسری رکعت میں سجدے کی حالت میں زمین پر پھونک مارنا ، رونا اور یہ کہنا شروع کر دیا: رَبِّ لِمَ تُعَذِّبُہُمْ وَأَنَا فِیْہِمْ، رَبِّ لِمَ تُعَذِّبُنَا وَنَحْنُ نَسْتَغْفِرُکَ۔ (اے میرے ربّ! تو ان کو کیوں عذاب دیتا ہے، جب کہ میں ان میں موجود ہوں، تو ہمیں کیوں عذاب دیتا ہے، جبکہ ہم تجھ سے بخشش طلب کر رہے ہیں)۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سر اٹھایا تو سورج صاف ہو چکا تھا، …۔ الحدیث