Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 31 · Chapter 322

سلام کے ساتھ نماز سے خارج ہونے اور اس کے متعلقات کا بیان

امام کا مردوں کے ساتھ تھوڑی دیر تک ٹھہرنا تاکہ عورتیں نکل جائیں اور فرضی اور نفلی نمازوں کے درمیان باہر جانے یا کلام کرنے یا جگہ بدلنے کے ساتھ فاصلہ کرنا

4 hadiths in this chapter

1848

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1848

Sahih

۔ (۱۸۴۸) عَنْ أَمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا سَلَّمَ قَامَ النِّسَائُ حِیْنَیَقْضِیْ تَسْلِیْمَہٗ وَیَمْکُثُ فِیْ مَکَانِہِ یَسِیْرًا قَبْلَ أَنْ یَقُوْمَ۔ (مسند احمد: ۲۷۰۷۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب سلام پھیرتے تھے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سلام پھیرتے ہی عورتیں اٹھ کر چلی جاتیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اٹھنے سے پہلے اپنی جگہ میں تھوڑی دیر ٹھہرے رہتے۔

1849

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1849

Sahih

۔ (۱۸۴۹) (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) أَنَّ النِّسَائَ فِیْ عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا سَلَّمَ مِنَ الصَّلاَۃِ الْمَکْتُوْبَۃِ قُمْنَ وَثَبَتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَثَبَتَ مَنْ صَلّٰی ِمنَ الرِّجَالِ مَاشَائَ اللَّہُ، فَإِذَا قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَامَ الرِّجَالُ۔ (مسند احمد: ۲۷۲۲۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) عہدِ نبوی میں جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرض نماز سے سلام پھیرتے تو عورتیں کھڑی ہو کر چلی جاتیں اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے والے مرد بیٹھے رہتے،جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا، پھر جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوتے تو مرد بھی اٹھ جاتے تھے۔

1850

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1850

Sahih

۔ (۱۸۵۰) عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیْدَ قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ مُعَاوِیَۃَ بْنِ أَبِیْ سُفْیَانَ الْجُمْعَۃَ فِی الْمَقْصُوْرَۃِ، فَلَمَّا سَلَّمَ قُمْتُ فِیْ مَقَامِیْ فَصَلَّیْتُ، فَلَمَّا دَخَلَ أَرْسَلَ إِلَیَّ فَقَالَ: لاَ تَعُدْ لِمَا فَعَلْتَ، إِذَا صَلَّیْتَ الْجُمْعَۃَ فَلاَ تَصِلْہَا بِصَلاَۃٍ حَتّٰی تَتَکَلَّمَ أَوْ تَخْرُجَ، فَإِنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمَرَ بِذٰلِکَ، لَا تُوْصِلْ صَلاَۃً بِصَلاَۃٍ حَتّٰی تَخْرُجَ أَوْتَتَکَلَّمَ۔ (مسند احمد: ۱۶۹۹۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سائب بن یزید کہتے ہیں: میں نے سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ نماز جمعہ مقصورہ میں ادا کی، جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں اپنی جگہ میں ہی کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگا، جب وہ (اپنی منزل میں)داخل ہوئے تو مجھے بلا بھیجا، جب میں ان کے پاس گیا تو انھوں نے کہا: تو نے جو کچھ آج کیا، آئندہ اس طرح نہ کرنا، جب تو جمعہ کی نماز ادا کر لے تو اس کے ساتھ یعنی اس کے بعد کوئی نماز نہ پڑھ، جب تک تو کلام کر لے یا وہاں سے نکل جائے، کیونکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہی حکم دیا ہے کہ تو کسی (فرض) نماز کے ساتھ کوئی نماز نہ ملا، حتی کہ تو وہاں سے نکل جائے یا کلام کر لے۔

1851

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1851

Zaeef

۔ (۱۸۵۱) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَیَعْجِزُ أَحَدُکُمْ إِذَا صَلّٰی أَنْ یَّتَقَدَّمَ أَوْیَتَاخَّرَ أَوْ عَنْ یَمِیْنِہِ أَوْ عَنْ شِمَالِہِ۔)) (مسند احمد: ۹۴۹۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیاتم اس سے عاجز آگئے ہو کہ (فرض) نماز پڑھنے کے بعد آگے یا پیچھےیا دائیں یا بائیں ہو جاؤ (اور پھر اگلی نماز پڑھو)۔