Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 27 · Chapter 282

نمازی کے آگے سترہ رکھنے او راس کے پیچھے سے گزرنے کا حکم

نماز میں بلند آواز سے قراء ت کرنے کی ممانعت، جب وہ دوسرے نمازی پر (قراء ت) گڈ مڈ کر رہا ہو

6 hadiths in this chapter

1586

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1586

Sahih

۔ (۱۵۸۶) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَھٰی أَنْ یَرْفَعَ الرَّجُلُ صَوْتَہُ بِا لْقِرَائَ ۃِ قَبْلَ الْعِشَائِ وَبَعْدَھَا یُغَلِّطُ أَصْحَابَہُ وَہُمْ یُصَلُّوْنَ۔ (مسند احمد: ۶۶۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے منع فرمایا کہ آدمی عشاء سے پہلے اور اس کے بعد بلند آواز سے قراءت کرے اور نماز پڑھنے والے ساتھیوں کو غلطیوں میں ڈال دے۔

1587

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1587

Sahih

۔ (۱۵۸۷) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُوْلَ اللَّہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَھٰی أَنْ یَجْہَرَ الْقَوْمُ بَعْضُہُمْ عَلٰی بَعْضٍ بَیْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ بِالْقُرْآنِ ۔ (مسند احمد: ۷۵۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند)رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے منع فرمایاکہ لوگ مغرب اور عشا کے درمیان ایک دوسرے پر قرآن کی بلند آواز سے قراءت کریں۔

1588

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1588

Sahih

۔ (۱۵۸۸) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِعْتَکَفَ وَخَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ: ((أَمَا إِنَّ أَحَدَ کُمْ إِذَا قَامَ فِی الصَّلَاۃِ فَإِنَّہُ یُنَاجِیْ رَبَّہُ فَلْیَعْلَمْ أَحَدُ کُمْ مَا یُنَاجِی رَبَّہُ وَلَا یَجْہَرْ بَعْضُکُمْ عَلٰی بَعْضٍ بِالْقِرَائَۃِ فِی الصَّلَاۃِ)) (مسند احمد: ۴۹۲۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اعتکاف بیٹھے ہوئے تھے اور لوگوں کو ایک خطبہ دیا، جس میں یہ بھی فرمایا: خبر دار!یقینا جب تم میں سے کوئی نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کر رہا ہوتا ہے، اس لیے اسے چاہیے کہ وہ اس سرگوشی (کے کلمات) کو سمجھے جو وہ اپنے رب سے کر رہا ہوتا ہے، اور (یہ بھی یاد رکھو کہ) کوئی بھی نماز میں قراءت کی آواز کو دوسروں پر بلند نہ کرے۔

1589

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1589

Zaeef

۔ (۱۵۸۹) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ حُذَافَۃَ السَّہْمِیَّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَامَ یُصَلِّیْ فَجَہَرَ بِصَلَاتِہِ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا ابْنَ حُذَافَۃَ! لَا تُسْمِعْنِی وَأَسْمِعْ رَبَّکَ عَزَّ وَ جَلَّ۔)) (مسند احمد: ۸۳۰۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن حذافہ سہمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نماز پڑھ رہے تھے اور بلند آواز سے قراءت کر رہے تھے، نبی ٔ کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو فرمایا: ابن حذافہ! مجھے نہ سناؤ، اپنے رب کو سناؤ۔

1590

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1590

Sahih

۔ (۱۵۹۰) عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اِعْتَکَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَمِعَہُمْ یَجْہَرُوْنَ بِالْقِرائَ ۃِ وَھُمْ فِی قُبَّۃٍ لَھُمْ فَکَشَفَ السُّتُورَ وَقَالَ: ((أَلاَ إِنَّ کُلَّکُمْ مُنَاجٍ رَبَّہُ فَلَا یُؤْذِیَنَّ بَعْضُکُمْ بَعْضًا وَلاَ یَرْفَعَنَّ بَعْضُکُمْ عَلٰی بَعْضٍ بِا لْقِرَائَ ۃِ أَوْقَالَ فِی الصَّلَاۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۹۱۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اعتکاف میں تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کو سنا کہ وہ بلند آوازسے قراءت کر رہے تھے، جبکہ وہ ایک خیمے میں تھے، آپ نے پردے ہٹائے او رفرمایا: خبر دار! یقینا تم میں سے ہر شخص اپنے رب سے سر گوشی کرنے والا ہے، اس لیے کوئی کسی کو تکلیف نہ دے اور کوئی بھی دوسرے کے پاس نماز میں بلند آواز سے قراءت نہ کرے۔

1591

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1591

Sahih

۔ (۱۵۹۱) عَنِ الْبَیَاضِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرَجَ عَلَی النَّاسِ وَھُمْ یُصَلُّوْنَ وَقَدْ عَلَتْ أَصْواتُہُمْ بِالْقِرَائَ ۃِ فَقَالَ: ((إِنَّ الْمُصَلِّیَیُنَاجِیْ رَبَّہُ عَزَّ وَجَلَّ فَلْیَنْظُرْ مَا یُنَا جِیْہِ، وَلَا یَجْہَرْ بَعْضُکُمْ عَلَی بَعْضٍ بِالْقُرْآنِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۲۳۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا بیاضی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں کے پاس تشریف لائے، جبکہ وہ نماز پڑھ رہے تھے او ر ان کی آوازیں قراءت کے ساتھ بلند ہورہی تھیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یقینا نمازی اپنے رب تعالیٰ سے سرگوشی کرتا ہے، اس لیے وہ اس ذات سے جو سرگوشی کر رہا ہوتا ہے اس میں غور کرے اور کوئی بھی کسی پر بآواز بلند قرآن کی تلاوت نہ کرے۔