Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 27 · Chapter 281

نمازی کے آگے سترہ رکھنے او راس کے پیچھے سے گزرنے کا حکم

مقتدی کی قراء ت اور جب اپنے امام کو سنے تو اس کے خاموش ہونے کا بیان

9 hadiths in this chapter

1577

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1577

Sahih

۔ (۱۵۷۷) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہِ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّمَا جُعِلَ الإِْ مَامُ لِیُؤْتَمَّ بِہِ، فَإِذَا کَبَّرَ فَکَبِّرُوْا، وَأِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوْا۔)) (مسند احمد: ۹۴۲۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: امام صرف اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے، پس جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو اور جب وہ قراءت کرے تو تم خاموش رہو۔

1578

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1578

Sahih

۔ (۱۵۷۸) وَعَنْ أَبِیْ مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہُ۔ (مسند احمد: ۱۹۹۶۱)

اردو ترجمہ · Urdu

اور ابو موسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی طرح روایت بیان کرتے ہیں ۔

1579

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1579

Sahih

۔ (۱۵۷۹) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللَّہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی صَلَاۃً جَہَرَ فِیْہَا بِالْقِرَائَ ۃِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَی النَّاسِ بَعْدَ مَا سَلَّمَ فَقَالَ: ((ھَلْ قَرَأَ مِنْکُمْ أَحَدٌ مَعِیْ آنِفًا؟)) قَالُوْا: نَعَمْ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((إِنِّیْ أَقُوْلُ مَالِیْ أُنَازَعُ الْقُرْآنَ۔)) فَانْتَھَی النَّاسُ عَنِ الْقِرَائَ ۃِ مَعَ رَسَوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْمَا یَجْھَرُ بِہِ مِنْ الْقِرَائَ ۃِ حَیْنَ سَمِعُوْا ذٰلِکَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۷۸۰۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک نماز پڑھائی جس میں آپ نے بلند آواز سے قراءت کی، سلام پھیرنے کے بعد لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا: کیا ابھی تم میں سے کسی نے میرے ساتھ قراءت کی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تبھی تومیں کہتا تھاکہ مجھے کیا ہو گیاہے، مجھ سے قرآن کھینچا جا رہا ہے (یعنی قرآن مجھ سے جھگڑا کر رہا ہے اور اختلاط کی وجہ سے پڑھا نہیں جا رہا)۔ جب لوگوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ حدیث سنی تو وہ ان نمازوں میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تلاوت کرنے سے باز آ گئے، جن میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بلند آواز سے قراءت کرتے تھے۔

1580

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1580

Sahih

۔ (۱۵۸۰) عَنْ عَبِدِاللّٰہِ بْنِ بُحَیْنَۃَ رَضِیَ اللّٰہِ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ ۔ (مسند احمد: ۲۳۳۱۰)

اردو ترجمہ · Urdu

عبد اللہ بن بحینہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی طرح کی روایت بیان کرتے ہیں۔

1581

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1581

Sahih

۔ (۱۵۸۱) عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِیْ عَائِشَۃَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَعَلَّکُمْ تَقْرَئُ وْنَ خَلْفَ الإِْمَامِ وَالإِْمَامُ یَقْرأُ؟)) قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّا لَنَفْعَلُ، قَالَ: فَـلَا تَفْعَلُوْا، إِلاَّ أَنْ یَقْرَأَ أَحَدُ کُمْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ أَوْقَالَ فَاتِحَۃِ الْکِتَابِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۸۷۶)

اردو ترجمہ · Urdu

محمد بن ابی عائشہ نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ میں سے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں: انہوں نے فرمایا: نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شاید امام پڑھ رہا ہوتا ہے تو تم امام کے پیچھے قراءت کرتے ہو؟ وہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! ہم تو ضرور (قراءت)کرتے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی ایک ام القرآن یا فرمایا: فاتحۃ الکتاب کے پڑھنے کے علاوہ (قراءت نہ کرو)۔

1582

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1582

Sahih

۔ (۱۵۸۲) وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ أَبِیْ قَتَادَۃَ عَنْ أَبِیْہِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہُ ۔ (مسند احمد: ۲۲۹۲۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عبد اللہ بن ابی قتادہ اپنے باپ سے وہ نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔

1583

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1583

Sahih

۔ (۱۵۸۳) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ (بْنِ مَسْعُودٍ) رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: کَانُوْا یَقْرَئُ وْنَ خَلْفَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((خَلَطْتُّمْ عَلَیَّ الْقُرْآنَ۔)) (مسند احمد: ۴۳۰۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدناعبد اللہ (بن مسعود) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: لوگ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے قراءت کرتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو فرمایا: تم نے مجھ پر قرآن کو خلط ملط کردیاہے۔

1584

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1584

Sahih

۔ (۱۵۸۴) عَنْ کَثِیْرِ بْنِ مُرَّۃَ الْحَضْرَمِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَاالدَّرْدَائِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُوْلُ: سَأَلْتُ رَسُوْلَ اللَّہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : أَفِیْ کُلِّ صَلَاۃٍ قِرَائَ ۃٌ؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَ نْصَارِ: وَجَبَتْ ھٰذِہٖ،فَالْتَفَتَ إِلَیَّ أَبُوْ الدَّرْداَئِ وَکُنْتُ أَقْرَبَ الْقَوْمِ مِنْہُ فَقَالَ: یَا ابْنَ أَخِیْ مَا أَرَی الإِْمَامَ إِذَا أَمَّ الْقَوْمَ إِلاَّ قَدْ کَفَاھُمْ۔ (مسند احمد: ۲۸۰۸۰)

اردو ترجمہ · Urdu

کثیر بن مرۃ حضرمی کہتے ہیں: سیّدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا کہ کیا ہر نماز میں قراءت ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں ایک انصاری آدمی کہنے لگا: اب یہ (قراءت تو)واجب ہوگئی ہے۔ لیکن سیّدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میری طرف متوجہ ہوئے، جبکہ میں لوگوں میں سب سے زیادہ ان کے قریب تھا اور کہا:میرے بھتیجے! میرا خیال تو یہ ہے کہ جب امام لوگوں کی امامت کرواتا ہے تو (قراءت میں بھی) وہی ان کو کفایت کرتا ہے۔

1585

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1585

Sahih

۔ (۱۵۸۵) عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الظُّہْرَ فَقَرَأَ رَجُلٌ خَلْفَہُ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْأَ عْلٰی، فَلَمَّا صَلّٰی قَالَ: ((أَیُّکُمْ قَرَأَ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْأَعَلٰی؟)) فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا، قَالَ: ((قَدْ عَرَفْتُ أَنَّ بَعْضَکُمْ خَالَجَنِیْہَا۔)) (مسند احمد: ۲۰۰۵۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز ظہر پڑھائی ،ایک آدمی نے آپ کے پیچھے سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْأَعْلٰی۔ سورت کی تلاوت کی ،جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز پڑھ لی تو پوچھا: تم میں سے کس نے سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْأَ عْلٰی۔ پڑھی ہے؟ اس آدمی نے کہا: میں نے( پڑھی ہے)، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے پہچان لیا تھا کہ تم میں سے کسی نے مجھ پر اس (کی قراءت) کو الجھا دیا ہے۔