Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 27 · Chapter 277

نمازی کے آگے سترہ رکھنے او راس کے پیچھے سے گزرنے کا حکم

دعائے استفتاح اور قراء ت سے پہلے تعوذ کا بیان

8 hadiths in this chapter

1551

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1551

Zaeef

۔ (۱۵۵۱) عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا قَامَ مِنَ اللَّیْلِ وَاسْتَفْتَحَ صَلَاتَہُ وَکَبَّرَ قَالَ: ((سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ تَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالٰی جَدُّکَ وَلَا إِلٰہَ غَیْرُکَ۔)) ثُمَّ یَقُوْلُ لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ ثَـلَاثًا ثُمَّ یَقُوْلُ أَعُوْذُ بِاللّٰہِ السَّمِیْعِ الْعَلَیْمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ مِنْ ھَمْزِہِ وَنَـفْخِہِ ثُمَّ یَقُوْلُ اَللّٰہُ أَکْبَرُ ثَـلَاثًا ثُمَّ یَقُوْلُ أَعُوذُ بِاللّٰہِ السَّمِیْعِ الْعَلِیْمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ مِنْ ھَمْزَہِ وَنَفْخِہِ وَنَفْثِہِ۔ (مسند احمد: ۱۱۴۹۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کو قیام کرتے اور اپنی نماز شروع کرتے تواللہ اکبر کہہ کر یہ دعا پڑھتے: سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ تَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالٰی جَدُّکَ وَلَا إِلٰہَ غَیْرُکَ۔ پھر تین مرتبہ لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللَّہُ کہتے، پھر أَعُوْذُ بِاللَّہِ السَّمِیْعِ الْعَلِیْمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ مِنْ ھَمْزِہٖوَنَفْخِہٖ پڑھتے،پھرتین مرتبہ اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہتے اور پھر یہ پڑھتے: أَعُوْذُ بِاللَّہِ السَّمِیْعِ الْعَلِیْمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ مِنْ ھَمْزِہٖوَنَفْخِہٖ وَنَفَثِہٖ۔ دعاؤں کا ترجمہ: اےاللہ! تو پاک ہے اورتیری حمد کے ساتھ،تیرا نام برکت والا ہے، تیری شان بلند ہے اور تیرے علاوہ کوئی معبودنہیں ہے ۔ نہیں ہے معبودِ برحق مگر اللہ۔ میں اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتا ہوں، جو بہت سننے والا اور بہت جاننے والا ہے، شیطان مردود سے اور اس کے جنون او ر تکبر سے۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔ میں بہت سننے والے اور بہت جاننے والے اللہ کی پناہ طلب کرتا ہوں شیطان مردود سے اور اس کے جنون، اور اس کے تکبر اور اس کے شعر سے ۔

1552

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1552

Sahih

۔ (۱۵۵۲) عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَ الْبَاھِلِیِّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: کَانَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا قَامَ إِلَی الصَّلَاۃِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ إِذَا دَخَلَ فِی الصَّلَاۃِ مِنَ اللَّیْلِ) کَبَّرَ ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ، وَسُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ أَعُوذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ مِنْ ھَمْزِہِ وَنَفْخِہِ وَنَفْثِہِ۔ (مسند احمد: ۲۲۵۳۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابوامامہ باہلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب رات کو نماز کے لیے کھڑے ہوتے اور نماز میں داخل ہوتے تو تین دفعہ اللّٰہ اکبر، تین دفعہ لاا لہ الا اللّٰہ اورتین مرتبہ سبحان اللّٰہ وبحمدہ پھر یہ پڑھتے: أعوذ باللہ من الشیطان الرجیم من ہمزہ ونفخہ ونفثہ۔

1553

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1553

Sahih

۔ (۱۵۵۳) عَنْ نَافِعٍ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ فِی التَّطَوُّعِ: اَللّٰہُ أَکْبَرُ کَبِیْرًا ثَـلَاثَ مِرَارٍ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْرًا ثَـلَاثَ مِرَارٍ وَسُبْحَانَ اللّٰہِ بُکْرَۃً وَأَصِیْلاًثَـلَاثَ مِرَارٍ، اللّٰہُمَّ إِنْیْ أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ مِنْ ھَمْزِہِ وَنَفْثِہِ وَنَفْخِہِ۔ قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا ھَمْزُہُ وَنَفْثُہُ وَنَفْخُہُ؟ قَالَ أَمَّا ھَمْزُہُ فَالْمُؤْتَۃُ الَّتِی تَأْخُذُ ابْنَ آدَمَ (وَفِی رِوَایَۃٍ قَالَ فَذَکَرَ کَہَیْئَۃِ الْمُوْتَۃِیَعْنِییُصْرَعُ) وَأَمَّا نَفْخُہُ الْکِبْرُ وَنَفْثُہُ الشِّعْرُ۔ (مسند احمد: ۱۶۸۶۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا جبیر بن مطعم کہتے ہیں: میں نے سنا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نفل نماز میں تین مرتبہ اَللَّہُ اَکْبَرُ کَبِیْرًا ،تین مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْرًا اور تین مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰہِ بُکْرَۃً وَّأَصِیْلاً پڑھا اور پھر یہ کہا: أَعُوْذُ بِاللَّہِ السَّمِیْعِ الْعَلِیْمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ مِنْ ھَمْزِہٖ وَنَفْثِہٖ ونَفْخِہٖ۔ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! اس کے ھَمْز ، نَفْث اور نَفْخ سے کیا مراد ہے؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ھَمْز سے مراد جنون اور دیوانگی ہے، جو آدم کے بیٹے پر طاری ہو جاتی ہے، پھراس جنون کی کیفیت ذکر کی، جس میں وہ بے ہوش ہو کر گر جاتا ہے ، اور اس کے نفخ سے مراد تکبر اور نفث سے مراد شعر ہے۔

1554

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1554

Sahih

۔ (۱۵۵۴) عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ: بَیْنَا نَحْنُ نُصَلِّیْ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَ قَالَ رَجُلٌ فِی الْقَوْمِ: اَللّٰہُ أَکْبَرُ کَبِیْرًا، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْرًا، وَسُبْحَانَ اللّٰہِ بُکْرَۃً وَأَصِیْلًا۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنِ الْقَائِلُ کَذَا وَکَذَا؟)) فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَنَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((عَجِبْتُ لَھَا، فُتِحَتْ لَھَا أَبْوَابُ السَّمَآئِ۔)) قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَمَا تَرَکْتُہُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُذَلِکَ۔ (مسند احمد: ۴۶۲۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے، اچانک ایک آدمی نے یہ کلمات کہے: اَللّٰہُ اَکْبَرُکَبِیْرًا وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْرًا وَسُبْحَانَ اللّٰہِ بُکْرَۃً وَّأَصِیْلاً۔ (اللہ سب سے بڑا ہے، بہت بڑا۔ ساری تعریف اس کی ہے، جو بہت زیادہ ہے۔ وہ پاک ہے، صبح و شام ہم اس کی پاکی بیان کرتے ہیں۔) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: یہ الفاظ کہنے والا کون تھا؟ ایک آدمی نے جواب دیا: اے اللہ کے رسول! میں تھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے ان کلمات پر بڑا تعجب ہواکہ ان کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے گئے ہیں۔ ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب سے میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے میں نے ان کلمات کو ترک نہیں کیا۔

1555

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1555

Sahih

۔ (۱۵۵۵) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا أَنَّ رَجُلًا قَالَ ذَاتَ یَوْمٍ وَدَخَلَ الصَّلَاۃَ: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ مِلْئَ السَّمٰوَاتِ وَسَبَّحَ وَدَعَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَائِلُہُنَّ؟)) فَقَالَ الرَّجُلُ: أَنَا، فَقَالَ النَّبِیُّ : ((لَقَدْ رَأَیْتُ الْمَلَائِکَۃَ تَلَقّٰی بِہِ بَعْضُہُمْ بَعْضًا۔)) (مسند احمد: ۶۶۳۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی ایک دن نماز میں داخل ہوا اور اس نے یہ کلمات کہے: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ مِلْء السَّمٰوَاتِ اور مزید تسبیح بیان کی اور دعا کی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ کلمات پڑھنے والا کون شخص تھا؟ اس نے کہا: میں تھا ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : یقینا میں نے فرشتوں کو دیکھا کہ وہ ایک دوسرے کو یہ کلمات لیتے دیتے ہوئے (جا رہے تھے)۔

1556

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1556

Zaeef

۔ (۱۵۵۶) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِی أَوْفٰی رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ وَ نَحْنُ فِی الصَّفِّ خَلْفَ رَسُوْلِ اللہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقَالَ : اَللَّہُ اَکْبَرُکَبِیْرًاوَسُبْحَانَ اللَّہِ بُکْرَۃً وَّأَصِیْلًا ، قَالَ فَرَفَعَ الْمُسْلِمُوْنَ رُءُ وْسَھُمْ وَاسْتَنْکَرُوا الرَّجُلَ وَقَالُوْا : مَنِ الَّذِی یَرْفَعُ صَوْتَہُ فَوْقَ صَوْتِ رَسُوْلِ اللہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُوْلِ اللہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ : ((مَنْ ھٰذَا الْعَالِی الصَّوْتِ ؟)) فَقِیْلَ : ھُوَ ذَا یَا رَسُوْلَ اللہِ ! فَقَالَ : ((وَ اللہِ لَقَدْ رَأَیْتُ کَلَامَکَ یَصْعَدُ فِی السَّمَاءِ حَتَّی فُتِحَ بَابٌ فَدَخَلَ فِیْہِ ۔)) (مسند احمد : ۱۹۳۴۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عبد اللہ بن ابی اوفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اقتدا میں صف میں کھڑے تھے کہ ایک آدمی آکر کہنے لگا: اَللَّہُ اَکْبَرُکَبِیْرًاوَسُبْحَانَ اللَّہِ بُکْرَۃً وَّأَصِیْلًا۔ (اللہ سب سے بڑا ہے، بہت بڑا۔ وہ پاک ہے، صبح و شام ہم اس کی پاکی بیان کرتے ہیں۔)، مسلمانوں نے (اس کی طرف) اپنے سر اٹھائے اور اس کو برا سمجھا اور کہنے لگے: کون ہے جو اپنی آواز رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آواز سے بلند کر رہا ہے؟ لیکن جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فارغ ہوئے تو آپ نے پوچھا: یہ آواز بلند کرنے والا کون تھا؟ جواب دیا گیا کہ اے اللہ کے رسول! وہ یہ ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : اللہ کی قسم میں نے تیرا کلام آسمان میں چڑھتے ہوئے دیکھا ہے حتیٰ کہ اس کے لیے ایک دروازہ کھول دیا گیا اور وہ اس میں داخل ہو گیا۔

1557

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1557

Sahih

۔ (۱۵۵۷) عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ عَنْ أَبِیْہِ وَائِل بْنِ حُجْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ رَجُلٌ: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْرًا طَیِّبًا مُّبَارَکًا فِیْہِ، فَلَمَّا صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنِ الْقَائِلُ؟)) قَالَ الرَّجُلُ: أَنَا یَارَسُوْلَ اللَّہِ! وَمَا أَرَدْتُ إِلاَّ الْخَیْرَ، فَقَالَ: ((لَقَدْ فُتِحَتْ لَھَا أَبْوَابُ السَّمَائِ فَلَمْ یُنَہِّہَا دُونَ الْعَرْشِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۰۶۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا وائل بن حجر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، ایک آدمی نے کہا: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْرًا طَیِّبًا مُّبَارَکًا فِیْہِ۔ (ساری تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، جو بہت زیادہ، پاکیزہ اور بابرکت ہے۔) ۔جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز پڑھ لی تو پوچھا: یہ کلمات کہنے والا کون ہے؟ اس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ہوں اور میرا ارادہ صرف خیر کا تھا۔آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یقینا ان (کلمات) کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے گئے اور کسی چیز نے عرش سے پہلے ان کو نہیں روکا۔

1558

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1558

Sahih

۔ (۱۵۵۸) عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا کَبَّرَ اِسْتَفْتَحَ ثُمَّ قَالَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ کَانَ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاۃَیُکَبِّرُ ثُمَّ یَقُوْلُ): ((وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ، إِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ لَا شَرِیْکَ لَہُ وَبِذَالِکَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ، قَالَ أَبُو النَّضْرِ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ، أَللّٰہُمَ لَا إِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ اللّٰہُمَّ أنْتَ الْمَلِکُ لَا إِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ) رَبِّیْ وَأَنَا عَبْدُکَ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَاعْتَرَفْتُ بَذَنْبِیْ فَاغْفِرْلِیْ ذُنُوبِیْ جَمِیْعًا لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ إِلاَّ أَنْتَ وَاھْدِنِیْ لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقَ لَا یَہْدِیْ لِأَحْسَنِہَا إِلاَّ أَنْتَ وَاصْرِفْ عَنِّیْ سَیِّئَہَا لَا یَصْرِفُ عَنِّیْ سَیِّئَہَا إِلاَّ أنْتَ تَبَارَکْتَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ لَبَّیْکَ وَسَعْدَ یْکَ وَالْخَیْرُ کُلُّہٗفِیْیَدَیْکَ وَالشَّرُّ لَیْسَ إِلَیْکَ اَنَا بِکَ وَإِلَیْکَ تَبَارَکْتَ) وَتَعَالَیْتَ أَسْتَغْفِرُکَ وَأَتُوْبُ إِلَیْکَ۔)) وَکَانَ إِذَارَفَعَ قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ لَکَ رَکَعْتُ وَبِکَ آمَنْتُ وَلَکَ أَسْلَمْتُ خَشَعَ لَکَ سَمْعِیْ وَبَصَرِیْ وَمُخِّیْ وَعِظَامِیْ وَعَصَبِیْ۔)) وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرَّکْعَۃِ قَالَ: ((سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمْدَہُ، رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ مِلْئَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَیْنَہُمَا وَمِلْئَ مَاشِئْتَ مِنْ شَیْئٍ بَعْدُ۔)) وَإِذَا سَجَدَ قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ لَکَ سَجَدْتُّ وَبِکَ آمَنْتُ وَلَکَ أَسْلَمْتُ سَجَدَ وَجِھِیَ لِلَّذِیْ خَلَقَہُ فَصَوَّرَہُ فَأَحْسَنَ صُوَرَۃُ فَشَقَّ سَمْعَہُ وَبَصَرَہُ فَتَبَارَکَ اللّٰہُ أَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ، فَإِذَا سَلَّمَ مِنَ الصَّلَاۃِ قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَاأَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِہٖمِنِّیْ أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ۔)) (مسند احمد: ۷۲۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب تکبیر کہتے تو (نماز) شروع کرتے پھر کہتے (اور ایک روایت میں ہے : جب نماز شروع کرتے تو تکبیر کہتے پھر کہتے :وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ، إِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ لَا شَرِیْکَ لَہُ وَبِذَالِکَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ ، ابو نضر کہتے ہیں : وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ، أَللّٰہُمَ لَا إِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ ، اور ایک روایت میں ہے : اَللّٰہُمَّ أَنْتَ الْمَلِکُ لَا إِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ رَبِّیْ وَأَنَا عَبْدُکَ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِیْ فَاغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ جَمِیْعًا لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ إِلاَّ أَنْتَ وَاہْدِنِیْ لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا یَہْدِیْ لِأَحْسَنِہَا إِلاَّ أَنْتَ وَاصْرِفْ عَنِّیْ سَیِّئَہَا لَا یَصْرِفُ عَنِّیْ سَیِّئَہَا إِلاَّ أَنْتَ تَبَارَکْتَ۔ اور ایک روایت میں ہے: لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ وَالْخَیْرُ کُلُّہٗ فِیْ یَدَیْکَ وَالشَّرُّ لَیْسَ إِلَیْکَ أَنَا بِکَ وَاِلَیْکَ تَبَارَکْتَ) وَتَعَالَیْتَ اَسْتَغْفِرُکَ وَأَتُوْبُ إِلَیْکَ۔ اس دعا کا ترجمہ: میں نے اس ذات کے لیے اپنا چہرہ متوجہ کیا،جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اس حال میں کہ میں یکسو مسلمان ہوں اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ یقینا میری نماز ، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت اس اللہ کے لیے ہے، جو جہانوں کا پروردگار ہے، اور جس کا کوئی شریک نہیں،مجھے اسی چیز کا حکم دیا گیا ہے اور میں مسلمانوں میں سے ہوں۔ابونضر کے الفاظ یہ ہیں: اور میں پہلا مسلمان ہوں، اے اللہ تیرے علاوہ کوئی معبودنہیں، ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: اے اللہ تو ہی بادشاہ ہے، تیرے علاوہ کوئی الہ نہیں، تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں، میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے اور میں نے اپنے گناہ کا اعتراف کیا ہے اس لیے تو میرے سارے گناہ بخش دے، تیرے علاوہ گناہوں کو کوئی نہیں بخشتا اور اچھے اخلاق کی طرف میری راہنمائی فرما، تیرے علاوہ اچھے اخلاق کی طرف کوئی رہنمائی نہیں کرتا اور مجھ سے برے اخلاق دور کر دے،تیرے علاوہ کوئی بھی برے اخلاق کو مجھے سے دور نہیں کر سکتا، تو بابرکت ہے، اور ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں:میں تیرے لیے حاضر ہوں اور تیرا تابع فرمان ہوں، خیر ساری کی ساری تیرے ہاتھوں میں ہے اور شر تیری طرف نہیں ہے، میں تیرے ساتھ اور تیری طرف ہوں (یعنی مجھے توفیق دینے والا بھی تو ہے اور میری پناہ بھی تیری طرف ہے) تو بابرکت اور بلند ہے، میں تجھ سے بخشش مانگتا ہوں اور تیری طرف توجہ کرتا ہوں۔ اور جب رکوع کرتے تو کہتے: اَللّٰہُمَّ لَکَ رَکَعْتُ وَبِکَ آمَنْتُ وَلَکَ أَسْلَمْتُ خَشَعَ لَکَ سَمْعِيْ وَبَصَرِیْ وَمُخِّيْ وَعِظَامِیْ وَعَصَبِیْ۔ اے اللہ! میں نے تیرے ہی لیے رکوع کیا، تیرے ساتھ ایمان لایا، تیرے لیے ہی مسلمان ہوا، تیرے لیے عاجزی کر رہے ہیں میرا کان، میری نظر، میرا مغز، میری ہڈیاں اور میرا پٹھا۔ اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو کہتے : سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ،رَبَّنَاوَلَکَ الْحَمْدُ مِلْء السَّمٰوَا تِ وَالْأَرْضِ وَمَابَیْنَہُمْا وَمِلْءَ مَاشِئْتَ مِنْ شَئْ ٍبَعْدُ۔ اللہ نے اس کو سن لیا جس نے اس کی تعریف کی، اے ہمارے رب!تیرے لیے ہی تعریف ہے، آسمانوں اور زمین اور ان دونوں کے (درمیان والا خلا) بھرنے کے برابر اور ان کے بعد جس کو تو چاہے اس کے بھرنے کے برابر۔ اور جب سجدہ کرتے تو کہتے: اَللّٰہُمَّ لَکَ سَجَدْتُّ وَبِکَ آمَنْتُ وَلَکَ أَسْلَمْتُ سَجَدَ وَجْہِیَ لِلَّذِیْ خَلَقَہٗ فَصَوَّرَہٗفَأَحْسَنَ صُوَرَہٗفَشَقَّ سَمْعَہٗ وَبَصَرَہٗ فَتَبَارَکَاللّٰہُ أَحْسَنُ الْخٰالِقِیْنَ۔ اے اللہ! میں نے تیرے لیے ہی سجدہ کیا،تیرے ساتھ ایمان لایا، تیرے لیے مسلمان ہوا، میرے چہرے نے اس کے لیے سجدہ کیا ہے، جس نے اسے پیدا کر کے اس کی شکل بنائی اور اس کی شکل کو خوبصورت بنایا اور اس کے کان اور نظر کو کھولا، بابرکت ہے وہ اللہ جو بنانے والوں میں سب سے اچھا ہے۔ پھر جب نماز سے سلام پھیرتے تو کہتے: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِہِ مِنِّیْ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ۔ اے اللہ! میرے لیے بخش دے میرے اگلے پچھلے، ظاہر و پوشیدہ گناہوں کو اور جو میں نے زیادتی کی اور جو میرے گناہ تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے(وہ بھی بخش دے)، تو ہی (لوگوں کو اپنی بارگاہِ عالیہ میں) آگے کرنے والا اور (اپنی بارگاہِ عالیہ سے) پیچھے کرنے والا ہے، تو ہی معبود برحق ہے۔