Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 27 · Chapter 276

نمازی کے آگے سترہ رکھنے او راس کے پیچھے سے گزرنے کا حکم

تکبیر تحریمہ کے بعد، قراء ت سے پہلے، {وَلَاالضَّآلِّیْنَ} کہنے کے بعد اور سورت (کی تلاوت)کے بعد یعنی رکوع سے پہلے سکتوں کا بیان

4 hadiths in this chapter

1547

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1547

Zaeef

۔ (۱۵۴۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا یَزِیْدُ أَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ حُمَیْدٍ الطَّوِیْلِ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَتْ لَہُ سَکْتَتَانِ، سَکْتَۃٌ حِیْنَ یَفْتَتِحُ الصَّلَاۃَ، وَسَکْتَۃٌ إِذَا فَرَغَ مِنَ السُّوْرَۃِ الثَّانِیَۃِ قَبْلَ أَنْ یَرْکَعَ، فَذُکِرَ ذَالِکَ لِعِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَالَ: کَذَبَ سَمُرَۃُ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَقَالَ: أَنَا مَا أَحْفَظُہَا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) فَکَتَبَ فِیْ ذٰلِکَ إِلَی الْمَدِیْنَۃِ إِلٰی أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ، فَقَالَ: صَدَقَ سَمُرَۃُ۔ (مسند احمد: ۲۰۴۲۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دو سکتے کرتے تھے: ایک سکتہ، جب نماز شروع کرتے اور دوسرا، جب رکوع کرنے سے پہلے دوسری سورت کی تلاوت مکمل کرتے۔ بعد میں جب یہ حدیث سیّدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے سامنے ذکر کی گئی تو انہوں نے کہا: سمرہ نے غلط بیانی کی ہے اورایک روایت کے مطابق انھوں نے کہا: مجھے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ایسی بات یاد نہیں ہے، پھر انھوں نے اس کے متعلق سیّدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف خط لکھا، جو مدینہ میں تھے، انہوں نے جواب دیاکہ سیّدنا سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سچ کہا ہے۔

1548

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1548

Zaeef

۔ (۱۵۴۸)(وَمِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا ھُشَیْمٌ أَنَا مَنْصُوْرٌ وَ یُوْنَسُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ ( ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) أَنَّہُ کَانَ إِذَا صَلّٰی بِہِمْ سَکَتَ سَکْتَتَیْنِ،إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاۃَ، وَإِذَا قَالَ {وَلَا الضَّالِّیْنَ} سَکَتَ أَیْضًا ھُنَیَّۃً، فَأَنْکَرُوْا ذٰلِکَ عَلَیْہِ، فَکَتَبَ إِلٰی أُبَیِّ ابْنِ کَعْبٍ فَکَتَبَ إِلَیْہِمْ أُبَیٌّ: إِنَّ الْأَمْرَ کَمَا صَنَعَ سَمُرَۃُ۔ (مسند احمد: ۲۰۵۳۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیّدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جب لوگوں کو نماز پڑھاتے تو دو سکتے کرتے، جب نماز شروع کرتے اور جب {وَلَا الضَّالِّین} کہتے تو بھی کچھ دیر خاموش رہتے۔ جب لوگوں نے ان پر اس کا انکار کیا توانہوں نے سیّدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف (خط) لکھا، جس کا انھوں نے یہ جواب دیا کہ یقینا معاملہ اسی طرح ہے جیسے سیّدنا سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کیا ہے۔

1549

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1549

Zaeef

۔ (۱۵۴۹)(وَمِنْ طَرِیقٍ ثَالِثٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا عَفَّانُ ثَنَا یَزِیْدُبْنُ زُرَیْعٍ عَنْ یُوْنُسَ قَالَ وَإِذَا فَرَغَ مِنْ قِرَائَ ۃِ السُّوْرَۃِ (مسند احمد: ۲۰۵۳۱)

اردو ترجمہ · Urdu

(تیسری سند ) جب سیّدنا سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سورت کی قراءت سے فارغ ہوتے تو (سکتہ کرتے) ۔

1550

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1550

Sahih

۔ (۱۵۵۰) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ إِذَا کَبَّرَ فِی الصَّلَاۃِ سَکَتَ بَیْنَ التَّکْبِیْرِ وَالْقِرَائَ ۃِ، فَقُلْتُ: بِأَبِیْ أَنْتَ وَأُمِّیْ أَرَأَیْتَ إِسْکَاتَکَ بَیْنَ التَّکْبِیْرِ وَالْقِرَائَ ۃِ أَخْبِرْ نِیْ مَاھُوَ؟ قَالَ: ((أَقُوْلُ: اَللّٰھُمَّ بَاعِدْ بَیْنِیْ وَبَیْنَ خَطَایَایَ کَمَا بَاعَدْتَّ بَیْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اَللّٰہُمَّ نَـقِّنِیْ مِنْ خَطَایَایَ کَالثَّوْبِ الْأَبْیَضِ مِنَ الدَّنَسِ، قَالَ جَرِیْرٌ کَمَا یُنَـقَّی الثَّوْبُ، اَللّٰہُمَّ اغْسِلْنِیِْ مِنْ خَطَایَایَ بِالثَّلْجِ وَالْمَائِ وَالْبَرَدِ۔)) (مسند احمد: ۷۱۶۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب نماز کے لیے اللہ اکبرکہتے تو آپ تکبیر اور قراءت کے درمیان خاموش رہتے، میں نے پوچھا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ تکبیر اور قراءت کے درمیان اپنی خاموشی کے بارے میں تو مجھے بتلا دیں، اس کی کیا حقیقت ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں یہ دعا پڑھتا ہوں: دعا کا ترجمہ:اے اللہ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان دوری ڈال دے، جیسے تونے مشرق و مغرب کے درمیان دوری رکھی ہے۔ اے اللہ! مجھے میرے گناہوں سے اس طرح پاک کر دے جیسے سفید کپڑا میل سے پاک کیا جاتا ہے۔ اے اللہ! میرے گناہوں کو پانی، برف اور اولوں سے دھو ڈال۔