Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 22 · Chapter 238

اذان اور اقامت کے ابواب

جمعہ کے لیے، اور بارش والے دن اذان کہنے کا بیان

3 hadiths in this chapter

1303

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1303

Sahih

۔ (۱۳۰۳) عَنْ السَّائِبِ بْنِ یَزِیْدَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ابْنِ أُخْتِ نَمِرٍقَالَ لَمْ یَکُنْ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلأَ مُؤَذِّنٌ وَاحِدٌ فِی الصَّلَوَاتِ کُلِّہَا، فِی الْجُمْعَۃِ وَغَیْرِھاَیُوئَ ذِّنَ وَیُقِیِمُ، قَالَ کَانَ بِلَالٌ یُؤَذِّنَ إِذَا جَلَسَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی الْمِنْبَرِ یَوْمَ الْجُمْعَۃِ وَیُقِیْمُ إِذَا نَزَلَ، وَلِأَبِیْ بَکْرٍ وَعُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما حَتّٰی کَانَ عُثْمَانُ (مسند احمد: ۱۵۸۰۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا سائب بن یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیّدنا ابو بکر اور سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا جمعہ وغیرہ تمام نمازوں کے لیے ایک ہی مؤذن ہوا کرتا تھا، یہاں تک کہ سیّدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خلیفہ بنے۔ سیّدنا سائب بن یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ جمعہ کے روز جب رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منبر پر تشریف فرما ہوتے تو سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اذان کہتے اور جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نیچے اترتے تو سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اقامت کہتے تھے۔

1304

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1304

Sahih

۔ (۱۳۰۴)وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: کَانَ الْأَذَانُ عَلَی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ وَأَبِیْ بَکْرٍ وَعُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَذَانَیْنِ حَتّٰی کَانَ زَمَنُ عُثْمَانَ فَکَثُرَ النَّاسُ فأَمَرَ بِاْلأَذَانِ الْأَوَّلِ بِالزَّوْرَائِ۔ (مسند احمد: ۱۵۸۱۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا سائب بن یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیّدنا ابو بکر اورسیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے ادوار میں (جمعہ کے لیے اذان اور اقامت) دو اذانیں ہوا کرتی تھیں،یہاں تک کے سیّدناعثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا زمانہ آ گیا اور لوگوں کی کثرت ہوگئی تو سیّدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے زوراء مقام پر ایک اور اذان کہنے کا حکم دے دیا۔

1305

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1305

Sahih

۔ (۱۳۰۵) عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسِ أَنَّ رَجُلاً مِنْ ثَـقِیْفٍ أَخْبَرَہُ أَنَّہُ سَمِعَ مُؤَذِّنَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْیَوْمٍ مَطِیْرٍیَقُوْلُ حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ صَلُّوْا فِی رِحَالِکُمْ۔ (مسند احمد: ۲۳۵۵۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عمر بن اوس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بنو ثقیف کے ایک آدمی نے بتایاکہ اس نے بارش والے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مؤذن کو حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ کے بعد صَلُّوْا فِی رِحَالِکُمْ ( اپنے گھروں میں پڑھ لو) کہتے ہوئے سنا تھا ۔