Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 22 · Chapter 237

اذان اور اقامت کے ابواب

اول وقت میں اذان کہنے اور صرف فجر میں وقت سے پہلے اذان کہنے کا بیان

5 hadiths in this chapter

1298

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1298

Sahih

۔ (۱۲۹۸) عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ بِلَالٌ یُؤَذِّنُ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ لَایَخْرُمُ ثُمَّ لَا یُقِیْمُ حَتّٰییَخْرُجَ النَّبِیُِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ فَإِذَا خَرَجَ أَقَامَ حِیْنَیَرَاہُ۔ (مسند احمد: ۲۱۱۳۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سورج ڈھلتے وقت اذان کہاکرتے تھے اور اس کا کوئی لفظ نہیں چھوڑتے تھے، پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نکلنے تک اقامت نہ کہتے، البتہ جس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نکلتے تو آپ کو دیکھ کر اقامت کہتے۔

1299

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1299

Sahih

۔ (۱۲۹۹) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیِْ أَبِیْ ثَنَا اِبْنُ أَبِیْ عَدِیٍّ عَنْ سُلَیْمَانَ عَنْ أَبِیْ عُثْمَانَ عَنْ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَمْنَعَنَّ أَحَدَکُمْ أَذَانُ بِلَالٍ مِنْ سَحُوْرِہِ فَإِنَّہُ إِنَّمَایُنَادِیْ أَوْ قَالَ یُؤََذِّنُ لِیَرْ جِعَ قاَئِمَکُمْ وَیُنَبِّہَ نَائِمَکُمْ لَیْسَ أَنْ یَقُوْلَ ھٰکَذَا وَلٰکِنْ حَتّٰییَقُوْلَ ھٰکَذَا۔)) وَضَمَّ ابْنُ أَبِیْ عَدِیٍّ أَبُوْ عَمْرو أَصَابِعَہٗوَصَوَّبَہَاوَفَتَحَمَابَیْنَ إِصْبَعَیْہِ السَّبَّابَتَیْنِیَعْنِی الْفَجْرَ۔ (مسند احمد: ۳۷۱۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بلال کی اذان تم میں سے کسی کو اس کی سحری سے نہ روکے،کیونکہ وہ تو صرف اس لیے اذان کہتا ہے کہ قیام کرنے والے کو واپس لوٹا دے اورسوئے ہوئے کو بیدار کر دے اور (فجر صادق میں روشنی) اس طرح (اوپر کو) ظاہر نہیں ہوتی، بلکہ اس طرح (افق میں) پھیل جاتی ہے۔ اور ابن ابی عدی ابو عمر نے (اس تمثیل کی وضاحت کرتے ہوئے) اپنی انگلیوں کو ملا کر جھکایا اور شہادت والی انگلیوں کے درمیان کشادگی کی۔

1300

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1300

Sahih

۔ (۱۳۰۰) عَنْ سَاِلمٍ عَنْ أَبِیہِ (عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ بِلَالاً یُؤَذَّنَ بِلَیْلِ فَکُلُوْا وَاشْرَ بُوْا حَتّٰییُؤَذِّنَ اِبْنُ أُمِّ مَکْتُوْمٍ۔)) (مسند احمد: ۴۵۵۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک بلال رات کے وقت اذان کہتا ہے اس لیے تم کھاتے پیتے رہا کرو، یہاں تک کہ ابن ام مکتوم اذان کہہ دے۔

1301

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1301

Sahih

۔ (۱۳۰۱) وَعَنْہُ أَیْضًا عَنْ أبِیْہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ بِلَالاً یُنَادِیْ بَلَیْلٍ، فَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰی تَسْمَعُوْا تَأْذِیْنَ ابْنِ أُمِّ مَکْتُوْمٍ۔)) قَالَ: وَکَانَ ابُنْ أُمِّ مَکْتُوْمٍ رَجُلاً أَعْمٰی لَا یُبْصِرُ، لَا یُؤَذِّنُ حَتَّییَقُولَ النَّاسُ قَدْ أَصْبَحْتَ۔ (مسند احمد: ۶۰۵۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بلال رات کے وقت اذان کہتا ہے، اس لیے تم کھاتے پیتے رہا کرویہاں تک کہ ابن ام مکتوم کی اذان سن لو۔ عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ ابن ام مکتوم ایک نابینا آدمی تھے، اس لیے وہ اس وقت تک اذان نہیں کہتے تھے جب تک لوگ اسے یہ نہ کہہ دیتے کہ تو نے صبح کردی ہے ۔

1302

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1302

Sahih

۔ (۱۳۰۲) عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُؤَذِّنَانِ۔ (مسند احمد: ۵۶۸۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دو مؤذن تھے۔