Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 20 · Chapter 199

نماز کی کتاب

نفلی نماز کی فضیلت اور نوافل کے ذریعے فرائض کی کمی کو پورا کرنے کا بیان

5 hadiths in this chapter

1070

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1070

Zaeef

۔ (۱۰۷۰)۔ عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((مَا أَذِنَ اللّٰہُ لِعَبْدٍ فِیْ شَیْئٍ أَفْضَلَ مِنْ رَکْعَتَیْنِ یُصَلِّیْہُمَا، وَاِنَّ الْبِرَّ لَیُذَرُّ فَوْقَ رَأْسِ الْعَبْدِ مَا دَامَ فِیْ صَلَاتِہِ، وَمَا تَقَرَّبَ الْعِبَادُ اِلَی اللّٰہِ بِمِثْلِ مَا خَرَجَ مِنْہُ۔)) یَعْنِیْ الْقُرْآنَ۔ (مسند أحمد: ۲۲۶۶۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو امامہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے بندے کی کسی ایسی چیز کو کان لگا کر نہیں سنا، جو اس کی ادا کی ہوئی دو رکعتوں سے زیادہ افضل ہو اور جب تک بندہ نماز میں رہتا ہے، اس کے سر پر نیکی چھڑکی جاتی ہے اور لوگوں نے کسی ایسے عمل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل نہیں کیا، جو عمل اس چیز جیسا ہو، جو اللہ تعالیٰ سے صادر ہوئی ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی مراد قرآن مجید تھی۔

1071

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1071

Zaeef

۔ (۱۰۷۱)۔عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((صَلَاۃُ الرَّجُلِ فِیْ بَیْتِہِ نَوْرٌ فَمَنْ شَائَ نَوِّرْ بَیْتَہُ۔)) (مسند أحمد: ۸۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عمر بن خطاب ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: گھر میں بندے کا نماز پڑھنا نور ہے، پس جو چاہتا ہے، اپنے گھر کو منوّر کر لے۔

1072

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1072

Sahih

۔ (۱۰۷۲)۔عَنْ أَنَسِ بْنِ حَکِیْمِ نِ الضَّبِّیِّ أَنَّہُ خَافَ زَمَنَ زَیَادٍ أَوِ ابْنِ زَیَادٍ فَأَتَی الْمَدِیْنَۃَ فَلَقِیَ أَبَاھُرَیْرَۃَؓ، قَالَ: فَانْتَسَبَنِیْ فَانْتَسَبْتُ لَہُ فَقَالَ: یاَ فَتٰی أَلَا أُحَدِّثُکَ حَدِیْثًا لَعَلَّ اللّٰہَ أَنْ یَنْفَعَکَ بِہِ؟ قُلْتُ: بَلٰی! رَحِمَکَ اللّٰہُ، قَالَ: ((اِنَّ أَوَّلَ مَا یُحَاسَبُ بِہِ النَّاسُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِنَ الصَّلَاۃِ، قَالَ: یَقُوْلُ رَبُّنَا عَزَّوَجَلَّ لِمَلَائِکَتِہِ وَھُوَ أَعْلَمُ: أُنْظُرُوْا فِیْ صَلَاۃِ عَبْدِیْ أَتَّمَہَا أَمْ نَقَصَہَا؟ فَاِنْ کَانَتْ تَامَّۃً کُتِبَتْ لَہُ تَامَّۃً وَاِنْ کَانَ انْتَقَصَ مِنْہَا شَیْئًاقَالَ: انْظُرُوْا ھَلْ لِعَبْدِیْ مِنْ تَطَوُّعٍ؟ فَاِنْ کَانَ لَہُ تَطَوُّعٌ قَالَ: أَتِمُّوْا لِعَبْدِیْ فَرِیْضَتَہُ مِنْ تَطَوُّعِہِ، ثُمَّ تُؤْخَذُ الْأَعْمَالُ عَلَی ذٰلِکُمْ۔)) قَالَ یُوْنُسُ (أَحَدُ الرُّوَاۃِ): وَأَحْسِبُہُ قَدْ ذَکَرَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم۔ (مسند أحمد: ۹۴۹۰)

اردو ترجمہ · Urdu

انس بن حکیم ضبّی کہتے ہیں: میں زیاد یا ابن زیاد کے زمانے میں ڈرنے لگا، اس لیے مدینہ منورہ میں سیدنا ابو ہریرہؓ کے پاس آگیا، انھوں نے مجھ سے نسب دریافت کیا، میں نے وہ بیان کر دیا، پھر انھوں نے کہا: اے نوجوان! کیا میں تم کو ایک حدیث بیان نہ کر دوں، ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے تجھے کوئی فائدہ دے دے؟ میں نے کہا: جی کیوں نہیں، اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے، انھوں نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک پہلی چیز کہ جس کے بارے میں روزِ قیامت بندوں کا محاسبہ کیا جائے گا، وہ نماز ہے۔ ہمارا ربّ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے کہے گا، جبکہ وہ سب سے زیادہ جاننے والا ہے: تم میرے بندے کی نماز کو دیکھو، کیا اس نے اس کو پوری طرح ادا کیا ہے یا ناقص؟ پس اگر وہ پوری ہوئی تو اس کے لیے پوری لکھی جائے گی اور اگر اس میں کوئی نقص ہوا تو اللہ تعالیٰ کہے گا: تم دیکھو کہ کیا میرے بندے کی کوئی نفلی نماز ہے؟ پس اگر اس کی نفلی نماز ہوئی تو وہ کہے گا: میرے بندے کی فرض نماز کو اس کی نفل نماز کے ذریعے پورا کر دو، پھر باقی اعمال کا محاسبہ بھی اسی طرح کیا جائے گا۔

1073

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1073

Sahih

۔ (۱۰۷۳)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔ قَالَ: قَالَ لِیْ أَبُوْ ہُرَیْرَۃَ: اِذَا أَتَیْتَ أَھْلَ مِصْرَ فَأَخْبِرْہُمْ أَنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((أَوَّلُ شَیْئٍ مِمَّا یُحَاسَبُ بِہِ الْعَبْدُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ صَلَاتُہُ الْمَکْتُوْبَۃُ، فَاِنْ صَلَحَتْ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَاِنْ أَتَّمَہَا) وَاِلَّا زِیْدَ فِیْھَا مِنْ تَطَوُّعِہِ ثُمَّ یُفْعَلُ بِسَائِرِ الْأَعْمَالِ الْمَفْرُوْضَۃِ کَذٰلِکَ)) (مسند أحمد: ۷۸۸۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدنا ابوہریرہؓ نے مجھے کہا: جب تو مصر والوں کے پاس جائے تو ان کو بتانا کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: پہلی چیز کہ جس کا بندے سے قیامت کے روز محاسبہ کیا جائے گا، وہ فرض نماز ہے، پس اگر وہ مکمل ہوئی تو ٹھیک، وگرنہ اس کی نفلی نماز سے اس کی کمی کو پورا کیا جائے گا، پھر باقی تمام فرض اعمال کے ساتھ یہی معاملہ اختیار کیا جائے گا۔

1074

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1074

Sahih

۔ (۱۰۷۴)۔عَنْ یَحْیَی بْنِ یَعْمَرَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلمقَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أَوَّلُ مَا یُحَاسَبُ بِہِ الْعَبْدُ صَلَاتُہُ، فَاِنْ کَانَ أَتَّمَہَا کُتِبَتْ لَہُ تَامَّۃً وَاِنْ لَمْ یَکُنْ أَتَّمَہَا قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: اُنْظُرُوْا ھَلْ تَجِدُوْنَ لِعَبْدِیْ مِنْ تَطَوُّعٍ فَتُکَمِّلُوْا بِہَا فَرِیْضَتَہُ، ثُمَّ الزَّکَاۃُ کذٰلِکَ ثُمَّ تُؤْخَذُ الْأَعْمَالُ عَلَی حَسْبِ ذٰلِکَ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۷۳۱)

اردو ترجمہ · Urdu

ایک صحابی ٔ رسول بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: پہلی چیز کہ جس کا بندے سے محاسبہ کیا جائے گا، وہ اس کی نماز ہے، پس اگر اس نے اس کو مکمل کیا ہو گا تو وہ پوری لکھ دی جائے گی اور اگر اس میں کمی کی ہو گی تو اللہ تعالیٰ کہے گا: دیکھو، کیا تم میرے بندے کی کوئی نفلی نماز پاتے ہو، پس اسی سے اس کی فرض نماز کو پورا کر دو، پھر زکاۃ کا بھی اسی طرح محاسبہ کیا جائے گا اور پھر دوسرے اعمال کا بھی۔