Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 20 · Chapter 198

نماز کی کتاب

نمازِ فجر اور نمازِ عصر کی فضیلت کا بیان

5 hadiths in this chapter

1065

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1065

Sahih

۔ (۱۰۶۵)۔ عَنْ أَبِیْ جَمْرَۃَ الضُّبَعِیِّ عَنْ أَبِیْ بَکْرٍ عَنْ أَبِیْہِ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ صَلَّی الْبَرْدَیْنِ دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۸۵۰)

اردو ترجمہ · Urdu

ابو بکر اپنے باپ (سیدنا ابو موسی اشعری)ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس نے ٹھنڈے وقت کی دو نمازیں پڑھیں، وہ جنت میں داخل ہو گا۔

1066

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1066

Sahih

۔ (۱۰۶۶)۔ عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ رُوَیْبَۃَ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: سَأَلَہُ رَجُلٌ مِنْ أَھْلِ الْبَصْرَۃِ قَالَ: أَخْبِرْنِیْ مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا یَلِجُ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: لَنْ یَلِجَ) النَّارَ أَحَدٌ صَلّٰی قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ أَْنْ تَغْرُبَ)) قَالَ: آنْتَ سَمِعْتَہُ مِنْہُ؟ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) قَالَ: سَمِعَتْہُ أُذُنَایَ وَوَعَاہُ قَلْبِیْ، فقَالَ الرَّجُلُ: وَاللّٰہِ! لَقَدْ سَمِعْتُہُ یَقُوْلُ ذٰلِکَ۔ (مسند أحمد: ۱۸۴۸۶)

اردو ترجمہ · Urdu

اہل بصرہ میں سے ایک آدمی نے رویبہ سے سوال کرتے ہوئے کہا: تم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے جو بات سنی، اس کی مجھے بھی خبر دیجئے، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: وہ آدمی جہنم میں داخل نہیں ہو گا، (اور ایک روایت میں ہے ہر گز داخل نہ ہوگا) جو طلوع آفتاب سے پہلے والی اور غروبِ آفتاب سے پہلے والی نماز ادا کرتا ہے۔ اس نے کہا: کیا تم نے واقعی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سنا ہے؟ انھوں نے کہا: میرے کانوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سنا ہے اور دل نے اس بات کو یاد کیا ہے۔ اس بندے نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے بھی یہ کہتے ہوئے سنا تھا۔

1067

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1067

Sahih

۔ (۱۰۶۷)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنَّ لِلّٰہِ مَلَائِکَۃً، یَتَعَاقَبُوْنَ مَلَائِکَۃَ اللَّیْلِ وَمَلَائِکَۃَ النَّہَارِفَیَجْتَمِعُوْنَ فِیْ صَلَاۃِ الْفَجْرِ وَصَلَاۃِ الْعَصْرِ، ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْہِ الَّذِیْنَ کَانُوْا فِیْکُمْ فَیَسْأَلُہُمْ وَھُوَ أَعْلَمُ، فَیَقُوْلُ: کَیْفَ تَرَکْتُمْ عِبَادِیْ؟ فَیَقُوْلُوْنَ: تَرَکْنَاہُمْ یُصَلُّوْنَ وَأَتَیْنَاہُمْ یُصَلُّوْنَ۔)) (مسند أحمد: ۷۴۸۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ہیں، وہ یکے بعد دیگرے آتے ہیں، وہ رات کے اور دن کے فرشتے ہیں، جو فجر اور عصر کی نمازوں میں جمع ہوتے ہیں، پھر وہ اللہ کی طرف چڑھ جاتے ہیں، جو تمہارے اندر ہوتے ہیں اور اللہ ان سے سوال کرتا ہے، جبکہ وہ زیادہ جاننے والا ہے، پس پوچھتا ہے: تم نے میرے بندوں کو کس حالت میں چھوڑا؟ وہ کہتے ہیں: ہم نے ان کو اس حالت میں چھوڑا کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے اور جب ان کے پاس گئے تھے تو اس وقت بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے۔

1068

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1068

Zaeef

۔ (۱۰۶۸)۔عَنْ فَضَالَۃَ اللَّیْثِیِّؓ قَالَ: اَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاَسْلَمْتُ، وَعَلَّمَنِیْ حَتّٰی عَلَّمَنِیَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ لِمَوَاقِیْتِھِنَّ، قَالَ: فَقُلْتُ لَہٗ: اِنَّ ھٰذِہٖ لَسَاعَاتٌ اُشْغَلُ فِیْھَا فَمُرْنِیْ بِجَوَامِعَ۔ فَقَالَ لِیْ: ((اِنْ شُغِلْتَ فَلَا تُشْغَلْ عَنِ الْعَصْرَیْنِ۔)) قُلْتُ: وَمَا الْعَصْرَانِ؟ قَالَ: ((صَلَاۃُ الْغَدَاۃِ وَصَلَاۃُ الْعَصْرِ۔))(مسند أحمد: ۱۹۲۳۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا فضالہ لیثی ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس گیا اور مسلمان ہو گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مجھے تعلیم دی اور اوقات سمیت پانچ نمازیں سکھائیں، لیکن میں نے کہا: یہ تو میری مصروفیت کی گھڑیاں ہیں، آپ مجھے اس سے مختصر حکم دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اگر تو مصروف رہتا ہے تو تجھے دو عصروں سے مشغول نہیں ہونا چاہیے۔ میں نے کہا: دو عصریں کون سی ہوتی ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: نمازِ فجر اور نمازِ عصر۔

1069

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1069

Sahih

۔ (۱۰۶۹)۔ عَنْ جَرِیْرٍ، قَالَ: کُنَّا عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیْلَۃَ الْبَدْرِ، فَقَالَ: ((اِنَّکُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّکُمْ عَزَّوَجَلَّ کَمَا تَرَوْنَ الْقَمَرَ، لَا تُضَامُوْنَ فِیْ رُؤْیَتِہِ، فَاِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا تُغْلَبُوْا عَلَی ہَاتَیْنِ الصَّلَاتَیْنِ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوْبِ۔)) ثُمَّ تَلَا ہٰذِہِ الْآیَۃَ {فَسَبِّحْ بِحَمْدِ َربِّکَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوْبِہَا۔} قَالَ شُعْبَۃُ (أَحَدُ الرُّوَاۃِ): لَا أَدْرِیْ قَالَ فَاِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَوْ لَمْ یَقُلْ۔ (مسند أحمد: ۱۹۴۰۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جریر ؓ کہتے ہیں: ہم بدر والی رات کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک تم اپنے پروردگار کو ایسے ہی دیکھو گے، جیسا کہ چاند کو دیکھتے ہو، اور اس کی رؤیت میں تم پر کوئی زیادتی نہیں کی جائے گی، پس اگر تمہیں طاقت ہو تو طلوع آفتاب اور غروبِ آفتاب سے پہلے والی نمازوں کے معاملے میں مغلوب نہ ہو جانا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے یہ آیت تلاوت کی: پس سورج کے طلوع ہونے اور سورج کے غروب ہونے سے پہلے اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کر۔ شعبہ کہتے ہے: میں یہ نہیں جانتا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فَاِنِ اسْتَطَعْتُمْ الفاظ ارشاد فرمائے تھے یا نہیں۔