Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 19 · Chapter 189

تیمم کے ابواب

پانی کی موجودگی میں زخم یا سردی کے ڈر کی وجہ سے تیمم کرنے کا بیان

2 hadiths in this chapter

997

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #997

Sahih

۔ (۹۹۷)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ أَنَّ رَجُلًا أَصَابَہُ جُرْحٌ فِیْ عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأُمِرَ بِالْاِغْتِسَالِ فَمَاتَ فَبَلَغَ ذٰلِکَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((قَتَلُوْہُ قَتَلَہُمُ اللّٰہُ، أَلَمْ یَکُنْ شِفَائُ الْعِیِّ السِّؤَالَ۔)) (مسند أحمد: ۳۰۵۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی عہد ِ نبوی میں زخمی ہو گیا، پس اس کو (جنابت کی وجہ سے) غسل کرنے کا حکم دیا گیا اور وہ اس غسل سے فوت ہو گیا، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ بات موصول ہوئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: لوگوں نے اُس کو قتل کر دیا ہے، اللہ تعالیٰ اِن کو ہلاک کرے، کیا جہالت کی شفا سوال میں نہیں ہے۔

998

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #998

Sahih

۔ (۹۹۸)۔عن عَمْرِو بْنِ الْعَاصِؓ أَنَّہُ قَالَ: لَمَّا بَعَثَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَامَ ذَاتِ السَّلَاسِلِ قَالَ: احْتَلَمْتُ فِیْ لَیْلَۃٍ بَارِدَۃٍ شَدِیْدَۃِ الْبَرْدِ فَأَشْفَقْتُ اِنِ اغْتَسَلْتُ أَنْ أَہْلِکَ فَتَیَمَّمْتُ ثُمَّ صَلَّیْتُ بِأَصْحَابِیْ صَلَاۃَ الصُّبْحِ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَکَرْتُ ذٰلِکَ لَہُ فَقَالَ: ((یَا عَمْرُو! صَلَّیْتَ بِأَصْحَابِکَ وَأَنْتَ جُنُبٌ؟)) قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّیْ احْتَلَمْتُ فِیْ لَیْلَۃٍ بَارِدَۃٍ شَدِیْدَۃِ الْبَرْدِ فَأَشْفَقْتُ اِنِ اغْتَسَلْتُ أَنْ أَہْلِکَ وَذَکَرْتُ قَوْلَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ {وَلَا تَقْتُلُوْا أَنْفُسَکُمْ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُمْ رَحِیْمًا} فَتَیَمَّمْتُ ثُمَّ صَلَّیْتُ، فَضَحِکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَمْ یَقُلْ شَیْئًا۔ (مسند أحمد: ۱۷۹۶۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عمرو بن عاصؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان کو ذات السلاسل والے سال بھیجا، ہوا یوں کہ مجھے شدید سردی والی رات کو احتلام ہو گیا، اب میں ڈرنے لگا کہ اگر میں نے غسل کیا تو مر جاؤں گا، سو میں نے تیمم کر کے اپنے ساتھیوں کو نماز ِ فجر پڑھائی، جب ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس واپس آئے تو میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ بات بتلائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اے عمرو! کیا تو نے جنابت کی حالت میں اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھا دی؟ میں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! مجھے سخت سردی والی رات کو احتلام ہو گیا تھا اور میں ڈرنے لگا کہ اگر میں نے غسل کیا تو مر جاؤں گا اور مجھے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان یاد آ گیا: اور اپنے نفسوں کو قتل نہ کرو، بیشک اللہ تعالیٰ تمہاے ساتھ بے حد رحم کرنے والا ہے۔ پس میں نے تیمم کر کے لوگوں کو نماز پڑھا دی، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ مسکرا پڑے اور مزید کچھ نہ کہا۔