Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 19 · Chapter 188

تیمم کے ابواب

پانی کی عدم موجودگی میں نفاس اور حیض والی خواتین اور جنابت والے لوگوں پر تیمم کے واجب ہونے کا بیان، اگرچہ ان کو کئی مہینے ٹھہرنا پڑے

3 hadiths in this chapter

994

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #994

Sahih

۔ (۹۹۴)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: جَائَ أَعْرَابِیٌّ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّیْ أَکُوْنُ فِی الرَّمْلِ أَرْبَعَۃَ أَشْہْرٍ أَوْ خَمْسَۃَ أَشْہُرٍ فَیَکُوْنُ فِیْنَا النُّفَسَائُ وَالْحَائِضُ وَالْجُنُبُ فَمَا تَرٰی؟ قَالَ: ((عَلَیْکَ بِالتُّرَابِ۔)) (مسند أحمد: ۷۷۳۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ایک بدّو ، نبیِ کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں چار پانچ پانچ مہینوں تک صحراء میں ہوتا ہوں اور ہم میں نفاس اور حیض والی خواتین اور جنابت والے لوگ بھی ہوتے ہیں، اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو مٹی کو لازم پکڑ۔

995

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #995

Zaeef

۔ (۹۹۵)۔ عَنْ نَاجِیَۃَ الْعَنَزِیِّ قَالَ: تَدَارَاَ عَمَّارُ (بْنُ یَاسِرٍ) وَعَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مَسْعُوْدٍؓ فِی التَّیَمُّمِ، فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: لَوْ مَکَثْتُ شَہْرًا لَا أَجِدُ فِیْہِ الْمَائَ لَمَا صَلَّیْتُ، فَقَالَ لَہُ عَمَّارٌ: أَمَا تَذْکُرُ اِذْ کُنْتُ أَنَا وَأَنْتَ فِی الْاِبِلِ فَأَجْنَبْتُ فَتَمَعَّکْتُ تَمَعُّکَ الدَّابَّۃِ، فَلَمَّا رَجَعْتُ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبَرْتُہُ بِالَّذِیْ صَنَعْتُ فَقَالَ: ((اِنَّمَا کَانَ یَکْفِیْکَ التَّیَمُّمُ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۵۰۵)

اردو ترجمہ · Urdu

ناجیہ عنزی کہتے ہیں: تیمم کے سلسلے میں سیدنا عمار بن یاسر ؓاور سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓکا ایک دوسرے سے اختلاف ہو گیا، سیدنا عبد اللہ نے کہا: اگر مجھے ایک ماہ تک ٹھہرنا پڑے اور پانی نہ ملے تومیں تو نماز نہیں پڑھوں گا۔ سیدنا عمارؓ نے ان سے کہا: کیا تم کو یاد ہے کہ جب میں اور تم اونٹوں میں تھے اور مجھے جنابت لاحق ہو گئی تھی، جس کی وجہ سے میں چوپائے کی طرح مٹی میں لیٹا تھا، پھر جب میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی طرف لوٹا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو اپنے کیے کی خبر دی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: صرف تجھے تیمم کافی تھا۔

996

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #996

Sahih

۔ (۹۹۶)۔عَنْ طَارِقِ بْنِ شِہَابٍؓ قَالَ: أَجْنَبَ رَجُلَانِ فَتَیَمَّمَ أَحَدُہُمَا فَصَلّٰی وَلَمْ یُصَلِّ الْأَخَرُ، فَأَتَیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمْ یَعِبْ عَلَیْہِمَا۔ (مسند أحمد: ۱۹۰۳۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا طارق بن شہابؓ کہتے ہیں: دو آدمیوں کو جنابت لاحق ہو گئی، ان میں سے ایک نے تیمم کر کے نماز پڑھ لی اور دوسرے نے نماز نہ پڑھی، پس جب وہ دونوں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے کسی پر عیب نہیں لگایا۔