Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 177 · Chapter 2744

جہنم اور جنت کے متعلقہ مسائل

جہنم کی گہرائی، اس کی وادیوں اور عذاب کے ذرائع کا بیان ، اللہ تعالیٰ پناہ میں رکھے

6 hadiths in this chapter

13206

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13206

Sahih

۔ (۱۳۲۰۶)۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْ اَنَّ رَصَّاصَۃً مِثْلَ ہٰذِہٖ،وَاَشَارَاِلٰی مِثْلِ جُمْجُمَۃٍ، اُرْسِلَتْ مِنَ السَّمَائِ اِلَی الْاَرْضِ وَھِیَ مَسِیْرَۃُ خَمْسِمِائَۃِ سَنَۃٍ، لَبَلَغَتِ الْاَرْضَ قَبْلَ اللَّیْلِ،وَلَوْ اَنَّہَا اُرْسِلَتْ مِنْ رَاْسِ السِّلْسِلَۃِ لَسَارَتْ اَرْبَعِیْنَ خَرِیْفًا اللَّیْلَ وَالنَّہَارَ قَبْلَ اَنْ تَبْلُغَ اَصْلَہَا اَوْ قَعْرَھَا۔)) (مسند احمد: ۶۸۵۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: زمین و آسمان کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے، اس کے باوجود اگر ایک بڑے پیالے یا کھوپڑی کے برابر پتھر آسمان سے زمین کی طرف گرایا جائے تو وہ رات ہونے سے پہلے پہلے زمین پر پہنچ جائے گا،لیکن اگر اسے زنجیر کے ایک سرے سے نیچے کی طرف گرایا جائے تو وہ اس کی اصل یا تہہ تک پہنچنے سے پہلے چالیس برسوں تک چلتا رہے گا۔

13207

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13207

Sahih

۔ (۱۳۲۰۷)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کُنَّا عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمًا فَسَمِعْنَا وَجَبَۃً فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَتَدْرُوْنَ مَا ہٰذَا؟)) قُلْنَا: اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ اَعْلَمُ، قَالَ: ((ہٰذَا حَجَرٌ، اُرْسِلَ فِیْ جَہَنَّمَ مُنْذُ سَبْعِیْنَ خَرِیْفًا فَالْآنَ اِنْتَہٰی اِلٰی قَعْرِھَا۔)) (مسند احمد: ۸۸۲۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ہم نے کسی چیز کے گرنے کی دھمک سنی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دریافت فرمایا: کیا تم جانتے ہویہ کس چیز کی آواز ہے؟ ہم نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا: یہ ایک پتھر کی آواز ہے، جسے آج سے ستر سال پہلے جہنم کے اندر ڈالا گیا تھا، وہ اب اس کی تہہ تک پہنچا ہے۔

13208

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13208

Zaeef

۔ (۱۳۲۰۸)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((وَیْلٌ وَادٍ فِیْ جَہَنَّمَ یَہْوِیْ فِیْہِ الْکَافِرُ اَرْبَعِیْنَ خَرِیْفًا قَبْلَ اَنْ یَّبْلُغَ قَعْرَہُ، وَالصَّعُوْدُ جَبَلٌمِنْ نَّارٍیَصْعَدُ فِیْہِ سَبْعِیْنَ خَرِیْفًا،یَہْوِیْ بِہٖکَذٰلِکَفِیْہِ اَبَدًا۔)) (مسند احمد: ۱۱۷۳۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جہنم کی ایک وادی کا نام ویل ہے، اس کی تہہ تک پہنچنے سے پہلے کافر اس میں چالیس برس گرتا رہے گا، اسی طرح جہنم میں آگے کے ایک پہاڑ کا نام صَعُوْد ہے۔ اس پر چڑھنے والا ستر سال میں اس پر چڑھتا ہے،پھر وہ اتنے ہی عرصے میں اس سے نیچے گرتا رہتا ہے، اور اس کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ یہی ہوتا رہے گا۔

13209

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13209

Zaeef

۔ (۱۳۲۰۹)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَوْ اَنَّ مِقْمَعًا مِنْ حَدِیْدٍ وُضِعَ فِی الْاَرْضِ فَاجْتَمَعَ لَہُ الثَّقَلَانِ مَا اَقَلُّوْہُ مِنَ الْاَرْضِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۲۵۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر لوہے کا ایک گرز زمین پر رکھ دیا جائے اورتمام جن و انس اسے اٹھانے کے لیے جمع ہو جائیں، تو پھر بھی وہ اس کو نہیں اٹھا سکیں گے۔

13210

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13210

Zaeef

۔ (۱۳۲۱۰)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْ ضُرِبَ الْجَبَلُ بِقَمْعٍ مِنْ حَدِیْدٍ لَتَفَتَّتَ ثُمَّ عَادَ کَمَا کَانَ، وَلَوْ اَنَّ دَلْوًا مِنْ غَسَقٍ یُہْرَاقُ فِی الدُّنْیَا لَاَنْتَنَ اَھْلُ الدُّنْیَا۔)) (مسند احمد: ۱۱۸۰۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر لوہے کے گرز کو کسی پہاڑ پر مارا جائے تو وہ بھی ریزہ ریزہ ہوجائے، وہ دوبارہ اپنی اصل حالت میں لوٹ آئے گا اور اگر جہنمیوں کی پیپ اور خون سے بھرا ہوا ایک ڈول دنیا میں بہا دیا جائے تو ساری دنیا والے بد بو کی اذیت سے بے چین ہوجائیں۔

13211

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13211

Zaeef

۔ (۱۳۲۱۱)۔ وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ جُزْئِ نِ الزُّبَیْدِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ فِی النَّارِ حَیَّاتٍ کَاَمْثَالِ اَعْنُقِ الْبُخْتِ تَلْسَعُ اِحْدَاھُنَّ اللَّسْعَۃَ فَیَجِدُ حَمْوَتَہَا اَرْبَعِیْنَ خَرِیْفًا، وَاِنَّ فِی النَّارِ عَقَارِبَ کَاَمْثَالِ الْبِغَالِ الْمُوْکَفَۃِ تَلْسَعُ اِحْدَاھُنَّ اللَّسْعَۃَ فَیَجِدُ حَمْوَتَہَا اَرْبَعِیْنَ سَنَۃً۔)) (مسند احمد: ۱۷۸۶۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن جزء زبیدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جہنم میں بختی اونٹوں کی گردنوں جیسے بڑے بڑے سانپ ہیں، جب ان میں سے ایک سانپ ایک دفعہ ڈسے گا تو آدمی چالیس سال تک اس کی زہر کی شدت محسوس کرے گا اور جہنم میں پالان والے خچروں کی جسامت کے بچھو ہوں گے، جب ان میں سے کوئی بچھو ڈسے گا تو آدمی چالیس سال تک اس کی تکلیف محسوس کرے گا۔