Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 177 · Chapter 2743

جہنم اور جنت کے متعلقہ مسائل

اس کی گرمی اور اس کے زمہریر کی ٹھنڈک کا بیان

4 hadiths in this chapter

13202

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13202

Sahih

۔ (۱۳۲۰۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : وَعَمْرٌو عَنْ یَحْیٰی بْنِ جَعْدَۃَ: ((اِنَّ نَارَکُمْ ہٰذِہٖجُزْئٌمِنْسَبْعِیْنَ جُزْئً ا مِنْ نَارِ جَہَنَّمَ وَضُرِبَتْ بِالْبَحْرِ مَرَّتَیْنِ وَلَوْلَا ذٰلِکَ مَاجَعَلَ اللّٰہُ فِیْہَا مَنْفَعَۃً لِاَحَدٍ۔)) (مسند احمد: ۷۳۲۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہاری یہ دنیا والی آگ، جہنم کی آگ کا سترواں حصہ ہے، جہنم کی آگ کو دو دفعہ سمندر پر ما رکر ہلکا اور ٹھنڈا کیا گیا، اور اگر ایسا نہ کیا جاتا تو کوئی آدمی بھی اس سے فائدہ نہ اٹھا سکتا۔

13203

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13203

Sahih

۔ (۱۳۲۰۳)۔ وَ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَیْضًا : اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ : ((ھٰذِہِ النَّارُ جُزْءٌ مِنْ مِائَۃِ جُزْءٍ مِنْ جَھَنَّمَ ۔)) (مسند احمد : ۸۹۱۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دنیا کی یہ آگ جہنم کی آگ کا (۱۰۰) واں حصہ ہے۔

13204

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13204

Sahih

۔ (۱۳۲۰۴)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَارُکُمْ ہٰذِہٖمَایُوْقِدُ بَنُوْ آدَمَ جُزْئٌ وَاحِدٌ مِنْ سَبْعِیْنَ جُزْئً ا مِنْ حَرِّ جَہَنَّمَ۔)) قَالُوْا: وَاللّٰہِ! اِنْ کَانَتْ لَکَافِیَۃًیَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((فَاِنَّہَا فُضِّلَتْ عَلَیْہَا بِتِسْعٍ وَسِتِّیْنَ جُزْئً ا کُلُّہُنَّ مِثْلُ حَرِّھَا۔)) (مسند احمد: ۸۱۱۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہاری یہ آگ، جسے انسان جلاتے ہیں، جہنم کی آگ کا سترواں حصہ ہے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگوں کو عذاب دینے کے لیے تو یہی آگ کافی تھی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بہرحال جہنم کی آگ اِس آگ کی بہ نسبت مزید انہتر گنا تیز ہے، ہر ایک کی حرارت اس کی طرح ہے۔

13205

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13205

Sahih

۔ (۱۳۲۰۵)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِشْتَکَتِ النَّارُ اِلٰی رَبِّہَا فَقَالَتْ: رَبِّ اَکَلَ بَعْضِیْ بَعْضًا، فَنَفِّسْنِیْ، فَاَذِنَ لَھَا فِیْ کُلِّ عَامٍ بِنَفَسَیْنَ، وَفِیْ رِوَایَۃٍ: نَفَسٍ فِی الشِّتَائِ وَنَفَسٍ فِی الصَّیْفِ، فَاَشَدُّ مَا تَجِدُوْنَ مِنَ الْبَرْدِ مِنْ زَمْہَرِیْرِ جَہَنَّمَ وَاَشَدُّ مَا تَجِدُوْنَ مِنَ الْحَرِّ مِنْ حَرِّ جَہَنَّمَ،وَفِیْ رِوَایَۃٍ: مِنْ فَیْحِ جَہَنَّمَ۔)) (مسند احمد: ۷۷۰۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جہنم نے اپنے ربّ سے شکایت کرتے ہوئے کہا: اے میرے رب! میرا بعض حصہ بعض حصے کو کھا رہا ہے، لہذا مجھے سانس لینے کی اجازت دو، اللہ تعالیٰ نے اس کو ہر ایک سال میں دو مرتبہ سانس لینے کی اجازت دی، ایک سانس سردیوں میں اور ایک سانس گرمیوں میں، یہ جو تم شدید ٹھنڈک محسوس کرتے ہو، وہ جہنم کی سخت سردی کا اثر ہوتا ہے اور جو تم شدید گرمی محسوس کرتے ہو، وہ جہنم کی گرمی کا یا بھاپ کا اثر ہوتاہے۔