Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 175 · Chapter 2693

قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان

دجال کے ظہور سے تین سال پہلے لوگوں پر پڑنے والی مشکلات اور اس کے ظہور کے بعد ان کے ساتھ اس کے سلوک کا بیان

2 hadiths in this chapter

12969

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12969

Zaeef

۔ (۱۲۹۶۹)۔ عَنْ اَسْمَائَ بِنْتِ یَزِیْدَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَتْ: کُنَّا مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ بَیْتِہٖ فَقَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا کَانَ قَبْلَ خُرُوْجِ الدَّجَّالِ بِثَلَاثِ سِنِیْنَ، حَبَسَتِ السَّمَائُ ثُلُثَ قَطْرِھَا وَحَبَسَتِ الْاَرْضُ ثُلُثَ نَبََاتِہَا، فَاِذَا کَانَتِ السَّنَۃُ الثَّانِیَۃُ حَبَسَتِ السَّمَائُ ثُلُثَیْ قَطْرِھَا وَحَبَسَتِ الْاَرْضُ ثُلُثَیْ نَبَاتِہَا، وَاِذَا کَانَتِ السَّنَۃُالثَّالِِثَۃُ حَبَسَتِ السَّمَائُ قَطْرَھَا کُلَّھَا وَحَبَسَتِ الْاَرْضُ نَبَاتَہَا کُلَّہُ فَلَایَبْقٰی ذُوْخُفٍّ وَلَاظِلْفٍ اِلَّا ھَلَکَ، فَیَقُوْلُ الدَّجَّالُ لِلرَّجُلِ مِنْ اَھْلِ الْبَادِیَۃِ: اَرَاَیْتَ اِنْ بَعَثْتُ اِبِلَکَ ضِخَامًا ضُرُوْعُہَا عِظَامًا اَسْنِمَتُہَا اَتَعْلَمُ اَنِّیْ رَبُّکَ؟ فَیَقُوْلُ: نَعَمْ، فَتَمَثَّلَ لَہُ الشَّیَاطِیْنُ عَلٰی صُوْرَۃِ اِبِلِہٖفَیَتْبَعُہُ، وَیَقُوْلُ لِلرَّجُلِ: اَرَاَیْتَ اِنْ بَعَثْتُ اَبَاکَ وَاِبْنَکَ وَمَنْ تَعْرِفُ مِنْ اَھْلِکَ اَتَعْلَمُ اَنِّیْ رَبُّکَ؟ فَیَقُوْلُ: نَعَمْ، فَیُمَثِّلُ لَہُ الشَّیَاطِیْنَ عَلٰی صُوَرِھِمْ فَیَتْبَعُہُ۔)) ثُمَّ خَرََجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَبَکٰی اَھْلُ الْبَیْتِ، ثُمَّ رَجََعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَنَحْنُ نَبْکِیْ، فَقَالَ: ((مَا یُبْکِیْکُمْ؟)) فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا ذَکَرْتَ مِنَ الدَّجَّالِ، وَفِیْ رِوَایَۃٍ: لَقَدْ خَلَعْتَ اَفْئِدَتَنَا بِذِکْرِالدَّجَّالِ) فَوَاللّٰہِ! اِنَّ اَمَۃَ اَھْلِیْ لَتَعْجِنُ عَجِیْنَہَا فَمَا تَبْلُغُ حَتّٰی تَکَادُ تَفَنَّتْ مِنَ الْجُوْعِ، وَفِیْ رِوَایَۃٍ: اِنَّا لَنَعْجِنُ عَجِیْنَتَنَا فَمَا نَخْتَبِزُھَا حَتّٰی نَجُوْعَ) فَکَیْفَ نَصْنَعُ یَوْمَئِذٍ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَکْفِی الْمُوْمِنِیْنَ عَنِ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ یَوْمَئِذٍ التَّکْبِیْرُ وَالتَّسْبِیْحُ وَالتَّحْمِیْدُ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((لَا تَبْکُوْا فَاِنْ یَّخْرُ جِ الدَّجَّالُ وَاَنَا فِیْکُمْ، فَاَنَا حَجِیْجُہُ وَاِنْ یَّخْرُ جْ بَعْدِیْ فَاللّٰہُ خَلِیْفَتِیْ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ۔)) (مسند احمد: ۲۸۱۲۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ اسماء بنت یزید سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گھر میں موجود تھے، کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ظہور دجال سے تین سال قبل آسمان ایک تہائی پانی اور زمین ایک تہائی فصل رو ک لے گی، جب دوسرا سال آئے گا تو آسمان دو تہائی پانی اور زمین دو تہائی فصلیں روک لے گی، پھر جب تیسرا سال شروع ہو گا تو آسمان مکمل طور پر اپنا پانی اور زمین مکمل طور پر اپنی فصلیں روک لے گی، ٹاپوں (والے اونٹ) اور کھروں (والے گائے، بیل، بھیڑ بکری اور گھوڑے گدھے) سب ہلاک ہو جائیں گے۔ اتنے میں اُدھر دجال پہنچ کر ایک دیہاتی آدمی سے کہے گا: اگر میں تمہاری اونٹنیوں کو موٹی تازہ اور دودھ سے بھری تھنوں کی صورت میں پیدا کرکے دکھاؤں تو کیا تم مان جاؤ گے کہ میں تمہار اربّ ہوں؟ وہ کہے گا: ہاں بالکل۔ اس کے بعد شیطان اس آدمی کے اونٹوں کی شکل اختیار کریں گے تو وہ آدمی اس کے پیچھے لگ جائے گا۔ اسی طرح وہ دجال ایک اور آدمی سے کہے گا: اگر میں تمہارے باپ، بیٹے اور اور تم اپنے خاندان کے جن لوگوں کو پہچانتے ہو، سب کو زندہ کر دوں تو کیا تم یقین کر لو گے کہ میں تمہارا ربّ ہوں؟ وہ کہے گا: ہاں بالکل، پھر وہ شیطانوں کو ان لوگوں کی شکل میں پیش کر دے گا تو وہ بھی اس کے پیچھے چلا جائے گا۔ اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باہر چلے گئے اور گھر میں موجود سارے لوگ رونے لگ گئے، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واپس تشریف لائے تو ہم سب رو رہے تھے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: تم لوگ کیوں رو رہے ہو؟ میں (اسماء) نے کہا: اللہ کے رسول! آپ نے دجال کے متعلق جو کچھ بیان کیا، اس کی وجہ سے ۔ ایک روایت میں ہے: آپ نے تو دجال کر ذکر کر کے ہمارے دلوں کو ہلا دیاہے، اللہ کی قسم! میرے اہل کی ایک لونڈی ہے، جب وہ آٹا گوندھتی ہے تو ابھی تک اپنا کام پورا نہیں کرتی کہ بھوک کی وجہ سے ٹوٹنے لگ جاتی ہے۔ ایک روایت میں ہے: جب ہم آٹا گوندھتی ہیں تو ابھی تک روٹی نہیں پکاتی کہ بھوک لگی ہوتی ہے، تو اُس وقت ہم کیا کریں گے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس وقت اہل ایمان کو کھانے پینے کی بجائے تکبیر، تسبیح اور تحمید کفایت کریں گے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم لوگ نہ روؤو، کیونکہ اگر میری موجودگی میں دجال کا ظہور ہو گیا تو میں اس کا مقابلہ کر لوں گا اور اگر میرے بعد ہوا تو ہر مسلمان پر خلیفہ اللہ تعالیٰ خود ہو گا۔

12970

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12970

Zaeef

۔ (۱۲۹۷۰)۔ وَعَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَکَرَ جَہْدًا یَکُوْنُ بَیْنَیَدَیِ الدَّجَّالِ۔ فَقَالُوْا: اَیُّ الْمَالِ خَیْرٌیَوْمَئِذٍ؟ قَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((غُلَامٌ شَدِیْدٌیَسْقِی اَھْلَہُ الْمَائَ، وَاَمَّا الطَّعَامُ فَلَیْسَ۔)) قَالُوْا: فَمَا طَعَامُ الْمُوْمِنِیْنَیَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: ((اَلتَّسْبِیْحُ وَالتَّقْدِیْسُ وَالتَّحْمِیْدُ وَالتَّہْلِیْلُ۔)) قَالَتْ عَائِشَۃُ: فَأَیْنَ الْعَرَبُ یَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: ((اَلْعَرَبُ یَوْ مَئِذٍ قَلِیْلٌ۔)) (مسند احمد: ۲۴۹۷۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دجال کے ظہور سے قبل شدت کے دور کی بات کی،صحابہ کرام نے پوچھا: ان دنوں کو نسا مال بہتر ہوگا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: طاقت ور غلام، جو اپنے مالکوں کو پانی پلا سکے گا، رہا مسئلہ کھانے کا، تو وہ تو سرے سے ہو گا ہی نہیں۔ صحابہ نے دریافت کیا: تو پھر ان دنوں مومنوں کا کھانا کیا ہو گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی تسبیح ، تقدیس ، تحمید اور تہلیل بیان کرنا۔ سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے پوچھا: ان دنوں عرب کہاں ہوں گے؟ فرمایا: ان دنوں عرب تھوڑے ہوں گے۔