Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 175 · Chapter 2692

قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان

ابن صیاد کے خلافِ عادت امور کا بیان

5 hadiths in this chapter

12964

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12964

Sahih

۔ (۱۲۹۶۴)۔ عَنْ اَبِیْ نِ سَعِیْدِ الْخُدْرِیَّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَاَلَ ابْنَ صَائِدٍ عَنْ تُرْبَۃِ الْجَنَّۃِ فَقَالَ: دَرْمَکَۃٌ بَیْضَائُ مِسْکٌ خَالِصٌ۔ قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((صَدَقَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۴۰۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ابن صائد سے جنت کی مٹی کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا: وہ سفید رنگ کی ملائم مٹی اور خالص کستوری والی ہے۔ یہ سن کرآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس نے سچ کہا ہے۔

12965

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12965

Zaeef

۔ (۱۲۹۶۵)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا اَنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لاِ بْنِ صَائِدٍ: ((مَاتَرٰی۔)) قَالَ: اَرٰی عَرْشًا عَلَی الْبَحْرِ حَوْلَہُ الْحَیَّاتُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَرٰی عَرْشَ اِبْلِیْسَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۶۵۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ابن صائد سے فرمایا: تجھے کیا چیز دکھائی دیتی ہے؟ اس نے کہا: میں سمندر پر ایک تخت دیکھتا ہوں، جس کے ارد گرد سانپ ہوتے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ ابلیس کا تخت دیکھتا ہے۔

12966

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12966

Sahih

۔ (۱۲۹۶۶)۔ وَعَنْ جَابِرٍ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم :مِثْلُہُ۔ (مسند احمد: ۱۵۰۱۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی قسم کی ایک حدیث بیان کی ہے۔

12967

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12967

Zaeef

۔ (۱۲۹۶۷)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِنِ الْخُدْرِیِّ قَالَ: ذُکِرَ ابْنُ صَیَّادٍ عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ عُمَرُ: اِنَّہُ یَزْعَمُ اَنَّہُ لَایَمُرُّ بِشَیْئٍ اِلَّا کَلَّمَہُ۔ (مسند احمد: ۱۱۷۷۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے ابن صیاد کا ذکر کیاگیا، تو سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: وہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ جس چیز کے پاس سے گزرے، وہ اس سے کلام کرتی ہے۔

12968

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12968

Zaeef

۔ (۱۲۹۶۸)۔ وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بِنِ اَبِیْ بَکْرَۃَ عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَمْکُثُ اَبَوَا الدَّجَّالِ ثَلاَثِیْنَ عَامًّا لَا یُوْلَدُ لَھُمَا ثُمَّ یُوْلَدُ لَھُمَا غُلَامٌ اَعْوَرُ اَضَّرُّ شَیْئٍ وَاَقَلُّہُ نَفْعًا، یَنَامُ عَیْنَاہُ وَلَایَنَامُ قَلْبُہُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۷۹۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دجال کے والدین کے ہاں تیس برس تک اولاد نہیں ہوگی، اس کے بعد ان کے ہاں ایک کانا بچہ پیدا ہوگا،وہ زیادہ نقصان والا اور کم نفع والابچہ ہوگا، جب وہ سوئے گا تو اس کی آنکھیں سوئیں گی اور دل جاگتا ہوگا۔