Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 175 · Chapter 2689

قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان

ابن صیاد کی جرأت، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اس کو قتل کرنے کے ارادہ کرنے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ان کو اس سے منع کر دینے کا بیان

4 hadiths in this chapter

12955

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12955

Sahih

۔ (۱۲۹۵۵)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرَّ بِاِبْنِ صَیَّادٍ فِیْ نَفَرٍ مِنْ اَصْحَابِہٖفِیْہِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَھُوَ یَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ عِنْدَ اُطُمِ بَنِیْ مَغَالَۃَ وَ ھُوَ غُلَامٌ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: قَدْ نَاھَزَ الْحُلْمَ) فَلَمْ یَشْعُرْ حَتّٰی ضَرَبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ظَہَرَہُ بِیَدِہٖ ثُمَّ قَالَ: ((اَتَشْہَدُ اَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ۔)) فَنَظَرَ اِلَیْہِ ابْنُ صَیَّادٍ فَقَالَ: اَشْہَدُ اَنَّکَ رَسُوْلُ الْاُمِّیِّیْنَ، ثُمَّ قَالَ ابْنُ صَیَّادٍ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : اَتَشْہَدُ اَنِّی رَسُوْلُ اللّٰہِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((آمَنْتُ بِاللّٰہِ وَبِرُسُلِہٖ۔)) قَالَالنَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَایَاْتِیْکَ؟)) قَالَ ابْنُ صَیَّادٍ: یَاْتِیْنِیْ صَادِقٌ وَکَاذِبٌ۔ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خُلِطَ لَکَ الْاَمْرُ۔)) ثُمَّ قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَنِّی قَدْ خَبَاْتُ لَکَ خَبِیْئًا۔)) وَخَبَأَ لَہُ {یَوْمَ تَاْتِ السَّمَائُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍ۔} فَقَالَ ابْنُ صَیَّادٍ: ھُوَ الدُّخُّ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِخْسَاْ، فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَکَ۔)) فَقَالَ عُمَرَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِئْذَنْ لِیْ فِیْہِ فَاَضْرِبَ عُنَقَہُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنْ یَکُنْ ھُوَ فَلَنْ تُسَلَّطَ عَلَیْہِ وَاِلَّا یَکُنْ ھُوَ، فَلَا خَیْرَ لَکَ فِیْ قَتْلِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۶۳۶۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ابن صیاد کے پاس سے گزر ہوا، جبکہ آپ کے ہمراہ سیدنا عمربن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سمیت کچھ صحابہ بھی تھے، ابن صیاد ابھی بچہ تھا اور وہ بنو مغالہ کے قلعہ کے قریب بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، ایک روایت کے مطابق وہ بلوغت کے قریب پہنچ چکا تھا، اسے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آمد کا پتہ نہیں چل سکا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے قریب گئے اور اپنا ہاتھ اس کی پشت پر رکھا اور پوچھا: کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہوکہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ ابن صیاد نے آپ کی طرف دیکھ کرکہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اُمّی لوگوں کے رسول ہیں۔ پھر ابن صیاد نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتا ہوں۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے پوچھا: تمہارے پاس کون آتا ہے؟ اس نے کہا: میرے پاس ایک سچا آتا ہے اور ایک جھوٹا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تجھ پر معاملہ خلط ملط ہوگیا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں ایک چیز اپنے ذہن میں سوچ رہا ہوں، تو بتا کہ وہ کیا ہے؟ جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دل میں وہ چیز {یَوْمَ تَاْتِ السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍ۔} تھی۔ اس نے کہا: وہ الدخ ہے۔ یہ سن کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ذلیل ہو جا، تو اپنی حیثیت سے آگے نہیں بڑھ سکے گا۔ اُدھر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کے رسول ! مجھے اجازت دیں میں اس کی گردن اتار دوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر یہ وہی دجال ہے تو تم اس کو قتل ہی نہیں کر سکو گے اور اگر یہ وہ نہیں تو اس کے قتل کرنے میں کوئی فائدہ نہیں۔

12956

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12956

Sahih

۔ (۱۲۹۵۶)۔ وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَمْشِیْ اِذْ مَرَّ بِصِبْیَانٍیَلْعَبُوْنَ، فِیْہِمْ ابْنُ صَیَّادٍ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَرِبَتْ یَدَاکَ اَتَشْہَدُ اَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ؟)) فَقَاَلَ ھُوَ: أَتَشْہَدُ اَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ؟ قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: دَعْنِیْ فَلِاَضْرِبَ عُنَقَہُ، قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنْ یَکُ الَّذِیْ تَخَافُ فَلَنْ تَسْتَطِیْعَہُ۔)) (مسند احمد: ۴۳۷۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ جارہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا گزرچند بچوں کے پاس سے ہوا، وہ کھیل رہے تھے اور ان میں ابن صیاد بھی تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا: تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں، کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ جواباً وہ کہنے لگا: اور کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ یہ صورتحال دیکھ کر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ! مجھے اجازت دیجئے کہ میں اسے قتل کر دوں؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر یہ وہی دجال ہے جس کا تمہیں اندیشہ ہو رہا ہے تو تم اسے ہرگز قتل نہیں کر سکو گے۔

12957

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12957

Sahih

۔ (۱۲۹۵۷)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: کُنَّا نَمْشِیْ مَعَ النَّبِیِّ فَمَرَّ بِابْنِ صَیَّادٍ فَقَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنِّیْ قَدْ خَبَاْتُ لَکَ خَبْأً۔)) قَالَ ابْنُ صَیَّادٍ: دُخٌّ، قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أِخْسَاْ، فَلْنَ تَعْدُوَ قَدْرَکَ۔)) فَقَالَ عُمَرُ: یَارَسُوْلُ اللّٰہِ! دَعْنِیْ، اَضْرِبُ عُنَقَہُ قَالَ: ((لَا، اِنْ یَّکُنِ الَّذِیْ تَخَافُ فَلَنْ تَسْتَطِیْعَ قَتْلَہُ۔)) (مسند احمد: ۳۶۱۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ جارہے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا گزر ابن صیاد کے پاس سے ہوا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے تمہارے لیے ذہن میں ایک چیز چھپائی ہے، تو بتا وہ کیا ہے؟ ابن صیاد نے کہا: وہ دُخ ہے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ذلیل ہو جا، تو ہر گز اپنی حیثیت سے آگے نہیں بڑھ سکے گا۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اس کو قتل کرنے دو۔ آپ نے فر مایا: نہیں، اگر یہ وہی دجال ہے، جس کا تمہیں اندیشہ ہو رہا ہے تو تم اسے ہرگز قتل نہیں کرسکو گے۔

12958

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12958

Sahih

۔ (۱۲۹۵۸)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلَہُ۔ (مسند احمد: ۱۱۷۹۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔