Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 175 · Chapter 2688

قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان

سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا ابن صیاد کا سامنا کرنے اور اسے مارنے اور اس وقت ابن صیاد کی طرف سے خلافِ عادت امور کے ظاہر ہونے کا بیان

2 hadiths in this chapter

12953

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12953

Sahih

۔ (۱۲۹۵۳)۔ وَعَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّہُ رَاٰی ابْنَ صَیَّادٍ فِیْ سِکَّۃٍ مِنْ سِکَکِ الْمَدِیْنَۃِ، فَسَبَّہُ ابْنُ عُمَرَ وَوَقَعَ فِیْہِ فَانْتَفَخَ حَتّٰی سَدَّ الطَّرِیْقَ فَضَرَبَہُ ابْنُ عُمَرَ بِعَصًا کَانَتْ مَعَہُ حَتّٰی کَسَرَھَاعَلَیْہِ فَقَالَتْ لَہٗحَفْصَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : مَاشَاْنُکَ وَشَاْنُہُ یُوْلِعُکَ بِہٖ،اَمَاسَمِعْتَرَسُوْلَاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّمَا یَخْرُجُ الدَّجَّالُ مِنْ غَضَبَۃٍیَغْضِبُہَا۔)) (مسند احمد: ۲۶۹۵۷)

اردو ترجمہ · Urdu

امام نافع کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ابن صیاد کو مدینہ منورہ کی ایک گلی میں دیکھا، تو انھوں نے اسے برا بھلا کہا اور اس کی ڈانٹ ڈپٹ کی، ابن صیاد غصے سے اس قدر پھول گیا کہ راستہ بند ہوگیا، سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس ایک لاٹھی تھی، انہوں نے اسے مار مار کر لاٹھی توڑ دی، سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے ان سے کہا: تمہیں اس سے کیا غرض ہے؟ کون سی چیز تمہیں اس پر اکسا رہی ہے؟ کیا تم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا: دجال اس وقت نکلے گا، جب اسے شدید غصہ آیا ہوا ہو گا۔

12954

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12954

Sahih

۔ (۱۲۹۵۴)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: لَقِیْتُ ابْنَ صَیَّادٍ مَرَّتَیْنِ، فَاَمَّا مَرَّۃً فَلَقِیْتُہُ وَمَعَہُ بَعْضُ اَصْحَابِہٖفَقُلْتُلِبَعْضِہِمْ: نَشَدْتُّکُمْبِاللّٰہِاِنْسَاَلْتُکُمْعَنْشَیْئٍ لَتَصْدُقُنِّیْ؟ قَالُوْا: نَعَمْ، قَالَ: قُلْتُ: اَتُحَدِّثُوْنِیْ اَنَّہٗھُوَ،قَالُوْا: لَا، قُلْتُ: کَذَبْتُمْ وَاللّٰہِ! لَقَدْ حَدَّثَنِیْ بَعْضُکُمْ وَھُوَ یَوْمَئِذٍ اَقَلُّکُمْ مَالًا وَوَلَدًا اَنَّہُ لَایَمُوْتُ حَتّٰییَکُوْنَ اَکْثَرَکُمْ مَالًا وَوَلَدًا وَھُوَالْیَوْمَ کَذٰلِکَ قَالَ: فَحَدَّثَنَا ثُمَّ فَارَقْتُہُ، ثُمَّ لَقِیْتُہُ مَرَّۃً اُخْرٰی وَقَدْ تَغَیَّرَتْ عَیْنُہُ فَقَلْتُ: مَتٰی فَعَلَتْ عَیْنُکَ مَا اَرٰی؟ قَالَ: لَا اَدْرِیْ، قُلْتُ:مَا تَدْرِیْ وَھِیَ فِیْ رَاْسِکَ، فَقَالَ: مَا تُرِیْدُ مِنِّیْیَا ابْنَ عُمَرَ اِنْ شَائَ اللّٰہُ تَعَالیٰ اَنْ یَّخْلُقَہُ مِنْ عَصَاکَ ہٰذِہٖخَلَقَہُوَنَخَرَکَاَشَدِّنَخِیْرِ حِمَارٍ سَمِعْتُہُ قَطُّ، فَزَعَمَ بَعْضُ اَصْحَابِیْ اَنَّیْ ضَرَبْتُہُ بِعَصًا کَانَتْ مَعِیَ حَتّٰی تَکَسَّرَتْ وَاَمَّا اَنَا فَوَاللّٰہِ مَاشَعَرْتُ قَالَ: فَدَخَلَ عَلٰی اُخْتِہِ حَفْصَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فَاَخْبَرَھَا فَقَالَتْ: مَا تُرِیْدُ مِنْہُ؟ اَمَا عَلِمْتَ اَنَّہُ قَالَ: تَعْنِی النَّبِیّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اَوَّلَ خُرُوْجِہٖعَلٰی النَّاسِ مِنْ غَضَبَۃٍیَغْضِبُہَا۔)) (مسند احمد: ۲۶۹۵۸)

اردو ترجمہ · Urdu

امام نافع کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ابن صیادسے دو دفعہ میری ملاقات ہوئی، ایک دفعہ جب میں اسے ملا تو اس کے ساتھ اس کے کچھ ساتھی بھی تھے، میں نے ان سے کہا: میں تم لوگوں کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ اگر میں تم سے کوئی بات پوچھوں تو تم سچ بولو گے؟ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے۔ میں نے پوچھا: کیا تم مجھے بتاؤ گے کہ یہ (ابن صیاد) وہی (دجال) ہے؟ انھوں نے کہا: نہیں، یہ وہ نہیں ہے، میں نے کہا: تم غلط کہتے ہو، اللہ کی قسم! تم ہی میں سے بعض نے مجھے بتلایا تھا کہ دجال شروع میں مال و اولاد کے لحاظ سے سب سے کم ہوگا، لیکن جب اسے موت آئے گی تو اس کا مال بھی سب سے زیادہ ہوگا اور اولاد بھی، یہ ساری باتیں اس پر صادق آتی ہیں، اس کے بعد میں اسے چھوڑ کر چلا گیا، پھر جب میری اس سے دوسری مرتبہ ملاقات ہوئی تو دیکھا کہ اس کی آنکھ خراب ہوچکی تھی، میں نے پوچھا: میں تمہاری آنکھ کو خراب دیکھ رہا ہوں، یہ کب سے ایسے ہے؟ وہ بولا: مجھے معلوم نہیں۔ میں نے کہا: یہ آنکھ تمہارے سر میں ہے اور تم نہیں جانتے کہ ایسا کب سے ہوا ہے؟ اس نے کہا: عبد اللہ بن عمر! تم مجھ سے کیا چاہتے ہو؟ اگر اللہ نے چاہا تو تمہاری اس لاٹھی سے دجال کو پیدا کر دے گا، اس کے بعد وہ زور سے گدھے کی طرح خرّاٹے لینے لگا، میں نے ایسی (مکروہ) آواز کبھی نہیں سنی تھی۔ پھر سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا:میرے کچھ دوست کہتے ہیں کہ میرے پاس ایک لاٹھی تھی اورمیں نے اس کو اتنا زدو کوب کیا کہ وہ ٹوٹ گئی۔ لیکن اللہ کی قسم! مجھے تو اس چیز کا بالکل علم نہیں ہوا۔ نافع کہتے ہیں : پھر سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنی ہمشیرہ سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس گئے اور ان کو یہ واقعہ بیان کیا،انہوں نے کہا: تمہیں اس سے کیا غرض ہے؟ کیا تم نہیں جانتے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا: دجال کا لوگوں کے سامنے پہلا ظہور شدید غصے کی صورت میں ہوگا۔