Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 175 · Chapter 2670

قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان

سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دور میں نمودار ہونے والے ان خوارج کا تذکرہ، جو متقدم الذکر عراقیوں کی اولا د تھے، ان کو حروریّہ بھی کہا جاتا ہے

4 hadiths in this chapter

12827

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12827

Sahih

۔ (۱۲۸۲۷)۔ عَن یُسَیْرِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: دَخَلْتُ عَلٰی سَہْلِ بْنِ حُنَیْفٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقُلْتُ :حَدِّثْنِیْ مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ فِی الْحَرُوْرِیَّۃِ، قَالَ: اُحَدِّثُکَ مَا سَمِعْتُ لَا اَزِیْدُکَ عَلَیْہِ ‘ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَذْکُرُ قَوْمًا:((یَخْرُجُوْنَ مِنْ ھٰہُنَا وَاَشَارَ بِیَدِہٖ نَحْوَ الْعِرَاقِ یَقْرَؤُوْنَ الْقُرْآنَ لَا یُجَاوِزُ حَنَاجِرَھُمْ یَمْرُقُوْنَ مِنَ الدِّیْنِ کَمَایَمْرُقُ السَّہْمُ مِنَ الرَّمِیَّۃِ۔)) قُلْتُ: ھَلْ ذَکَرَ لَھُمْ عَلَامَۃً؟ قَالَ: ہٰذَا مَا سَمِعْتُ لَا اَزِیْدُکَ عَلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۶۰۷۳)

اردو ترجمہ · Urdu

یسیر بن عمرو سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں سہل بن حنیف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گیا اور کہا کہ آپ مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا کوئی ایسا فرمان سنائیں جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حروریہ کے بارے میں ارشاد فرمایا ہو۔ انہوں نے کہا: میں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں اور اپنی طرف سے اس میں کوئی اضافہ نہیں کروں گا۔ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سنا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عراق کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا : ادھر سے کچھ لوگ نکلیں گے، وہ قرآن تو پڑھیں گے، لیکن وہ ان کے حلقوں سے نیچے نہیں اترے گا اور وہ دین سے یوں نکل جائیں گے، جیسے تیر شکار میں سے تیزی سے پار نکل جاتا ہے۔ میں نے پوچھا : آیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان لوگوں کی کوئی علامت بھی ذکر فرمائی تھی؟ انھوں نے کہا: جی میں نے اتنا ہی سنا ہے، میں اس پر اضافہ نہیں کروں گا۔

12828

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12828

Sahih

۔ (۱۲۸۲۸)۔ وَعَنْ سُوَیْدِ بْنِ غَفْلَۃَ قَالَ: قَالَ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ :اِذَا حَدَّثْتُکُمْ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَدِیْثًا فَلَاَنْ اَخِرَّ مِنَ السَّمَائِ اَحَبُّ مِنْ اَنْ اَکْذِبَ عَلَیْہِ، وَاِذَا حَدَّثْتُکُمْ عَنْ غَیْرِہِ فَاِنَّمَا اَنَارَجُلٌ مُحَارِبٌ وَالْحَرْبُ خُدْعَۃٌ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((یَخْرُجُ فِیْ آخِرِ الزَّمَانِ اَقْوَامٌ اَحْدَاثُ الْاَسْنَانِ سُفَہَائُ الْاَحْلَامِ یَقُوْلُوْنَ مِنْ قَوْلِ خَیْرِ الْبَرِیَّۃِ لَا یُجَاوِزُ اِیْمَانُہُمْ حَنَاجِرَھُمْ، فَاَیْنَمَا لَقِیْتُمُوْھُمْ فَاقْتُلُوْھُمْ فَاِنْ قَتْلَہُمْ اَجْرٌ لِمَنْ قَتَلَہُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۶۱۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب میں تمہیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کوئی حدیث بیان کروں تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جھوٹ باندھنے کی بہ نسبت مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ میں آسمان کی بلندی سے نیچے گر جاؤں، مگر جھوٹ نہ بولوں اور جب میں تمہیں کسی دوسرے کی کوئی بات سناؤں تو یاد رکھو کہ ان دنوں میری لوگوں سے لڑائی رہتی ہے اور لڑائی چالوں اور تدبیروں کو ہی کہتے ہیں، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: آخری زمانہ میں کچھ ایسے لوگ نمودار ہوں گے، جو نو عمر اور کم عقل ہوں گے، وہ باتیں تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیان کریں گے، لیکن ان کا ایمان ان کے گلوں سے آگے نہیں اترے گا، یہ لوگ تمہیں جہاں بھی ملیں، تم انہیں قتل کر دینا، کیونکہ ان کے قاتلوں کو قیامت کے دن اس قتل کا اجر ملے گا۔

12829

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12829

Zaeef

۔ (۱۲۸۲۹)۔ وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو ( بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ:((سَیَخْرُجُ اُنَاسٌ مِنْ اُمَّتِیْ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ یَقْرَؤُوْنَ الْقُرْآنَ لَایُجَاوِزُ تَرَاقِیَھِمْ، کُلَّمَا خَرَجَ مِنْہُمْ قَرْنٌ قُطِعَ کُلَّمَا خَرَجَ مِنْہُ قَرْنٌ قُطِعَ، حَتّٰی عَدَّھَا زِیَادَۃً عَلٰی عَشْرَۃِ مَرَّاتٍ، کُلَّمَا خَرَجَ مِنْہُ قَرْنٌ قُطِعَ حَتّٰییَخْرُجُ الدَجَّالُ فِیْ بَقِیَّتِہِمْ۔)) (مسند احمد:۶۸۷۱ )

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عنقریب میری امت میں مشرقی جہت سے ایسے لوگ نمودار ہوں گے، جو قرآن مجید تو بڑے خوبصورت انداز میں پڑھیں گے، لیکن وہ ان کے گلے سے نیچے نہیں اترے گا ،جب بھی ان میں سے کوئی نسل ظاہر ہو گی تو اسے قتل کر دیا جائے گا، پھر جب ان کی نسل منظرِ عام پر آئے گی تو اسے بھی قتل کر دیا جائے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دس دفعہ ان کا اسی طرح ذکر کیا (اور آخری مرتبہ فرمایا:) جب بھی ان کی نسل ظاہر ہو گی تو اسے ختم کر دیا جائے گا، یہان تک کہ ان کے باقی ماندہ لوگوں میں دجال نمودار ہو گا۔

12830

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12830

Sahih

۔ (۱۲۸۳۰)۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ :((یَخْرُجُ مِنْ اُمَّتِیْ قَوْمٌ یُسِیْئُوْنَ الْاَعْمَالَ یَقْرَؤُوْنَ الْقُرْآنَ لَایُجَاوِزُ حَنَاجِرَھُمْ۔)) قَالَ یَزِیْدُ (اَحَدُ الرُّوَاۃِ): لَا اَعْلَمُہٗاِلَّاقَالَ: ((یَحْقِرُ اَحَدُکُمْ عَمَلَہُ مَعَ عَمَلِہِمْ یَقْتُلُوْنَ اَھْلَ الْاِسْلَامِ فَاِذَا خَرَجُوْا فَاقْتُلُوْھُمْ، ثُمَّ اِذَا خَرَجُوْا فَاقْتُلُوْھُمْ، ثُمَّ اِذَا خَرَجُوْا فَاقْتُلُوْھُمْ، فَطُوْبٰی لِمَنْ قَتَلَہُمْ وَطُوْبٰی لِمَنْ قَتَلُوْہُ، کُلَّمَا طَلَعَ مِنْہُمْ قَرْنٌ قَطَعَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔)) فَرَدَّدَ ذٰلِکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عِشْرِیْنَ مَرَّۃً اَوْ اَکْثَرَ وَاَنَا اَسْمَعُ۔ (مسند احمد: ۵۵۶۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : میری امت میں ایک ایسی بد عمل قوم پیدا ہو گی، کہ وہ قرآن کی تلاوت تو کریں گے، لیکن وہ ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا، (بظاہر ان کے عمل اتنے اچھے ہوں گے کہ) تم اپنے اعمال کو ان کے اعمال کے مقابلے میں کم تر سمجھو گے، وہ اہل اسلام کو قتل کریں گے، جب ایسے لوگ نمودار ہوں تو تم انہیں قتل کر دینا، اس کے بعد پھر جب ان کا ظہور ہوتو ان کو قتل کر دینا، پھر جب وہ ظاہر ہوں تو ان کو مار ڈالنا، ان کو قتل کرنے والے کے لیے بھی بشارت ہے اور ان کے ہاتھوں قتل ہو جانے والے کے لیے بھی خوشخبری ہے، جب ان کی نسل نمودار ہوگی تو اللہ تعالیٰ اسے نیست و نابود کر دے گا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس بات کو بیس یا اس سے بھی زائد مرتبہ دہرایا اور میں سنتا رہا۔