Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 174 · Chapter 2619

کتاب الفضائل

بنوازد اور بنو تمیم کے بارے میں وراد احادیث کا بیان

3 hadiths in this chapter

12577

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12577

Sahih

۔ (۱۲۵۷۷)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نِعْمَ الْقَوْمُ الْأَزْدُ، طَیِّبَۃٌ أَفْوَاہُہُمْ، بَرَّۃٌ أَیْمَانُہُمْ، نَقِیَّۃٌ قُلُوبُہُمْ۔)) (مسند احمد: ۸۶۰۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بنو ازد بہترین قوم ہیں، ان کے منہ یعنی ان کی گفتگو نہایت عمدہ ہے، یہ اپنی نذروں کو پورا کرتے ہیں اور ان کے دل (بغض، حسد اور کینہ وغیرہ سے)صاف اور پاک ہیں۔

12578

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12578

Sahih

۔ (۱۲۵۷۸)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ہٰذِہِ صَدَقَۃُ قَوْمِی، وَہُمْ أَشَدُّ النَّاسِ عَلَی الدَّجَّالِ۔)) یَعْنِی بَنِی تَمِیمٍ۔ قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ: مَا کَانَ قَوْمٌ مِنَ الْأَحْیَائِ أَبْغَضُ إِلَیَّ مِنْہُمْ فَأَحْبَبْتُہُمْ مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ ہٰذَا۔ (مسند احمد: ۹۰۵۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بنو تمیم کے بارے میں فرمایا: یہ صدقہ میری قوم کی طرف سے ہے اور یہ دجال کے مقابلہ میں سب سے زیادہ سخت ہوں گے۔ سیدنا ابو ہریرہ کہتے ہیں: ا س سے پہلے بنو تمیم کے لوگ مجھے سب سے زیادہ ناپسند تھے، لیکن میں نے جب سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ان کے بارے میں یہ فرماتے سنا، تب سے میں ان سے محبت کرتا ہوں۔

12579

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12579

Sahih

۔ (۱۲۵۷۹)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَمْزَۃَ، حَدَّثَنَا عِکْرِمَۃُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: وَنَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِی تَمِیمٍ عِنْدَہُ فَأَخَذَ کَفًّا مِنْ حَصًی لِیَحْصِبَہُ، ثُمَّ قَالَ عِکْرِمَۃُ: حَدَّثَنِی فُلَانٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: أَنَّ تَمِیمًا ذُکِرُوْا عِنْدَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَجُلٌ: أَبْطَأَ ہٰذَا الْحَیُّ مِنْ تَمِیمٍ، عَنْ ہٰذَا الْأَمْرِ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلٰی مُزَیْنَۃَ، فَقَالَ: ((مَا أَبْطَأَ قَوْمٌ ہٰؤُلَائِ مِنْہُمْ۔)) وَقَالَ رَجُلٌ: یَوْمًا أَبْطَأَ ہٰؤُلَائِ الْقَوْمُ مِنْ تَمِیمٍ بِصَدَقَاتِہِمْ، قَالَ: فَأَقْبَلَتْ نَعَمٌ حُمْرٌ، وَسُودٌ لِبَنِی تَمِیمٍ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((ہٰذِہِ نَعَمُ قَوْمِی۔)) وَنَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِی تَمِیمٍ عِنْدَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمًا، فَقَالَ: ((لَا تَقُلْ لِبَنِی تَمِیمٍ إِلَّا خَیْرًا، فَإِنَّہُمْ أَطْوَلُ النَّاسِ رِمَاحًا عَلَی الدَّجَّالِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۶۷۴)

اردو ترجمہ · Urdu

عکرمہ بن خالد سے مروی ہے کہ اس کے سامنے ایک آدمی نے بنو تمیم کے بارے میں نازیبا الفاظ کہے، تو انہوں نے اسے مارنے کے لیے کنکروں سے بھری ہوئی مٹھی اٹھالی، پھر عکرمہ نے کہا: مجھے فلاں صحابی نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بنو تمیم کا ذکر کیا گیا تو کسی نے کہا: انہوں نے اسلام قبول کرنے میں کافی تاخیر کر دی تھی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بنو مزینہ کی طرف دیکھ کر فرمایا: ان لوگوں نے کوئی دیر نہیں کی، بنو مزینہ بھی انہی میں سے ہیں۔ پھر ایک دن ایک آدمی نے یوں کہہ دیا کہ بنو تمیم نے اپنے صدقات کی ادائیگی اور ترسیل میں دیر کر دی ہے اور پھر بنو تمیم کی طرف سے سر خ اور سیاہ اونٹ آن پہنچے، تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان اونٹوں کو دیکھ کر فرمایا: یہ میری قوم کی زکوۃ ہے۔ پھر ایک آدمی نے بنو تمیم کے بارے میں ناقدانہ تبصرہ کیا، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم بنو تمیم کے بارے میں اچھی باتوں کے سوا کچھ نہ کہا کرو، دجال کے مقابلے میں ان کے نیزے سب سے بلند ہوں گے۔