Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 174 · Chapter 2618

کتاب الفضائل

بنو ثقیف اور دوس کے بارے میں وارد احادیث کا بیان

3 hadiths in this chapter

12574

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12574

Sahih

۔ (۱۲۵۷۴)۔ عَنْ جَابِرِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَللّٰہُمَّ اھْدِ ثَقِیْفًا۔)) (مسند احمد: ۱۴۷۵۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یا اللہ! بنو ثقیف کو ہدایت دے دے۔

12575

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12575

Sahih

۔ (۱۲۵۷۵)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ الطُّفِیْلُ وَاَصْحَابُہُ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ دَوْسًا قَدِ اسْتَعْصَتْ، قَالَ: اَللّٰہُمَّ اھْدِ دَوْسًا وَائْتِ بِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۹۷۸۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب سیدنا طفیل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور ان کے ساتھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آئے تو طفیل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: بے شک بنو دوس نے سرکشی کی ہے، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! بنودوس کو ہدایت دے اور ان کومیرے پاس لے آ۔

12576

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12576

Sahih

۔(۱۲۵۷۶) ۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، أَنَّ أَعْرَابِیًّا أَہْدٰی إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَکْرَۃً، فَعَوَّضَہُ سِتَّ بَکَرَاتٍ فَتَسَخَّطَہُ، فَبَلَغَ ذٰلِکَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَحَمِدَ اللہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ : ((إِنَّ فُلانًا أَھْدٰی إِلَیَّ نَاقَۃً ، وَھِیَ نَاقَتِی أَعْرِفُھَا کَمَا أَعْرِفُ بَعْضَ أَھْلِی ، ذَھَبَتْ مِنَّی یَوْمَ زَغَابَاتِ فَعَوَّضْتُہُ سِتَّ بکَرَاتِ فَظَلَّ سَاخِطّا ، لَقَدْ ھَمَمْتُ أَنْ لَا أَقْبَلَ ھَدِیَّۃً إِلَّا مِنْ قُرَشِیَّ أَوْ أِنْصَارِیَّ أَوْ ثَقَفِیَّ أَوْ دَوْسِیَّ ۔)) (مسند احمد : ۷۹۰۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک بدو نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں ایک اونٹنی بطور ہدیہ پیش کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے بدلے میں چھ اونٹنیاں عنایت فرمائیں، وہ تب بھی ناراض ہی رہا، جب یہ خبر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک پہنچی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر فرمایا: فلاں آدمی نے مجھے ایک اونٹنی بطور ہدیہ پیش کی تھی، حالانکہ وہ میری ہی اونٹنی تھی، میں اسے اسی طرح پہچانتا ہوں، جیسے میں اپنے اہل خانہ کو پہنچانتا ہوں، وہ زغابہ کے د ن لڑائی میں میرے ہاتھو ں سے نکل گئی تھی، تاہم میں نے اسے بدلے میں چھ اونٹنیاں دے دیں تھیں، مگر وہ پھر بھی ناراض رہا، اب میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں قریشی، انصاری، ثقفی یا دوسی کے علاوہ کسی سے کوئی ہدیہ قبول نہ کروں۔