Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 173 · Chapter 2569

خلافت و امارت کے مسائل

باب سوم: ان مناقب کا بیان، جن میں سیدنا حسن اور سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما مشترک ہیں

4 hadiths in this chapter

12406

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12406

Sahih

۔ (۱۲۴۰۶)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَمَعَہُ حَسَنٌ وَحُسَیْنٌ، ہٰذَا عَلٰی عَاتِقِہِ وَہٰذَا عَلٰی عَاتِقِہِ، وَہُوَ یَلْثِمُ ہٰذَا مَرَّۃً وَیَلْثِمُ ہٰذَا مَرَّۃً حَتَّی انْتَہٰی إِلَیْنَا، فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّکَ تُحِبُّہُمَا، فَقَالَ: ((مَنْ أَحَبَّہُمَا فَقَدْ أَحَبَّنِی، وَمَنْ اَبْغَضَہُمَا فَقَدْ اَبْغَضَنِیْ۔)) (مسند احمد: ۹۶۷۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے،اس وقت آپ نے سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ایک کندھے پر اور سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دوسرے کندھے پر اٹھایا ہوا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کبھی اس کا بوسہ لیتے اور کبھی اُس کا، یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چلتے چلتے ہمارے پاس آگئے، ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کوان دونوں سے محبت ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جسے ان دونوں سے محبت ہے،اسے مجھ سے محبت ہے اور جس نے ان دونوں سے بغض رکھا، اس نے مجھ سے بغض رکھا۔

12407

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12407

Sahih

۔ (۱۲۴۰۷)۔ (وَعَنْہٗاَیْضًا) قَالَ: کُنَّا نُصَلِّی مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْعِشَائَ، فَإِذَا سَجَدَ وَثَبَ الْحَسَنُ وَالْحُسَیْنُ عَلٰی ظَہْرِہِ، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ أَخَذَہُمَا بِیَدِہِ مِنْ خَلْفِہِ أَخْذًا رَفِیقًا، وَیَضَعُہُمَا عَلَی الْأَرْضِ، فَإِذَا عَادَ عَادَا حَتّٰی إِذَا قَضٰی صَلَاتَہُ، أَقْعَدَہُمَا عَلٰی فَخِذَیْہِ، قَالَ: فَقُمْتُ إِلَیْہِ، فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَرُدُّہُمَا فَبَرَقَتْ بَرْقَۃٌ، فَقَالَ لَہُمَا: ((الْحَقَا بِأُمِّکُمَا۔)) قَالَ: فَمَکَثَ ضَوْئُ ہَا حَتّٰی دَخَلَا عَلٰی اُمِّہِمَا۔ (مسند احمد: ۱۰۶۶۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ عشاء کی نماز ادا کررہے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سجدہ میں جاتے تو سیدنا حسن اور سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما آپ کی پشت پر سوار ہو جاتے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سر اٹھانے کا ارادہ کرتے تو آپ اپنا ہاتھ پیچھے کر کے نرمی سے انہیں پکڑ کر زمین پر بٹھا دیتے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوسرے سجدہ میں جاتے تو وہ پھر ویسے ہی کرتے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پوری کر لی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کو اپنی رانوں پر بٹھا لیا ، میں (ابوہریرہ) آپ کی طرف اٹھ کر گیا اور کہا : اللہ کے رسول ! میں انہیں گھر پہنچا آؤں ، اتنے میں ایک چمک سی ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا : تم دونوں اپنی والدہ کے پاس چلے جاؤ ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ان دونوں کے گھر داخل ہونے تک وہ چمک موجود رہی ، ایک روایت میں ہے : ان دونوں کے اپنی والدہ کے ہاں جانے تک وہ چمک باقی رہی ۔

12408

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12408

Sahih

۔ (۱۲۴۰۸)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْحَسَنُ وَالْحُسَیْنُ سَیِّدَا شَبَابِ اَھْلِ الْجَنَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۷۹۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ارشاد فرمایا: حسن اور حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نوجوانانِ جنت کے سردار ہیں۔

12409

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12409

Sahih

۔ (۱۲۴۰۹)۔ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی رَاشِدٍ، عَنْ یَعْلَی الْعَامِرِیِّ أَنَّہُ جَائَ حَسَنٌ وَحُسَیْنٌ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا یَسْتَبِقَانِ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَضَمَّہُمَا إِلَیْہِ، وَقَالَ: ((إِنَّ الْوَلَدَ مَبْخَلَۃٌ مَجْبَنَۃٌ وَإِنَّ آخِرَ وَطْأَۃٍ وَطِئَہَا الرَّحْمَنُ عَزَّ وَجَلَّ بِوَجٍّ۔)) (مسند احمد: ۱۷۷۰۵)

اردو ترجمہ · Urdu

یعلی عامری سے روایت ہے کہ سیدنا حسن اور سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف دوڑتے ہوئے آئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان دونو ں کو اپنے ساتھ لگا لیا اور فرمایا: بے شک اولاد بخل اور بزدلی کا باعث بنتی ہے اور فتح مکہ کے بعد رحمان کی طرف سے مشرکین کی آخری گرفت غزوۂ طائف میں وادیٔ وج کے مقام پر ہوئی تھی۔