Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 173 · Chapter 2560

خلافت و امارت کے مسائل

فصل سوم: جب سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر خوارج کا فساد واضح ہوا تو ان کا نہروان میں خوارج سے قتال کے لیے اپنے لشکر کو لے جانا

8 hadiths in this chapter

12372

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12372

Sahih

۔ (۱۲۳۷۲)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ قَالَ: لَمَّا خَرَجَتِ الْخَوَارِجُ بِالنَّہْرَوَانِ، قَامَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فِی أَصْحَابِہِ فَقَالَ: إِنَّ ہَؤُلَائِ الْقَوْمَ قَدْ سَفَکُوا الدَّمَ الْحَرَامَ، وَأَغَارُوا فِی سَرْحِ النَّاسِ، وَہُمْ أَقْرَبُ الْعَدُوِّ إِلَیْکُمْ، وَإِنْ تَسِیرُوْا إِلٰی عَدُوِّکُمْ أَنَا أَخَافُ أَنْ یَخْلُفَکُمْ ہٰؤُلَائِ فِی أَعْقَابِکُمْ، إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((تَخْرُجُ خَارِجَۃٌ مِنْ أُمَّتِی لَیْسَ صَلَاتُکُمْ إِلٰی صَلَاتِہِمْ بِشَیْئٍ، وَلَا صِیَامُکُمْ إِلٰی صِیَامِہِمْ بِشَیْئٍ، وَلَا قِرَائَتُکُمْ إِلٰی قِرَائَتِہِمْ بِشَیْئٍ،یَقْرَئُوْنَ الْقُرْآنَ یَحْسِبُونَ أَنَّہُ لَہُمْ وَہُوَ عَلَیْہِمْ، لَا یُجَاوِزُ حَنَاجِرَہُمْ، یَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ کَمَا یَمْرُقُ السَّہْمُ مِنَ الرَّمِیَّۃِ، وَآیَۃُ ذٰلِکَ أَنَّ فِیہِمْ رَجُلًا، لَہُ عَضُدٌ وَلَیْسَ لَہَا ذِرَاعٌ، عَلَیْہَا مِثْلُ حَلَمَۃِ الثَّدْیِ، عَلَیْہَا شَعَرَاتٌ بِیضٌ، لَوْ یَعْلَمُ الْجَیْشُ الَّذِینَیُصِیبُونَہُمْ، مَا لَہُمْ عَلٰی لِسَانِ نَبِیِّہِمْ، لَاتَّکَلُوا عَلَی الْعَمَلِ، فَسِیرُوا عَلَی اسْمِ اللّٰہِ۔)) فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِطُولِہِ۔ (مسند احمد: ۷۰۶)

اردو ترجمہ · Urdu

زید بن وہب سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب نہروان میں خوارج کا ظہور ہوا تو سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے رفقاء میں کھڑے ہو کر کہا: ان لوگوں نے نا حق خون بہایااور انھوں نے لوگوں کے جانوروں کو لوٹا اور وہ تمہارے دشمنوں میں سے قریب ترین بھی ہیں، اندیشہ ہے کہ اگر تم اپنے دوسرے دشمن کی طرف جاؤ تو یہ تمہارے بعد باقی ماندہ افراد و اموال پر چڑھ آئیں گے، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے سنا ہے: میری امت میں ایسا گروہ بھی آئے گا کہ تمہاری نمازیں اور روزے ان کی نمازوں اور روزوں کے بالمقابل کچھ بھی نہ ہوں گی اور تمہاری تلاوت ان کی تلاوت کا مقابلہ نہیں کر سکے گی، وہ قرآن کو پڑھیں گے اور سمجھیں گے کہ یہ ان کے حق میں ہے، جبکہ درحقیقت وہ ان کے خلاف ہوگا اور وہ ان کے حلقوں سے نیچے تک نہیں اترے گا، وہ اسلام میں سے یوں نکل جائیں گے، جیسے تیر شکار میں سے کچھ نشان لیے بغیر گزر جاتا ہے، ان کی علامت یہ ہے کہ ان میں سے ایک آدمی کا بازو محض کہنی کے اوپر والا حصہ ہوگا اور کہنی سے نیچے والا حصہ نہ ہوگا اور وہ بھی پستان کی مانند ہو گا، اس پر کچھ سفید بال ہوں گے، اگر ان کو قتل کرنے والوں کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان سے اپنے عمل اور اس کے ثواب کا علم ہو جائے تو وہ اپنے اسی عمل پر کفایت کر کے اعمال کرنا چھوڑ دیں گے، پس تم اللہ کا نام لے کر چل پڑو۔ اس کے بعد باقی حدیث ذکر بیان کی۔

12373

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12373

Sahih

۔ (۱۲۳۷۳)۔ عَنْ طَارِقِ بْنِ زِیَادٍ قَالَ: سَارَ عَلِیٌّ إِلَی النَّہْرَوَانِ، فَقَتَلَ الْخَوَارِجَ، فَقَالَ: اطْلُبُوا فَإِنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((سَیَجِیئُ قَوْمٌ یَتَکَلَّمُونَ بِکَلِمَۃِ الْحَقِّ، لَا یُجَاوِزُ حُلُوقَہُمْیَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ کَمَا یَمْرُقُ السَّہْمُ مِنَ الرَّمِیَّۃِ، سِیمَاہُمْ أَوْ فِیہِمْ رَجُلٌ أَسْوَدُ، مُخْدَجُ الْیَدِ، فِییَدِہِ شَعَرَاتٌ سُودٌ۔)) إِنْ کَانَ فِیہِمْ فَقَدْ قَتَلْتُمْ شَرَّ النَّاسِ، وَإِنْ لَمْ یَکُنْ فِیہِمْ فَقَدْ قَتَلْتُمْ خَیْرَ النَّاسِ۔ قَالَ: ثُمَّ إِنَّا وَجَدْنَا الْمُخْدَجَ، قَالَ: فَخَرَرْنَا سُجُودًا وَخَرَّ عَلِیٌّ سَاجِدًا مَعَنَا۔ (احمد: ۸۴۸)

اردو ترجمہ · Urdu

طارق بن زیاد سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی معیت میں خوارج کے مقابلہ کے لیے نکلے، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کوقتل کیا اور پھر کہا: ذرادیکھو، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا کہ عنقریب ایک قوم نکلے گی کہ وہ بات تو حق کی کریں گے، لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گی، وہ حق سے یوں نکل جائیں گے، جیسے تیر شکار میں سے گزر جاتا ہے، ان کی نشانی یہ ہے کہ ان میں ایک آدمی سیاہ فام، ناقص ہاتھ والا ہوگا، اس کے ہاتھ پر سیاہ بال ہوں گے۔ اب دیکھو کہ اگر کوئی مقتول ایسا ہو تو تم نے ایک بدترین لوگوں کو قتل کیا اور اگر کوئی مقتول ایسا نہ ہو تو تم نے نیک ترین لوگوں کو قتل کیا۔پھر ہم نے واقعی ناقص ہاتھ والے ایسے مقتول کو پا لیا، پھر ہم سب اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہوگئے اور ہمارے ساتھ علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی سجدہ میں گر گئے۔

12374

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12374

Sahih

۔ (۱۲۳۷۴)۔ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ أَبِی صَالِحٍ أَنَّ أَبَا الْوَضِیئِ عَبَّادًا حَدَّثَہُ: أَنَّہُ قَالَ: کُنَّا عَامِدِینَ إِلَی الْکُوفَۃِ مَعَ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، فَلَمَّا بَلَغْنَا مَسِیرَۃَ لَیْلَتَیْنِ أَوْ ثَلَاثٍ مِنْ حَرُورَائَ، شَذَّ مِنَّا نَاسٌ کَثِیرٌ، فَذَکَرْنَا ذٰلِکَ لِعَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، فَقَالَ: لَا یَہُولَنَّکُمْ أَمْرُہُمْ، فَإِنَّہُمْ سَیَرْجِعُونَ، فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِطُولِہِ، قَالَ: فَحَمِدَ اللّٰہَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَاللّٰہُ عَنْہُ وَقَالَ: إِنَّ خَلِیلِی أَخْبَرَنِی أَنَّ قَائِدَ ہٰؤُلَائِ رَجُلٌ مُخْدَجُ الْیَدِ، عَلٰی حَلَمَۃِ ثَدْیِہِ شَعَرَاتٌ، کَأَنَّہُنَّ ذَنَبُ الْیَرْبُوعِ، فَالْتَمَسُوہُ فَلَمْ یَجِدُوہُ فَأَتَیْنَاہُ فَقُلْنَا: إِنَّا لَمْ نَجِدْہُ، فَقَالَ: فَالْتَمِسُوہُ فَوَاللّٰہِ! مَا کَذَبْتُ وَلَا کُذِبْتُ ثَلَاثًا، فَقُلْنَا: لَمْ نَجِدْہُ فَجَائَ عَلِیٌّ بِنَفْسِہِ، فَجَعَلَ یَقُولُ: اِقْلِبُوا ذَا، اِقْلِبُوا ذَا، حَتّٰی جَائَ رَجُلٌ مِنَ الْکُوفَۃِ، فَقَالَ: ہُوَ ذَا، قَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: اَللّٰہُ أَکْبَرُ! لَا یَأْتِیکُمْ أَحَدٌ یُخْبِرُکُمْ مَنْ أَبُوہُ، فَجَعَلَ النَّاسُ یَقُولُونَ: ہَذَا مَالِکٌ، ہَذَا مَالِکٌ، یَقُولُ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: اِبْنُ مَنْ ہُوَ؟ (مسند احمد: ۱۱۸۹)

اردو ترجمہ · Urdu

ابو وضیئی عباد کہتے ہیں: ہم علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی معیت میں کوفہ کی طرف جا رہے تھے، جب ہم حروراء سے دو تین راتوں کی مسافت آگے گئے تو ہم میں سے بہت سے لوگ الگ ہوگئے، ہم نے علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اس چیز کا ذکر کیا، انہوں نے کہا: ان کی یہ حرکت تمہیں پریشان نہ کرے، یہ لوگ عنقریب لوٹ جائیں گے،اس کے بعد انہوں نے ساری حدیث ذکر کی، پھر سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور کہا: میرے خلیل ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بتلایا تھا کہ ان لوگوں کا سردار نامکمل ہاتھ والا ہو گا اور اس کے سرِ پستان پر کچھ بال ہوں گے، جیسے ایک قسم کے چھوٹے چوہے کی دم ہوتی ہے۔ اب تم لوگ اسے تلاش کرو، انہیں ایسا کوئی آدمی نہ ملا، ہم نے ان کی خدمت میں آکر عرض کی کہ ہمیں تو ایسا کوئی آدمی نہیں ملا، انہوں نے کہا: پھر تلاش کرو، اللہ کی قسم نہ میں نے غلط بات کہی ہے اور نہ مجھے غلط بات بتائی گئی ہے، یہ بات انھوں نے تین بار دہرائی، ہم نے کہا: ہمیں تو ایسا کوئی آدمی نہیں ملا، پھر سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خود تشریف لائے اور کہنے لگے: اسے الٹ کر دیکھو، اسے الٹو، یہاں تک کہ ایک کوفی آدمی آیا اور اس نے کہا: یہ ہے وہ آدمی، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اللہ اکبر کہا اور پھر کہا: کوئی آدمی تمہیں یہ نہیں بتلا سکے گا کہ اس کاباپ کون ہے؟ لوگ کہنے لگے: یہ مالک ہے، یہ مالک ہے، انھوں نے کہا: یہ تو بتلاؤ یہ کس کا بیٹا ہے۔

12375

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12375

Sahih

۔ (۱۲۳۷۵)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) أَنَّہُ قَالَ: کُنَّا عَامِدِینَ إِلَی الْکُوفَۃِ مَعَ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، فَذَکَرَ حَدِیثَ الْمُخْدَجِ، قَالَ عَلِیٌّ: فَوَاللّٰہِ! مَا کَذَبْتُ وَلَا کُذِبْتُ ثَلَاثًا، فَقَالَ عَلِیٌّ: أَمَا إِنَّ خَلِیلِی أَخْبَرَنِی ثَلَاثَۃَ إِخْوَۃٍ مِنَ الْجِنِّ، ہٰذَا أَکْبَرُہُمْ، وَالثَّانِی لَہُ جَمْعٌ کَثِیرٌ، وَالثَّالِثُ فِیہِ ضَعْفٌ۔ (مسند احمد: ۱۱۹۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) ابو وضیئی کہتے ہیں: ہم سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی معیت میں کوفہ کی طرف جا رہے تھے، پھر انہوں نے ناقص ہاتھ والے آدمی سے متعلقہ حدیث کا ذکر کیا، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے تین بار کہا: اللہ کی قسم! نہ تو میں نے جھوٹ کہا ہے اور نہ مجھے جھوٹی بات بیان کی گئی ہے، پھر کہا: میرے خلیل ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بتلایاتھاکہ جنوں میں سے تین بھائی ہیں، یہ سب سے بڑا ہے، دوسرے کی بہت بڑی جمعیت ہے اور تیسرے میں ضعف اور کمزوری ہے۔

12376

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12376

Sahih

۔ (۱۲۳۷۶)۔ عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبِیدَۃَ قَالَ: لَمَّا قَتَلَ عَلِیٌّ أَہْلَ النَّہْرَوَانِ، قَالَ: الْتَمِسُوہُ، فَوَجَدُوہُ فِی حُفْرَۃٍ تَحْتَ الْقَتْلٰی فَاسْتَخْرَجُوہُ، وَأَقْبَلَ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَلٰی أَصْحَابِہِ فَقَالَ: لَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوا لَأَخْبَرْتُکُمْ مَا وَعَدَ اللّٰہُ مَنْ یَقْتُلُ ہٰؤُلَائِ عَلٰی لِسَانِ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَہُ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِی وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ۔ (مسند احمد: ۹۸۳)

اردو ترجمہ · Urdu

عبیدہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:جب سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اہل نہروان کو قتل کیاتو انہوں نے کہا: اس قسم کے مقتول کو تلاش کرو، لوگوں نے اسے مقتولین کے نیچے ایک گڑھے میں گرا ہوا پایا، انھوں نے اس کو نکالا اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہوکر کہا: اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ تم فخر و غرور میں مبتلا ہوجاؤ گے تو میں تمہیں بتلاتا کہ اللہ تعالیٰ نے محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زبانی ان لوگوں کے قاتلین کے لیے کیا وعدہ فرمایا ہے، میں نے کہا: اے علی! کیا آپ نے خود یہ بات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، رب کعبہ کی قسم ہے۔

12377

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12377

Sahih

۔ (۱۲۳۷۷)۔ حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ، حَدَّثَنِی سَعِیدُ بْنُ جُمْہَانَ، قَالَ: کُنَّا نُقَاتِلُ الْخَوَارِجَ، وَفِینَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ أَبِی أَوْفٰی، وَقَدْ لَحِقَ لَہُ غُلَامٌ بِالْخَوَارِجِ، وَہُمْ مِنْ ذَلِکَ الشَّطِّ، وَنَحْنُ مِنْ ذَا الشَّطِّ، فَنَادَیْنَاہُ أَبَا فَیْرُوزَ! أَبَا فَیْرُوزَ! وَیْحَکَ، ہٰذَا مَوْلَاکَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ أَبِی أَوْفٰی، قَالَ: نِعْمَ الرَّجُلُ ہُوَ لَوْ ہَاجَرَ، قَالَ: مَا یَقُولُ عَدُوُّ اللّٰہِ؟ قَالَ: قُلْنَا: یَقُولُ: نِعْمَ الرَّجُلُ لَوْ ہَاجَرَ، قَالَ: فَقَالَ: أَہِجْرَۃٌ بَعْدَ ہِجْرَتِی مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((طُوبٰی لِمَنْ قَتَلَہُمْ وَقَتَلُوہُ۔)) (مسند احمد: ۱۹۳۶۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سعید بن جمہان سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم خوراج سے قتال کر رہے تھے، ہمارے ساتھ سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی تھے، ان کا ایک غلام جا کر خوارج کے ساتھ مل گیا، وہ ایک کنارے پر تھے اور ہم دوسری طرف، ہم نے اسے آواز دی، ابو فیروز! ابو فیروز، تمہارے آقا سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہاں ہیں، اس نے کہا: اگر ہجرت کر آئیں تو بہت ہی اچھے ہیں، سیدنا ابن ابی اوفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے پوچھا: وہ اللہ کا دشمن کیا کہہ رہا ہے؟ ہم نے کہا وہ کہہ رہا ہے کہ وہ اچھا آدمی ہے اگر وہ ہجرت کرے اس کی بات سن کر ابن ابی اوفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا:کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ہجرت کے بعد مزید ہجرت ہے؟ پھر کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے کہ اس آدمی کے لیے خوشخبری ہے، جو ان کو قتل کرے یا جس کو یہ قتل کریں۔

12378

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12378

Sahih

۔ (۱۲۳۷۸)۔ حَدَّثَنَا أَبُو کَثِیرٍ مَوْلَی الْأَنْصَارِ، قَالَ: کُنْتُ مَعَ سَیِّدِی عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ حَیْثُ قُتِلَ أَہْلُ النَّہْرَوَانِ، فَکَأَنَّ النَّاسَ وَجَدُوا فِی أَنْفُسِہِمْ مِنْ قَتْلِہِمْ، فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: یَا أَیُّہَا النَّاسُ! إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ حَدَّثَنَا بِأَقْوَامٍ یَمْرُقُونَ مِنَ الدِّینِ کَمَا یَمْرُقُ السَّہْمُ مِنَ الرَّمِیَّۃِ، ثُمَّ لَا یَرْجِعُونَ فِیہِ أَبَدًا حَتّٰییَرْجِعَ السَّہْمُ عَلٰی فُوقِہِ، وَإِنَّ آیَۃَ ذٰلِکَ أَنَّ فِیہِمْ رَجُلًا أَسْوَدَ، مُخْدَجَ الْیَدِ إِحْدٰییَدَیْہِ کَثَدْیِ الْمَرْأَۃِ، لَہَا حَلَمَۃٌ کَحَلَمَۃِ ثَدْیِ الْمَرْأَۃِ، حَوْلَہُ سَبْعُ ہُلْبَاتٍ۔ فَالْتَمِسُوہُ فَإِنِّی أُرَاہُ فِیہِمْ فَالْتَمَسُوہُ فَوَجَدُوہُ إِلٰی شَفِیرِ النَّہَرِ تَحْتَ الْقَتْلٰی، فَأَخْرَجُوہُ فَکَبَّرَ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَالَ: اللّٰہُ أَکْبَرُ، صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُولُہُ، وَإِنَّہُ لَمُتَقَلِّدٌ قَوْسًا لَہُ عَرَبِیَّۃً، فَأَخَذَہَا بِیَدِہِ فَجَعَلَ یَطْعَنُ بِہَا فِی مُخْدَجَتِہِ، وَیَقُولُ: صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُولُہُ، وَکَبَّرَ النَّاسُ حِینَ رَأَوْہُ وَاسْتَبْشَرُوْا، وَذَہَبَ عَنْہُمْ مَا کَانُوا یَجِدُونَ۔ (مسند احمد: ۶۷۲)

اردو ترجمہ · Urdu

انصار کے غلام ابو کثیر سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں اپنے سردار سیدنا علی ابن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہمراہ تھا، جب انہوں نے اہل نہروان کو قتل کیا تو یو ں محسوس ہواکہ ان کو قتل کرنے کے بعد لوگوں کو ندامت اور افسوس محسوس ہوا، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ صورت بھانپ کر کہا: لوگو! رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں ایسے لوگوں کی بابت بتلایا تھا جو دین میں سے اس طرح نکل جائیں گے، جیسے تیر شکار میں سے گزر جاتا ہے، وہ کبھی دین کی طرف واپس نہیں آئیں گے، یہاں تک کہ تیر کمان میں واپس آ جائے، ان کی ایک علامت یہ ہے کہ ان میں ایک آدمی سیاہ فام ناقص ہاتھ والا ہوگا، اس کا وہ ہاتھ عورت کے پستان کی مانند ہوگا اور اس پریوں سرا بنا ہوگا جیسے پستان کے اوپر ہوتا ہے، اس کے ارد گرد سات بال ہوں گے، تم اسے تلاش کرو، میرا خیال ہے کہ وہ انہی میں ہوگا،لوگوں نے اسے تلاش کیا اوراسے نہر کے کنارے پر مقتولوں کے ڈھیر کے نیچے پایا، لوگوں نے اسے نکالا تو سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بلند آواز سے اللہ اکبر کہا اور فرمایا: اللہ اور اس کے رسول کی بات سچ ہے، اس وقت سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنی عربی کمان لٹکائے ہوئے تھے، وہ اسے اس مقتول کے ناقص ہاتھ والے گوشت کے ٹکڑے پر لگاتے اور کہتے جاتے تھے: اللہ اور اس کے رسول کا فرمان سچ ہے، لوگوں نے بھی جب اسے دیکھا تو اللہ اکبر کہنے لگے اور خوشی کا اظہار کیا اور ان کے افسوس کی کیفیت جاتی رہی۔

12379

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12379

Zaeef

۔ (۱۲۳۷۹)۔ عَنْ بَکْرِ بْنِ قِرْوَاشٍ عَنْ سَعْدٍ قِیلَ لِسُفْیَانَ: عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((شَیْطَانُ الرَّدْہَۃِیَحْتَدِرُہُیَعْنِی رَجُلًا مِنْ بَجِیلَۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۵۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا سعد سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خوارج کے سردار شیطان کو بنی بجیلہ کا ایک آدمی لڑ ھکائے گا یعنی قتل کرے گا۔ کسی نے سفیان سے کہا: کیا یہ روایت نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مروی ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔