Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 173 · Chapter 2559

خلافت و امارت کے مسائل

فصل دوم: خوارج، ان کے قائد کی علامت اور ان کی خدمت اور اس کا بیان کہ ان کو قتل کرنے کا حکم ہے اور یہ بیان کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا گروہ بر حق تھا

12 hadiths in this chapter

12360

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12360

Sahih

۔ (۱۲۳۶۰)۔ عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، عَنْ أَبِیہِ، قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، فَقَالَ: إِنِّی دَخَلْتُ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَلَیْسَ عِنْدَہُ أَحَدٌ إِلَّا عَائِشَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا، فَقَالَ: ((یَا ابْنَ أَبِی طَالِبٍ کَیْفَ أَنْتَ وَقَوْمَ کَذَا وَکَذَا؟)) قَالَ: قُلْتُ: اللّٰہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ، قَالَ: ((قَوْمٌ یَخْرُجُونَ مِنَ الْمَشْرِقِ، یَقْرَئُ وْنَ الْقُرْآنَ، لَا یُجَاوِزُ تَرَاقِیَہُمْ،یَمْرُقُونَ مِنَ الدِّینِ مُرُوقَ السَّہْمِ مِنَ الرَّمِیَّۃِ، فَمِنْہُمْ رَجُلٌ مُخْدَجُ الْیَدِ، کَأَنَّ یَدَیْہِ ثَدْیُ حَبَشِیَّۃٍ۔)) (مسند احمد: ۱۳۷۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس وقت آپ کے پاس سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ دوسرا کوئی اور فرد نہیں تھا ، آپ نے فرمایا : اے ابن ابی طالب ! تمہارا اور فلاں فلاں قوم کا کیا بنے گا ؟ میں نے کہا : اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مشرق کی جانب سے کچھ لوگ نکلیں گے ، وہ قرآن تو پڑھیں گے ، مگر وہ ان کے سینوں کے نیچے نہیں اترے گا ، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے ، جیسے شکار میں سے تیر تیزی سے گزر جاتا ہے ، ان میں سے ایک آدمی ناقص ہاتھ والا ہو گا ، یوں محسوس ہو گا کہ اس کے ہاتھ کسی حبشی عورت کے پستان ہیں ۔

12361

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12361

Sahih

۔ (۱۲۳۶۱)۔ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، قَالَ: ذُکِرَ الْخَوَارِجُ فَقَالَ: فِیہِمْ مُخْدَجُ الْیَدِ، أَوْ مُودَنُ الْیَدِ أَوْ مُثَدَّنُ الْیَدِ، لَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوْا لَحَدَّثْتُکُمْ بِمَا وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِینَیَقْتُلُونَہُمْ عَلٰی لِسَانِ مُحَمَّدٍ، قُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَہُ مِنْ مُحَمَّدٍ؟ قَالَ: إِی وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ، إِی وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ، إِی وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ۔ (مسند احمد: ۶۲۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ خوارج کا ذکرکیا گیا تو انھوں نے کہا:ان میں سے ایک آدمی ناقص ہاتھ والا ہوگا، اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہو کہ تم فخرو غرور میں مبتلا ہوجاؤ گے، تو میں تمہیں بتلاتاکہ اللہ تعالیٰ نے ان خوارج کو قتل کرنے والوں کے لیے محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زبان پر کیا وعدہ فرمایا ہے، میں نے کہا: کیا واقعی آپ نے محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس بارے میں سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا: جی ہاں، رب کعبہ کی قسم! جی ہاں، رب کعبہ کی قسم! جی ہاں، رب کعبہ کی قسم!

12362

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12362

Sahih

۔ (۱۲۳۶۲)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبِیدَۃَ أَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ ذَکَرَ أَہْلَ النَّہْرَوَانِ، فَقَالَ: فِیہِمْ رَجُلٌ مُودَنُ الْیَدِ، أَوْ مَثْدُونُ الْیَدِ، أَوْ مُخْدَجُ الْیَدِ، فَذَکَرَ نَحْوَہٗ۔ (مسند احمد: ۹۰۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند)سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اہل نہروان کا ذکرکرتے ہوئے کہا: ان میں سے ایک آدمی ناقص ہاتھ والا ہوگا، … پھر اسی طرح کی حدیث ذکر کی۔

12363

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12363

Zaeef

۔ (۱۲۳۶۳)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ، قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا حَلَفَ وَاجْتَہَدَ فِی الْیَمِینِ، قَالَ: ((لَا، وَالَّذِی نَفْسُ أَبِی الْقَاسِمِ بِیَدِہِ، لَیَخْرُجَنَّ قَوْمٌ مِنْ أُمَّتِی، تُحَقِّرُونَ أَعْمَالَکُمْ مَعَ أَعْمَالِہِمْ، یَقْرَئُ وْنَ الْقُرْآنَ، لَا یُجَاوِزُ تَرَاقِیَہُمْ،یَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ، کَمَا یَمْرُقُ السَّہْمُ مِنَ الرَّمِیَّۃِ۔)) قَالُوْا: فَہَلْ مِنْ عَلَامَۃٍیُعْرَفُونَ بِہَا؟ قَالَ: ((فِیہِمْ رَجُلٌ ذُو یُدَیَّۃٍ أَوْ ثُدَیَّۃٍ مُحَلِّقِی رُئُ وْسِہِمْ۔)) قَالَ أَبُو سَعِیدٍ: فَحَدَّثَنِی عِشْرُونَ أَوْ بِضْعٌ وَعِشْرُونَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ وَلِیَ قَتْلَہُمْ، قَالَ: فَرَأَیْتُ أَبَا سَعِیدٍ بَعْدَمَا کَبِرَ وَیَدَاہُ تَرْتَعِشُ یَقُولُ: قِتَالُہُمْ أَحَلُّ عِنْدِی مِنْ قِتَالِ عِدَّتِہِمْ مِنَ التُّرْکِ۔ (مسند احمد: ۱۱۳۰۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بہت زیادہ پختہ قسم اٹھاتے تو اس طرح فرماتے: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابو القاسم کی جان ہے! میری امت میں کچھ ایسے لوگ پیدا ہوں گے کہ تم ان کے اعمال کے مقابلہ میں اپنے اعمال کو معمولی سمجھو گے، وہ قرآن تو پڑھیں گے، لیکن قرآن ان کے سینوں سے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے، جیسے شکار میں سے تیر صاف نکل جاتا ہے۔ صحابۂ کرام نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کی کچھ علامات بیان فرما دیں، جن سے وہ پہنچانے جاسکیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان میں سے ایک آدمی کا ہاتھ یوں ہوگا، جیسے عورت کا پستان ہوتا ہے اور ان کے سرمنڈے ہوئے ہوں گے۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے فرمایا: مجھ سے بیس یا اس سے بھی زائد صحابہ نے بیان کیا کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کو قتل کیا تھا۔ عاصم سے مروی ہے کہ میں نے ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھا وہ عمر رسیدہ ہوچکے تھے اور ان کے ہاتھوں میں رعشہ تھا، وہ کہتے تھے: ان خوارج کو قتل کرنا میرے نزدیک انہی کے بقدر ترکوں سے لڑنے سے افضل اور اہم ہے۔

12364

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12364

Sahih

۔ (۱۲۳۶۴)۔ عَنْ یَزِیدَ الْفَقِیرِ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ: إِنَّ مِنَّا رِجَالًا ہُمْ أَقْرَؤُنَا لِلْقُرْآنِ وَأَکْثَرُنَا صَلَاۃً، وَأَوْصَلُنَا لِلرَّحِمِ، وَأَکْثَرُنَا صَوْمًا، خَرَجُوْا عَلَیْنَا بِأَسْیَافِہِمْ، فَقَالَ أَبُو سَعِیدٍ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((یَخْرُجُ قَوْمٌ یَقْرَئُ وْنَ الْقُرْآنَ لَا یُجَاوِزُ حَنَاجِرَہُمْ، یَمْرُقُونَ مِنْ الدِّینِ کَمَا یَمْرُقُ السَّہْمُ مِنَ الرَّمِیَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۵۰۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، انھوں نے کہا: ہم میں سے کچھ لوگ بہت زیادہ قرآن پڑھتے تھے، نماز ادا کرتے تھے، سب سے بڑھ کر صلہ رحمی کرتے اور روزے رکھتے تھے اوروہی تلواریں نکال کر ہمارے خلاف نکل آئے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا: کچھ لوگ ظاہر ہوں گے، وہ قرآن پڑھیں گے، لیکن قرآن ا ن کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے یوں نکل جائیں گے، جیسے تیر تیزی کے ساتھ شکار میں سے صاف نکل جاتا ہے۔

12365

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12365

Sahih

۔ (۱۲۳۶۵)۔ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ، قَالَ: جَائَ رَجُلٌ إِلـٰـی أَبِــی سَعِیدٍ فَقَالَ: ہَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَذْکُرُ فِی الْحَرُورِیَّۃِ شَیْئًا؟ قَالَ: سَمِعْتُہُ یَذْکُرُ قَوْمًا یَتَعَمَّقُونَ فِی الدِّینِیَحْقِرُ أَحَدُکُمْ صَلَاتَہُ عِنْدَ صَلَاتِہِمْ، وَصَوْمَہُ عِنْدَ صَوْمِہِمْ، یَمْرُقُونَ مِنَ الدِّینِ کَمَا یَمْرُقُ السَّہْمُ مِنَ الرَّمِیَّۃِ، أَخَذَ سَہْمَہُ فَنَظَرَ فِی نَصْلِہِ فَلَمْ یَرَ شَیْئًا، ثُمَّ نَظَرَ فِی رُصَافِہِ فَلَمْ یَرَ شَیْئًا، ثُمَّ نَظَرَ فِی قِدْحَتِہِ فَلَمْ یَرَ شَیْئًا، ثُمَّ نَظَرَ فِی الْقُذَذِ فَتَمَارٰی ہَلْ یَرٰی شَیْئًا أَمْ لَا۔ (مسند احمد: ۱۱۳۱۱)

اردو ترجمہ · Urdu

ابو سلمہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خدمت میں آیا اور اس نے کہا کہ کیا آپ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو حروریوں یعنی خوارج کی بابت کچھ بیان کرتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سنا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ لوگ دین میں بہت زیادہ باریکیوں اور گہرائی میں جائیں گے اور وہ اس قدر نیک ہوں گے کہ تم ان کے مقابلہ میں اپنی نمازوں کو اور اپنے روزوں کو معمولی سمجھو گے، لیکن وہ دین سے یوں صاف نکل جائیں گے، جیسے تیر شکار میں سے اس طرح تیزی کے ساتھ نکل جاتا ہے کہ شکاری اپنے تیر کو اٹھا کر اس کو دیکھتا ہے، لیکن اس میں کوئی اثر نظر نہیں آتا، پھر وہ اس کے پھل کا جائزہ لیتا ہے، لیکن وہ کوئی علامت دیکھ نہیں پاتا،پھر وہ اس کے بعد والے حصے کو دیکھتا ہے اس میں بھی کوئی اثر نظر نہیں آتا پھر پروں کو بھی اچھی طرح دیکھتا ہے، اور وہ اس بارے متردد ہو جاتا ہے کہ کیا کوئی اثر ہے یا نہیں۔

12366

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12366

Sahih

۔ (۱۲۳۶۶)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَفْتَرِقُ أُمَّتِی فِرْقَتَیْنِ، فَیَتَمَرَّقُ بَیْنَہُمَا مَارِقَۃٌ،یَقْتُلُہَا أَوْلَی الطَّائِفَتَیْنِ بِالْحَقِّ۔)) (مسند احمد: ۱۱۷۷۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت د وگروں میں تقسیم ہو جائے گی، پھر ان کے درمیان ایک تیسرا گروہ نکلے گا، دونوں میں سے جو گروہ حق کے زیادہ قریب ہوگا، وہ اس گروہ کو قتل کر ے گا۔

12367

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12367

Sahih

۔ (۱۲۳۶۷)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) أَنَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((لَا تَقُومُ السَّاعَۃُ حَتّٰییَقْتَتِلَ فِئَتَانِ عَظِیمَتَانِ، دَعْوَاہُمَا وَاحِدَۃٌ، تَمْرُقُ بَیْنَہُمَا مَارِقَۃٌ،یَقْتُلُہَا أَوْلَاہُمَا بِالْحَقِّ۔)) (مسند احمد: ۱۱۹۲۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی، جب تک کہ دو بڑے گروہ آپس میں نہیں لڑیں گے، جبکہ دونوں کا دعویٰ ایک ہوگا، پھر ان دونوں کے درمیان سے ایک تیسرا گروہ جنم لے گا، ان دونوں بڑے گروہوں میں سے جو حق کے زیادہ قریب ہوگا، وہ اس گروہ کو قتل کرے گا۔

12368

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12368

Sahih

۔ (۱۲۳۶۸)۔ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَکَرَ قَوْمًا یَکُونُونَ فِی أُمَّتِہِ، یَخْرُجُونَ فِی فِرْقَۃٍ مِنَ النَّاسِ، سِیمَاہُمْ التَّحْلِیقُ، ہُمْ شَرُّ الْخَلْقِ، أَوْ مِنْ شَرِّ الْخَلْقِیَقْتُلُہُمْ أَدْنَی الطَّائِفَتَیْنِ مِنَ الْحَقِّ، قَالَ: فَضَرَبَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَہُمْ مَثَلًا أَوْ قَالَ قَوْلًا: الرَّجُلُ یَرْمِی الرَّمِیَّۃَ، أَوْ قَالَ: الْغَرَضَ فَیَنْظُرُ فِی النَّصْلِ فَلَا یَرٰی بَصِیرَۃً، وَیَنْظُرُ فِی النَّضِیِّ فَلَا یَرٰی بَصِیرَۃً، وَیَنْظُرُ فِی الْفُوقِ فَلَا یَرٰی بَصِیرَۃً، قَالَ: قَالَ أَبُو سَعِیدٍ: وَأَنْتُمْ قَتَلْتُمُوہُمْ یَا أَہْلَ الْعِرَاقِ۔ (مسند احمد: ۱۱۰۳۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی امت کے کچھ لوگوں کا ذکر کیا، جو امت میں افترق و اختلاف کے وقت ظاہر ہوں گے،ان کی نشانی یہ ہوگی کہ وہ سرمنڈاتے ہوں گے یہ مخلوق سے بدترین ہے۔ ان کو دو گروہوں میں حق کے زیادہ قریب گروہ قتل کرے گا۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس موقع پر ایک مثال پیش کی کہ آدمی شکار پر تیر چلاتا ہے (وہ تیر شکار کے خون اور گوبر میں سے گزر کر گیا ہے) لیکن وہ تیر کے پھل پر کوئی چیز نہیں دیکھتا۔ اس کی لکڑی پر کوئی اثر نہیں دیکھتا۔ اس کی چٹکی پر کوئی نشان نہیں۔ (اس طرح قرآن مجید پڑھنے کا ان پر کوئی اثر نہیں ہو گا)

12369

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12369

Zaeef

۔ (۱۲۳۶۹)۔ وَعَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِیْ اَوْفٰی ( ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اَلْخَوَارِجُ ھُمْ کِلَابُ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۳۴۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن ابی اوفیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خوارج جہنم کے کتے ہیں۔

12370

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12370

Sahih

۔ (۱۲۳۷۰)۔ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ الشَّحَّامُ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ أَبِی بَکْرَۃَ وَسَأَلَہُ ہَلْ سَمِعْتَ فِی الْخَوَارِجِ مِنْ شَیْئٍ؟ فَقَالَ: سَمِعْتُ وَالِدِی أَبَا بَکْرَۃَیَقُولُ: عَنْ نَبِیِّ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((أَلَا إِنَّہُ سَیَخْرُجُ مِنْ أُمَّتِی أَقْوَامٌ، أَشِدَّائُ أَحِدَّائُ ذَلِقَۃٌ أَلْسِنَتُہُمْ بِالْقُرْآنِ لَا یُجَاوِزُ تَرَاقِیَہُمْ، أَلَا فَإِذَا رَأَیْتُمُوہُمْ فَأَنِیمُوہُمْ، ثُمَّ إِذَا رَأَیْتُمُوہُمْ فَأَنِیمُوہُمْ، فَالْمَأْجُورُ قَاتِلُہُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۰۷۱۹)

اردو ترجمہ · Urdu

عثمان شحام سے مروی ہے،وہ کہتے ہیں: ہمیں مسلم بن ابی بکرہ نے بیان کیا کہ انہوں نے اس سے پوچھا کہ آیا انھوں نے خوارج کے متعلق کوئی حدیث سنی ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے اپنے والد سیدنا ابوبکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو سنا، انھوں نے کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خبردار! عنقریب میری امت سے کچھ ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو دینی امور میں سختی کرنے والے اور تیز ہوں گے، ان کی زبانیں قرآن کے ساتھ بڑی ماہر ہوں گی، مگر وہ ان کی ہنسلی کی ہڈیوں سے نیچے نہیں اترے گا، جب تم انہیں دیکھو تو قتل کر ڈالنا، پھر کہتاہوں کہ تم جب انہیں دیکھو تو ان کو قتل کر دینا، ان کو قتل کرنے والا اجر کا مستحق ہوگا۔

12371

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12371

Zaeef

۔ (۱۲۳۷۱)۔ عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ أَنَّ رَجُلًا وُلِدَ لَہُ غُلَامٌ عَلٰی عَہْدِ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَأَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ بِبَشَرَۃِ وَجْہِہِ وَدَعَا لَہُ بِالْبَرَکَۃِ، قَالَ: فَنَبَتَتْ شَعَرَۃٌ فِی جَبْہَتِہِ کَہَیْئَۃِ الْقَوْسِ وَشَبَّ الْغُلَامُ، فَلَمَّا کَانَ زَمَنُ الْخَوَارِجِ أَحَبَّہُمْ، فَسَقَطَتِ الشَّعَرَۃُ عَنْ جَبْہَتِہِ، فَأَخَذَہُ أَبُوہُ فَقَیَّدَہُ وَحَبَسَہُ مَخَافَۃَ أَنْ یَلْحَقَ بِہِمْ، قَالَ: فَدَخَلْنَا عَلَیْہِ فَوَعَظْنَاہُ وَقُلْنَا لَہُ فِیمَا نَقُولُ: أَلَمْ تَرَ أَنَّ بَرَکَۃَ دَعْوَۃِ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ وَقَعَتْ عَنْ جَبْہَتِکَ، فَمَا زِلْنَا بِہِ حَتّٰی رَجَعَ عَنْ رَأْیِہِمْ، فَرَدَّ اللّٰہُ عَلَیْہِ الشَّعَرَۃَ بَعْدُ فِی جَبْہَتِہِ وَتَابَ۔ (مسند احمد: ۲۴۲۱۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو طفیل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانہ میں ایک شخص کے ہاں بیٹا پیدا ہوا، وہ اسے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں لے کر آ گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے چہرے کا چمڑہ پکڑ کر اس کے حق میں برکت کی دعا کی، پس اس بچے کی پیشانی پر کمان کی مانند بال اگ آیا اور وہ بچہ جوان ہوگیا، جب خوارج کادور آیا تو وہ بچہ ان کی طرف مائل ہوا اور ان سے محبت کرنے لگا، تو اس کے چہرے کا وہ بال جھڑ گیا، یہ دیکھ کر اس کے والد نے اسے پکڑ کر قید کر کے محبو س کر دیا، اسے اندیشہ تھا کہ کہیں یہ ان کے ساتھ مکمل طور پر نہ مل جائے، سیدنا ابو طفیل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:ہم اس کے پاس گئے اور جا کر وعظ نصیحت کی اور اپنی باتوں میں ہم نے اس سے یہ بھی کہاکہ کیا تم نہیں دیکھتے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دعاکی برکت تمہاری پیشانی سے جھڑ گئی ہے، ہم اسے مسلسل وعظ کرتے رہے تاآنکہ اس نے خوارج کی رائے سے رجوع کرلیا، اللہ تعالیٰ نے اس کی توبہ قبول کر لی اور اس کے بعد اس کی پیشانی پر بال دوبارہ اگ آیا۔