Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 173 · Chapter 2539

خلافت و امارت کے مسائل

سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ربذہ کی طرف شہربدری

2 hadiths in this chapter

12266

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12266

Zaeef

۔ (۱۲۲۶۶)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ غَنَمٍ، عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنْتُ اَخْدِمُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّٔ آتِی الْمَسْجِدَ، اِذَا أَنَا فَرَغْتُ مِنْ عَمَلِی فَأَضْطَجِعُ فِیہِ، فَأَتَانِی النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمًا وَأَنَا مُضْطَجِعٌ فَغَمَزَنِی بِرِجْلِہِ فَاسْتَوَیْتُ جَالِسًا، فَقَالَ لِی: ((یَا أَبَا ذَرٍّ! کَیْفَ تَصْنَعُ إِذَا أُخْرِجْتَ مِنْہَا؟)) فَقُلْتُ: أَرْجِعُ إِلٰی مَسْجِدِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَإِلٰی بَیْتِی، قَالَ: ((فَکَیْفَ تَصْنَعُ إِذَا أُخْرِجْتَ؟)) فَقُلْتُ: إِذَنْ آخُذَ بِسَیْفِی فَأَضْرِبَ بِہِ مَنْ یُخْرِجُنِی، فَجَعَلَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَدَہُ عَلٰی مَنْکِبِی، فَقَالَ: ((غَفْرًا، یَا أَبَا ذَرٍّ! ثَلَاثًا، بَلْ تَنْقَادُ مَعَہُمْ حَیْثُ قَادُوکَ، وَتَنْسَاقُ مَعَہُمْ حَیْثُ سَاقُوکَ، وَلَوْ عَبْدًا أَسْوَدَ۔)) قَالَ أَبُو ذَرٍّ: فَلَمَّا نُفِیتُ إِلَی الرَّبَذَۃِ أُقِیمَتِ الصَّلَاۃُ، فَتَقَدَّمَ رَجُلٌ أَسْوَدُ، کَانَ فِیہَا عَلٰی نَعَمِ الصَّدَقَۃِ، فَلَمَّا رَآنِی أَخَذَ لِیَرْجِعَ وَلِیُقَدِّمَنِی فَقُلْتُ: کَمَا أَنْتَ، بَلْ أَنْقَادُ لِأَمْرِ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔(مسند احمد: ۲۱۶۱۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا اور پھر میں مسجدمیں آ جاتا تھا اور اپنے کام سے فارغ ہو کر لیٹ جاتا، ایک دن میں لیٹا ہو ا تھا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس تشریف لائے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے پاؤں مبارک سے مجھے تھوڑا سا دبایا، میں سیدھا ہو کر بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا: ابوذر!اس وقت تیرا کیا حال ہوگا، جب تجھے اس شہر سے نکال دیا جائے گا۔ میں نے کہا: میں اپنے نبی کی مسجداور اپنے گھر میں رہ لوں گا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تجھے یہاں سے نکال دیا جائے گا تو تیرا کیا حال ہوگا؟ میں نے کہا: میں اپنی تلوار سونت لوں گا اور جو مجھے نکالے گا، میں اس پر تلوار چلا دوں گا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ہاتھ مبارک میرے کندھے پر رکھ دیا اور فرمایا: ابوذر! معاف کرنا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین بار یہ جملہ دوہرایا اور پھر فرمایا: بلکہ وہ تمہیں جس طرف لے کر چلیں، تم ان کی اطاعت کرنا اور وہ تمہیں جس طرف ہانکیں، اسی طرف چل پڑنا، خواہ وہ سیاہ فام غلا م ہی کیوں نہ ہو؟ ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب مجھے ربذہ کی جانب دھکیل دیا گیا اور نماز کی اقامت ہوئی تو ایک سیاہ فام آدمی نماز پڑھانے کے لیے آگے بڑھا، وہ وہاں پربیت المال کے اونٹوں پر مامور تھا، جب اس نے مجھے دیکھا تو وہ مجھے آگے کرنے کے لیے خو د پیچھے کو آنے لگا، لیکن میں نے اسے کہا: تم اپنی جگہ پر رہو (اور نماز پڑھاؤ)، میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حکم کی اطاعت کروں گا۔

12267

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12267

Zaeef

۔ (۱۲۲۶۷)۔ حَدَّثَنَا ہَاشِمٌ قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الْحَمِیدِ، قَالَ: ثَنَا شَہْرٌ، قَالَ: حَدَّثَتْنِی أَسْمَائُ بِنْتُ یَزِیدَ أَنَّ أَبَا ذَرٍّ الْغِفَارِیَّ کَانَ یَخْدُمُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا فَرَغَ مِنْ خِدْمَتِہِ اَوٰی إِلَی الْمَسْجِدِ، فَکَانَ ہُوَ بَیْتَہُیَضْطَجِعُ فِیہِ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ لَیْلَۃً، فَوَجَدَ أَبَا ذَرٍّ نَائِمًا مُنْجَدِلًا فِی الْمَسْجِدِ، فَنَکَتَہُ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِرِجْلِہِ حَتَّی اسْتَوٰی جَالِسًا، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((أَلَا أَرَاکَ نَائِمًا؟)) قَالَ أَبُو ذَرٍّ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! فَأَیْنَ أَنَامُ، ہَلْ لِی مِنْ بَیْتٍ غَیْرُہُ؟ فَجَلَسَ إِلَیْہِ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَہُ: ((کَیْفَ أَنْتَ إِذَا أَخْرَجُوکَ مِنْہُ۔)) قَالَ: إِذَنْ أَلْحَقَ بِالشَّامِ، فَإِنَّ الشَّامَ أَرْضُ الْہِجْرَۃِ، وَأَرْضُ الْمَحْشَرِ، وَأَرْضُ الْأَنْبِیَائِ، فَأَکُونُ رَجُلًا مِنْ أَہْلِہَا، قَالَ لَہُ: ((کَیْفَ أَنْتَ إِذَا أَخْرَجُوکَ مِنَ الشَّامِ؟)) قَالَ: إِذَنْ أَرْجِعَ إِلَیْہِ فَیَکُونَ ہُوَ بَیْتِی وَمَنْزِلِی، قَالَ لَہُ: ((کَیْفَ أَنْتَ إِذَا أَخْرَجُوکَ مِنْہُ الثَّانِیَۃَ؟)) قَالَ: إِذَنْ آخُذَ سَیْفِی فَأُقَاتِلَ عَنِّی حَتّٰی أَمُوتَ، قَالَ: فَکَشَّرَ إِلَیْہِ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَثْبَتَہُ بِیَدِہِ، قَالَ: ((أَدُلُّکَ عَلَی خَیْرٍ مِنْ ذٰلِکَ؟)) قَالَ: بَلٰی، بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّییَا نَبِیَّ اللّٰہِ! قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَنْقَادُ لَہُمْ حَیْثُ قَادُوکَ،ٔ وَتَنْسَاقُ لَہُمْ حَیْثُ سَاقُوکَ، حَتّٰی تَلْقَانِی وَأَنْتَ عَلٰی ذٰلِکَ۔)) (مسند احمد: ۲۸۱۴۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ اسماء بنت یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ سیدنا ابو ذر غفاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت کیا کرتے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت سے فارغ ہو نے کے بعد وہ مسجد میں چلے جاتے، بس مسجد ہی ان کا گھر تھا، وہ وہاں لیٹ جاتے، ایک رات کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں داخل ہوئے اور ان کو مسجد زمین پر لیٹے ہوئے پایا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے پاؤں مبارک سے ان کو ذرا دبایا، وہ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: میں تمہیں یہاں سوتے دیکھ رہاہوں؟ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! کیا میر ا اس کے سوا کوئی اور گھر ہے؟ میں یہاں نہ سوؤں تو کہاں سوؤں؟ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے پاس بیٹھ گئے اور ان سے فرمایا: اس وقت تیرا کیا حال ہوگا، جب لوگ تجھے یہاں سے نکال دیں گے؟ انہوں نے کہا: میں شام کی طرف چلا جاؤں گا، کیونکہ شام ارض ہجرت ہے، ارض محشراور انبیائے کرام کا علاقہ ہے، اس طرح میں وہاں کا باشندہ بن جاؤںـ گا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب لوگ تجھے شام سے بھی نکال دیں گے تو تمہارا کیا حال ہوگا؟ انہوں نے کہا: تب میں مدینہ کی طرف واپس آجاؤں گا، یہی میرا گھر اور یہی میرا ٹھکانہ ہوگا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب لوگ تمہیں دوسری مرتبہ یہاں سے بھی نکال دیں گے تو تمہارا کیا حال ہوگا؟ انہوں نے کہا: تب میں اپنی تلوار اٹھالوں گا اور مرتے دم تک اپنا دفاع کروں گا، ان کی یہ بات سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسکرا دئیے اور اپنا ہاتھ مبارک ان پر رکھا اور فرمایا: کیا میں تمہیں اس سے بہتر کام نہ بتلا دوں؟ انہوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! ضرور فرمائیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ تمہیں جہاں لے کر جائیں، ان کے ساتھ چلتے رہنا، یہاں تک کہ اسی حالت میں تم مجھ سے آ ملنا۔