Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 173 · Chapter 2538

خلافت و امارت کے مسائل

باب چہارم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کے دوران رونما ہونے والے بعض واقعات کا بیان جرعہ کے دن والا واقعہ

2 hadiths in this chapter

12264

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12264

Sahih

۔ (۱۲۲۶۴)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ، عَنْ أَبِی الْبَخْتَرِیِّ الطَّائِیِّ، عَنْ أَبِی ثَوْرٍ قَالَ: بَعَثَ عُثْمَانُ یَوْمَ الْجَرَعَۃِ بِسَعِیدِ بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: فَخَرَجُوا إِلَیْہِ فَرَدُّوہُ، قَالَ: فَکُنْتُ قَاعِدًا مَعَ أَبِی مَسْعُودٍ وَحُذَیْفَۃَ، فَقَالَ أَبُو مَسْعُودٍ: مَا کُنْتُ أَرٰی أَنْ یَرْجِعَ لَمْ یُہْرِقْ فِیہِ دَمًا، قَالَ: فَقَالَ حُذَیْفَۃُ: وَلٰکِنْ قَدْ عَلِمْتُ لَتَرْجِعَنَّ عَلٰی عَقِبَیْھَا لَمْ یُہْرِقْ فِیہَا مَحْجَمَۃَ دَمٍ، وَمَا عَلِمْتُ مِنْ ذٰلِکَ شَیْئًا إِلَّا عَلِمْتُہُ وَمُحَمَّدٌ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَیٌّ حَتّٰی إِنَّ الرَّجُلَ لَیُصْبِحُ مُؤْمِنًا ثُمَّ یُمْسِی مَا مَعَہُ مِنْہُ شَیْئٌ، وَیُمْسِی مُؤْمِنًا وَیُصْبِحُ مَا مَعَہُ مِنْہُ شَیْئٌ،یُقَاتِلُ فِئَتَہُ الْیَوْمَ، وَیَقْتُلُہُ اللّٰہُ غَدًا،یَنْکُسُ قَلْبُہُ تَعْلُوہُ اسْتُہُ، قَالَ: فَقُلْتُ: أَسْفَلُہُ، قَالَ: اسْتُہُ۔ (مسند احمد: ۲۳۷۳۸)

اردو ترجمہ · Urdu

ابو ثور سے مروی ہے کہ جرعہ کے روز سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا سعید بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو روانہ کیا، لیکن لوگ ان کی طرف آئے اور انہیں واپس کر دیا، میں (ابو ثور) سیدنا ابو مسعود واور سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، سیدنا ابو مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نہیں سمجھتا تھا کہ وہ بغیر خون بہائے یوں ہی واپس لوٹ آئے گا، ان کی بات سن کر سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: لیکن میں تو اچھی طرح جانتا تھا کہ یہ لشکر بغیر خون خرابہ کیے یوں ہی اپنی ایڑیوں پر واپس آجائے گا، میں تو یہ بات اس وقت سے جانتا ہوں، جب محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حیات تھے، بلکہ یہاں تک حالات پیدا ہوجائیں گے کہ ایک آدمی ایمان کی حالت میں صبح کر ے گا، لیکن جب شام ہوگی تو وہ ایمان سے فارغ ہو چکا ہو گا اور ایک آدمی ایمان کی حالت میں شام کر ے گا، اور صبح تک اس کے پاس ایمان نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہے گی، ایک آدمی اپنے ہی گروہ سے لڑائی کرے گا اور اگلے دن اللہ تعالیٰ اسے قتل کر دے گا اور اس کے دل کو الٹ دے گا اور اس کی دبر اس کے اوپر ہوگی۔ میں نے کہا: نچلی والی طرف اوپر ہو گی؟ انھوں نے کہا: دبر کہہ رہا ہوں، دبر۔

12265

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12265

Sahih

۔ (۱۲۲۶۵)۔ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ: قَالَ جُنْدُبٌ: لَمَّا کَانَ یَوْمُ الْجَرَعَۃِ، وَثَمَّ رَجُلٌ قَالَ: فَقَالَ: وَاللّٰہِ! لَیُہْرَاقَنَّ الْیَوْمَ دِمَائٌ، قَالَ: قَالَ الرَّجُلُ: کَلَّا، وَاللّٰہِ! قَالَ: ہَلَّا قُلْتَ بَلٰی وَاللّٰہِ! قَالَ: کَلَّا وَاللّٰہِ! إِنَّہُ لَحَدِیثُ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنِیہِ، قَالَ: قُلْتُ: وَاللّٰہِ! إِنِّی لَأُرَاکَ جَلِیسَ سَوْئٍ مُنْذُ الْیَوْمِ تَسْمَعُنِی أَحْلِفُ، وَقَدْ سَمِعْتَہُ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا تَنْہَانِی، قَالَ: ثُمَّ قُلْتُ: مَالِی وَلِلْغَضَبِ، قَالَ: فَتَرَکْتُ الْغَضَبَ وَأَقْبَلْتُ أَسْأَلُہُ، قَالَ: وَإِذَا الرَّجُلُ حُذَیْفَۃُ بْنُ الْیَمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌۔ (مسند احمد: ۲۳۷۸۰)

اردو ترجمہ · Urdu

جندب سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جرعہ والے دن وہاں ایک آدمی تھا، اس نے کہا: اللہ کی قسم! آج ضرور ضرور کشت و خون ہوگا، اس کی بات سن کر ایک اور آدمی نے کہا: اللہ کی قسم! ہر گز نہیں، پہلا شخص کہنے لگا: تم نے یوں کیوں نہیں کہا کہ اللہ کی قسم ہاں ضرور کشت و خون ہوگا؟ دوسرے نے کہا: اللہ کی قسم! ایسا ہرگز نہیں ہوگا، یہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک حدیث ہے، جو آپ نے مجھ سے خود بیان کی تھی، میں نے کہا: آج آپ میرے برے ہم نشین ہیں۔ میں ایک بات کی قسم اٹھا رہا ہوں اور آپ مجھے سن بھی رہے ہیں، جبکہ اس بارے میں تونے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حدیث بھی سنی ہوئی ہے اور مجھے آپ روک بھی نہیں رہے۔ پھر میں نے سوچا کہ اس میں غصہ کرنے کی کیا ضرورت ہے، چنانچہ میں نے ناراضگی دور کر دی اور میں اس ساتھی کی طرف لپکا اور اس سے سوال کرنے لگ گیا۔ پھر پتا چلا کہ وہ آدمی حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے۔