Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 173 · Chapter 2533

خلافت و امارت کے مسائل

فصل دوم: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خاص طور پر سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ جو رازدارانہ باتیں کیں، ان کا بیان

2 hadiths in this chapter

12249

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12249

Zaeef

۔ (۱۲۲۴۹)۔ عَنْ أَبِی عَبْدِ اللّٰہِ الْجَسْرِیِّ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَی عَائِشَۃَ، وَعِنْدَہَا حَفْصَۃُ بِنْتُ عُمَرَ، فَقَالَتْ لِی: إِنَّ ہٰذِہِ حَفْصَۃُ زَوْجُ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَقْبَلَتْ عَلَیْہَا فَقَالَتْ: أَنْشُدُکِ اللّٰہَ أَنْ تُصَدِّقِینِی بِکَذِبٍ قُلْتُہُ، أَوْ تُکَذِّبِینِی بِصِدْقٍ قُلْتُہُ، تَعْلَمِینَ أَنِّی کُنْتُ أَنَا وَأَنْتِ عِنْدَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَأُغْمِیَ عَلَیْہِ، فَقُلْتُ لَکِ: أَتَرَیْنَہُ قَدْ قُبِضَ؟ قُلْتِ: لَا أَدْرِی، فَأَفَاقَ فَقَالَ: ((افْتَحُوا لَہُ الْبَابَ۔)) ثُمَّ أُغْمِیَ عَلَیْہِ، فَقُلْتُ لَکِ: أَتَرَیْنَہُ قَدْ قُبِضَ؟ قُلْتِ: لَا أَدْرِی، ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ: ((افْتَحُوا لَہُ الْبَابَ۔)) فَقُلْتُ لَکِ: أَبِی أَوْ أَبُوکِ، قُلْتِ: لَا أَدْرِی، فَفَتَحْنَا الْبَابَ فَإِذَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، فَلَمَّا أَنْ رَآہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((ادْنُہْ۔)) فَأَکَبَّ عَلَیْہِ فَسَارَّہُ بِشَیْئٍ لَا أَدْرِی أَنَا وَأَنْتِ مَا ہُوَ؟ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ، فَقَالَ: ((أَفَہِمْتَ مَا قُلْتُ لَکَ؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((ادْنُہْ۔)) فَأَکَبَّ عَلَیْہِ أُخْرٰی مِثْلَہَا فَسَارَّہُ بِشَیْئٍ لَا نَدْرِی مَا ہُوَ؟ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَقَالَ: ((أَفَہِمْتَ مَا قُلْتُ لَکَ؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((ادْنُہُ۔)) فَأَکَبَّ عَلَیْہِ إِکْبَابًا شَدِیدًا فَسَارَّہُ بِشَیْئٍ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ، فَقَالَ: ((أَفَہِمْتَ مَا قُلْتُ لَکَ؟)) قَالَ: نَعَمْ، سَمِعَتْہُ أُذُنَیَّ وَوَعَاہُ قَلْبِی، فَقَالَ لَہُ: ((اخْرُجْ۔)) قَالَ: قَالَتْ حَفْصَۃُ: اللَّہُمَّ نَعَمْ، أَوْ قَالَتْ: اللَّہُمَّ صِدْقٌ۔ (مسند احمد: ۲۶۷۹۹)

اردو ترجمہ · Urdu

ابو عبد اللہ جسری سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ہا ں گیا، ان کے ہاں سیدہ حفصہ بنت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بھی موجود تھیں، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے بتلایا کہ یہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیوی سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ہیں، پھر وہ ان کی طرف متوجہ ہوئیں اور کہا: میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتی ہوں کہ اگر میں جھوٹ کہوں تو آپ نے میری تصدیق نہیں کرنی اور اگر میں سچ کہوں تو آپ نے میری تکذیب نہیں کرنی، کیا آپ جانتی ہیں کہ میں اور تم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس موجود تھیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر غشی اور بے ہوشی طاری ہوگئی، میں نے تم سے کہا: تمہارا کیا خیال ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی روح پرواز تو نہیں کر گئی؟ تم نے کہا تھا: مجھے تو اس بارے کوئی علم نہیں ہے، اتنے میں کچھ دیر کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کچھ افاقہ ہوگیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے لیے دروازہ کھول دو۔ پھر آپ پر غشی طاری ہوگئی، میں نے تم سے کہا: دیکھیں، کہیں آپ کی روح تو پرواز نہیں کر گئی؟ تم نے کہا تھا: مجھے تو سمجھ نہیں آ رہی، اتنے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو افاقہ ہوگیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے لیے دروازہ کھول دو۔ میں نے تم سے کہا تھا کہ میرے والد مراد ہیں یا تمہارے والد؟ تم نے کہا تھا: میں نہیں جانتی۔ پھر ہم نے دروازہ کھول دیا تو کیا دیکھا کہ وہ سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو دیکھا تو فرمایا: قریب ہوجاؤ۔ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ کے اوپر جھک گئے، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے ساتھ راز دارانہ بات کی، میں اور تم نہیں جانتی تھیں کہ وہ کیا بات تھی، پھر سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنا سر اوپر اٹھالیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے تم سے جو کچھ کہا ہے، تم نے سمجھ لیا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوبارہ فرمایا: پھر قریب ہو جاؤ۔ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ دوبارہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اوپر اسی طرح جھک گئے، جیسے پہلی دفعہ کیاتھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے ساتھ چپکے سے کوئی بات کی، جس کے متعلق ہم نہیں جانتی کہ وہ کیا بات تھی۔ پھر سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنا سر اٹھایا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے تم سے جو بات کہی ہے، تونے اچھی طرح سمجھ لی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تیسری مرتبہ پھر فرمایا: میرے قریب ہو جاؤ۔ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پہلے سے بھی زیادہ جھک گئے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر رازداری اور چپکے سے ان کے ساتھ کوئی بات کی، اس کے بعد انہوں نے اپنا سر اٹھالیا،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے تم سے جو کچھ کہاہے، کیاتم نے خوب سمجھ لیا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، میرے کانوں نے سنا ہے اور میرے دل نے سمجھ لیا ہے۔ آپ نے فرمایا: باہرچلے جاؤ۔ یہ سب کچھ سن کر سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: جی ہاں، یہ سب کچھ سچ ہے۔

12250

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12250

Sahih

۔ (۱۲۲۵۰)۔ عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((ادْعُوا لِی بَعْضَ أَصْحَابِی۔)) قُلْتُ: أَبُو بَکْرٍ، قَالَ: ((لَا۔)) قُلْتُ: عُمَرُ، قَالَ: ((لَا۔)) قُلْتُ: ابْنُ عَمِّکَ عَلِیٌّ، قَالَ: ((لَا۔)) قَالَتْ: قُلْتُ: عُثْمَانُ، قَالَ: ((نَعَمْ۔)) فَلَمَّا جَائَ قَالَ: تَنَحَّیْ جَعَلَ یُسَارُّہُ وَلَوْنُ عُثْمَانَ یَتَغَیَّرُ فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ الدَّارِ وَحُصِرَ فِیہَا قُلْنَا: یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ! أَلَا تُقَاتِلُ؟ قَالَ: لَا، إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَہِدَ إِلَیَّ عَہْدًا، وَإِنِّی صَابِرٌ نَفْسِی عَلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۲۴۷۵۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے ایک صحابی کو بلاؤ۔ میں نے کہا: سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: آپ کے چچا زاد سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ وہ آئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم ذرا ایک طرف ہوجاؤ۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ چپکے سے باتیں کرنا شروع کیں، سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا رنگ فق ہونے لگا، پھر جب سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اپنے گھر میں محصور کر دیا گیا تو ہم نے کہا: اے امیر المومنین! آپ ان باغیوں کے ساتھ لڑتے کیوں نہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں، میں لڑائی نہیں کروں گا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے اس بات کا عہد لیا تھا اور میں ان حالات پر اپنے آپ کو صابر ثابت کرنے والا ہوں۔