Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 173 · Chapter 2521

خلافت و امارت کے مسائل

فصلِ دوم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زمانۂ خلا فت میں ۱۵ ھ ؁ میں ہونے والے واقعۂ یرموک کا بیان

1 hadith in this chapter

12219

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12219

Sahih

۔ (۱۲۲۱۹)۔ عَنْ سِمَاکٍ، قَالَ سَمِعْتُ عِیَاضًا الْأَشْعَرِیَّ، قَالَ: شَہِدْتُ الْیَرْمُوکَ، وَعَلَیْنَا خَمْسَۃُ أُمَرَائَ، أَبُو عُبَیْدَۃَ بْنُ الْجَرَّاحِ وَیَزِیدُ بْنُ أَبِی سُفْیَانَ وَابْنُ حَسَنَۃَ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ وَعِیَاضٌ، وَلَیْسَ عِیَاضٌ ہٰذَا بِالَّذِی حَدَّثَ سِمَاکًا، قَالَ: وَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: إِذَا کَانَ قِتَالٌ فَعَلَیْکُمْ أَبُو عُبَیْدَۃَ، قَالَ: فَکَتَبْنَا إِلَیْہِ أَ نَّہُ قَدْ جَاشَ إِلَیْنَا الْمَوْتُ وَاسْتَمْدَدْنَاہُ، فَکَتَبَ إِلَیْنَا إِنَّہُ قَدْ جَائَ نِی کِتَابُکُمْ تَسْتَمِدُّونِی، وَإِنِّی أَدُلُّکُمْ عَلٰی مَنْ ہُوَ أَعَزُّ نَصْرًا وَأَحْضَرُ جُنْدًا، اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ فَاسْتَنْصِرُوہُ، فَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ نُصِرَ یَوْمَ بَدْرٍ فِی أَقَلَّ مِنْ عِدَّتِکُمْ، فَإِذَا أَتَاکُمْ کِتَابِی ہٰذَا فَقَاتِلُوہُمْ، وَلَا تُرَاجِعُونِی، قَالَ: فَقَاتَلْنَاہُمْ، فَہَزَمْنَاہُمْ، وَقَتَلْنَاہُمْ أَرْبَعَ فَرَاسِخَ، قَالَ: وَأَصَبْنَا أَمْوَالًا فَتَشَاوَرُوا، فَأَشَارَ عَلَیْنَا عِیَاضٌ، أَنْ نُعْطِیَعَنْ کُلِّ رَأْسٍ عَشْرَۃً، قَالَ: وَقَالَ أَبُو عُبَیْدَۃَ: مَنْ یُرَاہِنِّی؟ فَقَالَ شَابٌّ: أَنَا إِنْ لَمْ تَغْضَبْ، قَالَ: فَسَبَقَہُ فَرَأَیْتُ عَقِیصَتَیْ أَبِی عُبَیْدَۃَ تَنْقُزَانِ، وَہُوَ خَلْفَہُ عَلٰی فَرَسٍ عَرَبِیٍّ۔ (مسند احمد: ۳۴۴)

اردو ترجمہ · Urdu

عیاض اشعر ی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں یرموک کے معرکہ میں شامل تھا، پانچ افراد ہمارے اوپر امیر مقرر تھے، سیدنا ابو عبیدہ بن جراح، سیدنا یزید بن ابی سفیان، سیدنا ابن حسنہ، سیدنا خالد بن ولید اور سیدنا عیاض اس جگہ عیاض سے مراد وہ عیاض نہیں جس سے سماک حدیث بیان کرتے ہیں بلکہ یہ کوئی اور شخص ہے۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ ہدایت دی تھی کہ جب لڑائی شروع ہو تو ابوعبیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تمہارے امیر ہوں گے، ہم نے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو لکھا کہ موت ہمیں نگلنے کے لیے تیارہے، پھر ہم نے ان سے مزید کمک کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے جواباً لکھا کہ مجھے تمہاراخط ملا ہے، تم لوگوں نے مجھ سے مزید کمک طلب کی ہے، میں بہت بڑی طاقت اور تعداد کی طرف تمہاری رہنمائی کرتاہوں، تم اللہ تعالیٰ سے نصرت مانگو، بدر کے دن تمہاری بہ نسبت تعداد بہت کم تھی، لیکن پھر بھی محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدد کی گئی تھی، میرا یہ خط جب تمہارے پاس پہنچے تو تم دشمن سے لڑائی شروع کر دینا اور مجھ سے مدد طلب نہ کرنا۔ عیاض کہتے ہیں: جب ہماری دشمن سے لڑائی ہوئی تو ہم نے ان کو شکست دے دی اور ہم نے بارہ میل تک انہیں قتل کیا اور ہمیں بہت سارامالِ غنیمت حاصل ہوا، جب لوگوں نے آپس میں مشاورت کی تو عیاض نے ہمیں مشورہ دیاکہ ہم ہر سر کی طرف سے دس دیں۔ سیدنا ابو عبیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تم میں سے کون ہے جو گھڑ دوڑ میں مجھ سے بازی لگائے گا؟ ایک نوجوان نے کہا: اگرآپ ناراض نہ ہوں تو میں حاضر ہوں، چنانچہ وہ آگے آیا، میں نے سیدنا ابو عبیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی دونوں لٹوں کودیکھا کہ وہ ہوا میں لہرا رہی تھیں، وہ نوجوان ان کے پیچھے اور ایک عربی گھوڑے پر سوار تھا یعنی وہ نوجوان ابو عبیدہ کے مقابلہ میں پیچھے رہ گیا۔