Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 173 · Chapter 2520

خلافت و امارت کے مسائل

باب سوم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض فتووں، فیصلوں اور ان کے دور خلافت میں پیش آنے والے بعض واقعات کا بیان اس باب کی کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض فتووں اور فیصلوں کا بیان

5 hadiths in this chapter

12214

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12214

Sahih

۔ (۱۲۲۱۴)۔ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ الْکِنْدِیِّ، أَنَّہُ رَکِبَ إِلٰی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یَسْأَلُہُ عَنْ ثَلَاثِ خِلَالٍ، قَالَ: فَقَدِمَ الْمَدِینَۃَ فَسَأَلَہُ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ مَا أَقْدَمَکَ؟ قَالَ: لِأَسْأَلَکَ عَنْ ثَلَاثِ خِلَالٍ، قَالَ: وَمَا ہُنَّ؟ قَالَ: رُبَّمَا کُنْتُ أَنَا وَالْمَرْأَۃُ فِی بِنَائٍ ضَیِّقٍ، فَتَحْضُرُ الصَّلَاۃُ، فَإِنْ صَلَّیْتُ أَنَا وَہِیَ کَانَتْ بِحِذَائِی، وَإِنْ صَلَّتْ خَلْفِی خَرَجَتْ مِنَ الْبِنَائِ، فَقَالَ عُمَرُ: تَسْتُرُ بَیْنَکَ وَبَیْنَہَا بِثَوْبٍ، ثُمَّ تُصَلِّی بِحِذَائِکَ إِنْ شِئْتَ، وَعَنْ الرَّکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَقَالَ: نَہَانِی عَنْہُمَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَعَنْ الْقَصَصِ فَإِنَّہُمْ أَرَادُونِی عَلَی الْقَصَصِ، فَقَالَ: مَا شِئْتَ کَأَنَّہُ کَرِہَ أَنْ یَمْنَعَہُ، قَالَ: إِنَّمَا أَرَدْتُ أَنْ أَنْتَہِیَ إِلَی قَوْلِکَ، قَالَ: أَخْشٰی عَلَیْکَ أَنْ تَقُصَّ، فَتَرْتَفِعَ عَلَیْہِمْ فِی نَفْسِکَ، ثُمَّ تَقُصَّ فَتَرْتَفِعَ حَتّٰییُخَیَّلَ إِلَیْکَ أَنَّکَ فَوْقَہُمْ بِمَنْزِلَۃِ الثُّرَیَّا، فَیَضَعَکَ اللّٰہُ تَحْتَ أَقْدَامِہِمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِقَدْرِ ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۱۱۱)

اردو ترجمہ · Urdu

حارث بن معاویہ کندی سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: میں تین باتیں دریافت کرنے کے لیے سوار ہو کر سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف گیا، جب میں مدینہ منورہ پہنچا تو سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھ سے کہا: تم کیوں آئے ہو؟ میں نے بتلایا کہ آپ سے تین امور کے بارے میں دریافت کرنا چاہتا ہوں، انہوں نے کہا: وہ کون سے امور ہیں؟ میں نے کہا: بسااوقات ایسا ہوتا ہے کہ میں اور میری اہلیہ کسی تنگ مکان میں ہوتے ہیں، اتنے میں نماز کا وقت ہو جاتا ہے، لیکن اگر میں نماز پڑھوں تو وہ میرے سامنے آ جاتی ہے اور اگر وہ میرے پیچھے نماز ادا کرے تو مکان سے باہر نکل جاتی ہے، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تم اپنے اور ا س کے درمیان کپڑا لٹکا لیا کرو، پھر وہ تمہارے سامنے نماز پڑھتی رہے، اگر چاہے تو۔ پھر میں نے ان سے عصر کے بعد دورکعتیں ادا کرنے کے بارے میں پوچھا، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے ان دورکعتوں سے منع فرمایا تھا، پھر میں نے کہا: تیسری بات یہ ہے کہ میں آپ سے وعظ و تقریر کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں، لوگ چاہتے ہیں کہ میں ان کے سامنے وعظ و تقریر کیا کروں، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جو تم چاہتے ہو، کر لو۔ بس یوں لگا کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس کو اس کام سے روکنے کو ناپسند کیا۔ اس آدمی نے کہا: میں آپ کی رائے جاننا چاہتا ہوں۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: مجھے ڈر ہے کہ تم ان کے سامنے وعظ و تقریر کرو گے اور تم دلی طو رپر اپنے آپ کو دوسروں سے اعلی اور برتر سمجھنے لگو، تم پھر وعظ و تقریر کرو گے اور تم اپنے آپ کو ان کے مقابلہ میں یوں سمجھنے لگو گے کہ گویا تم ثریا ستارے کی طرح اعلی و افضل ہو، لیکن تم اپنے آپ کو ان سے جس قدر برتر سمجھو گے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسی قدر تمہیں ان کے قدموں کے نیچے ڈالے گا۔

12215

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12215

Sahih

۔ (۱۲۲۱۵)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ قَالَ: خَطَبَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ النَّاسَ، فَقَالَ: إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ رَخَّصَ لِنَبِیِّہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا شَائَ، وَإِنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ مَضٰی لِسَبِیلِہِ، فَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ کَمَا أَمَرَکُمْ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ، وَحَصِّنُوْا فُرُوجَ ہٰذِہِ النِّسَائِ۔ (مسند احمد: ۱۰۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے لوگوں سے خطاب کیا اور کہا: بیشک اللہ تعالیٰ نے جو چاہا، اپنے نبی کو رخصتیں دیں اور نبی کریم دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں، لہٰذا تم حج و عمرہ کو اللہ تعالیٰ کے لیے اس طرح پورا کرو، جیسا کہ اس نے تمہیں حکم دیا ہے، نیز تم اپنی بیویوں کی شرم گاہوں کو پاکدامن رکھو۔

12216

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12216

Sahih

۔ (۱۲۲۱۶)۔ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرِو سَمِعَ بَجَالَۃَیَقُوْلُ: کُنْتُ کَاتِبًا لِجَزْئِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ عَمِّ الْأَحْنَفِ بْنِ قَیْسٍ فَأَتَانَا کِتَابُ عُمَرَ قَبْلَ مَوْتِہِ بِسَنَۃٍ: أَنِ اقْتُلُوْا کُلَّ سَاحِرٍ، وَرُبَمَا قَالَ سُفْیَانُ: وَسَاحِرَۃٍ، وَفَرِّقُوْا بَیْنَ کُلِّ ذِیْ مَحْرَمٍ مِنَ الْمَجُوْسِ وَانْہَوْھُمْ عَنِ الْزَمْزَمَۃِ، فَقَتَلْنَا ثَلَاثَۃَ سَوَا حِرَ،وَجَعَلْنَا نُفَرِّقُ بَیْنَ الرَّجُلِ وَبَیْنَ حَرِیْمَتِہِ فِی کِتَابِ اللّٰہِ، وَصَنَعَ جَزْئٌ طَعَامًا کَثِیْرًا وَعَرَضَ السَّیْفَ عَلٰی فَخِذِہِ وَدَعَا الْمَجُوْسَ فَأَلْقَوْا وِقْرَ بَغْلٍ أَوْ بَغْلَیْنِ مِنْ وَرِقٍ فَأَکَلُوْا مِنْ غَیْرِ زَمْزَمَۃَ وَلَمْ یَکُنْ عُمَرُ أَخَذَ، وَرُبَمَا قَالَ سُفْیَانُ: قَبِلَ الْجِزْیَۃَ مِنَ الْمَجُوْسِ حَتّٰی شَہِدَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَوْفٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَخَذَھَا مِنْ مَجُوْسِ ھَجَرَ، وَقَالَ اَبِیْ: قَالَ سُفْیَانُ: حَجَّ بَجَالَۃُ مَعَ مُصْعَبٍ سَنَۃَ سَبْعِیْنَ۔ (مسند احمد: ۱۶۵۷)

اردو ترجمہ · Urdu

بجالہ کہتے ہیں: میں جزء بن معاویہ کا کاتب تھا، وہ احنف بن قیس کے چچا تھے، ہمارے پاس سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا خط آیا، یہ ان کی وفات سے ایک سال پہلے کی بات ہے، اس میں یہ بات تحریر کی گئی تھی کہ ہر جادو گر اور جادو گرنی کو قتل کر دو اور مجوسیوں میں ہر محرم کے درمیان تفریق ڈال دو اور انہیں زمزمہ سے روک دو ، اس حکم کے بعد ہم نے تین جادوگر قتل کیے اور کتاب اللہ کے مطابق حرام رشتوں میں علیحدگی پیدا کر دی ، جزء نے بہت سارا کھانا تیار کروایا اور مجوسیوں کو دعوت دی اور تلوار اپنی ران پر رکھ لی ، انہوں نے زمزمہ کے بغیر کھانا کھایا اور انہوں نے ایک خچر یا دو خچر کے بوجھ اٹھانے کے برابر چاندی بھی بطور جزیہ دی ، مگر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ جزیہ ان سے نہ لیا ، کبھی سفیان راوی اس طرح بیان کرتے : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مجوسیوں سے جزیہ لینے کے حق میں نہ تھے ، حتی کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے شہادت دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہجر کے علاقہ کے مجوسیوں سے جزیہ لیا تھا ، تب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجوسیوں سے جزیہ قبول کرنا شروع کیا ۔

12217

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12217

Sahih

۔ (۱۲۲۱۷)۔ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ قَالَ: أَرْسَلَ إِلَیَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، فَبَیْنَا أَنَا کَذٰلِکَ إِذْ جَائَ ہُ مَوْلَاہُ یَرْفَأُ، فَقَالَ: ہٰذَا عُثْمَانُ وَعَبْدُ الرَّحْمٰنِ وَسَعْدٌ وَالزُّبَیْرُ بْنُ الْعَوَّامِ ، قَالَ: وَلَا أَدْرِی أَذَکَرَ طَلْحَۃَ أَمْ لَا، یَسْتَأْذِنُونَ عَلَیْکَ، قَالَ: ائْذَنْ لَہُمْ ثُمَّ مَکَثَ سَاعَۃً، ثُمَّ جَائَ فَقَالَ: ہٰذَا الْعَبَّاسُ وَعَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا یَسْتَأْذِنَانِ عَلَیْکَ، قَالَ: ائْذَنْ لَہُمَا فَلَمَّا دَخَلَ الْعَبَّاسُ قَالَ: یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ! اقْضِ بَیْنِی وَبَیْنَ ہٰذَا، وَہُمَا حِینَئِذٍیَخْتَصِمَانِ فِیمَا أَفَائَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُولِہِ مِنْ أَمْوَالِ بَنِی النَّضِیرِ، فَقَالَ الْقَوْمُ: اِقْضِ بَیْنَہُمَایَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ! وَأَرِحْ کُلَّ وَاحِدٍ مِنْ صَاحِبِہِ، فَقَدْ طَالَتْ خُصُومَتُہُمَا، فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: أَنْشُدُکُمُ اللّٰہَ الَّذِی بِإِذْنِہِ تَقُومُ السَّمٰوَاتُ وَالْأَرْضُ، أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَا نُورَثُ مَا تَرَکْنَا صَدَقَۃٌ۔))؟ قَالُوْا: قَدْ قَالَ ذٰلِکَ، وَقَالَ لَہُمَا مِثْلَ ذٰلِکَ، فَقَالَا: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنِّی سَأُخْبِرُکُمْ عَنْ ہٰذَا الْفَیْئِ، إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ خَصَّ نَبِیَّہُ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْہُ بِشَیْئٍ لَمْ یُعْطِہِ غَیْرَہُ فَقَالَ: {وَمَا أَفَائَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُولِہِ مِنْہُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَیْہِ مِنْ خَیْلٍ وَلَا رِکَابٍ} وَکَانَتْ لِرَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَاصَّۃً، وَاللّٰہِ! مَا احْتَازَہَا دُونَکُمْ وَلَا اسْتَأْثَرَ بِہَاعَلَیْکُمْ، لَقَدْ قَسَمَہَا بَیْنَکُمْ وَبَثَّہَا فِیکُمْ حَتّٰی بَقِیَ مِنْہَا ہٰذَا الْمَالُ، فَکَانَیُنْفِقُ عَلٰی أَہْلِہِ مِنْہُ سَنَۃً، ثُمَّ یَجْعَلُ مَا بَقِیَ مِنْہُ مَجْعَلَ مَالِ اللّٰہِ، فَلَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: أَنَا وَلِیُّ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعْدَہُ أَعْمَلُ فِیہَا بِمَا کَانَ یَعْمَلُ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیہَا۔ (مسند احمد: ۴۲۵)

اردو ترجمہ · Urdu

مالک بن اوس بن حدثان سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے بلوایا، ابھی تک میں وہیں تھا کہ ان کے خادم یرفا نے آکر بتلایا کہ سیدنا عثمان، سیدنا عبدالرحمن، سیدنا سعد اور سیدنا زبیر بن عوام آئے ہیں، مجھے یہ یاد نہیں کہ اس نے سیدنا طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا نام لیا تھا یا نہیں، یہ حضرات آپ کے ہاں آنے کی اجازت طلب کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا: جی ان حضرات کو آنے دو، کچھ دیر کے بعد غلام نے آکر کہا: سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے ہیں، وہ آپ کے پاس آنے کی اجازت طلب کر رہے ہیں،انہو ں نے کہا: جی ان کو بھی آنے دو۔ جب سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے تو انہو ں نے کہا: اے امیر المومنین! آپ اس کے اور میرے درمیان فیصلہ کر دیں، اس وقت وہ بنو نضیر کے اموال میں سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مالِ فی ٔ کے بارے میں الجھ رہے تھے، ان کی بات سن کر سب لوگوں نے کہا: اے امیر المومنین! آپ ان کے درمیان فیصلہ کر دیں اور دونوں کو ایک دوسرے سے راحت دلائیں۔ ان کا یہ جھگڑا خاصا طو ل ہو چکاہے، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں تمہیں اس اللہ کا واسطہ دیتا ہوں، جس کے حکم سے یہ آسمان اور زمین قائم ہیں! کیاتم جانتے ہو کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا کہ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا، ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔ ؟ سب نے کہا: جی واقعی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ فرمایا تھا، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جب یہی بات ان دونوں سے پوچھی تو انھوں نے بھی مثبت جواب دیا، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں تمہیں اس مالِ فی ٔ کے بارے میں بتلاتا ہوں، اللہ تعالیٰ نے مالِ فی ٔ کو اپنے نبی کے لیے مخصوص کیا ہے، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے علاوہ یہ کسی دوسرے کو نہیں دیا، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَمَا أَفَائَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُولِہِ مِنْہُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَیْہِ مِنْ خَیْلٍ وَلَا رِکَابٍ}… اور اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف سے اپنے رسول کو جو مال فے دیا ہے، اس کے حصول کے لیے تم نے گھوڑوں اور سواریوں کو نہیں بھگایا۔ یہ اموال اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے خاص تھے، اللہ کی قسم! ایسا نہیں ہو اکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سارا مال خود رکھ لیا ہو اور تمہیں نہ دیا ہو اور نہ ہی آپ نے اس مال کے بارے میں دوسروں کو تمہارے ا وپر ترجیح دی ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ سارے اموال تمہارے درمیان تقسیم کر دیتے، پھر اس سے جو بچ جاتا، آپ اس میں سے سارا سال اپنے اہل خانہ پر خرچ کر تے تھے اور جو بچ جاتا، اس کو اللہ کے مال کے طور پر خرچ کردیتے تھے، جب اللہ کے رسول کا انتقال ہوا تو سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعد میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خلیفہ ہوں، میں اس مال میں اسی طرح تصرف کروں گا، جیسے اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تصرف کیا کرتے تھے۔

12218

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12218

Sahih

۔ (۱۲۲۱۸)۔ عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ قَالَ: حَدَّثَنِی شَیْخٌ مِنْ قُرَیْشٍ مِنْ بَنِی تَمِیْمٍ قَالَ: حَدَّثَنِی فُلَانٌ وَفُلَانٌ، وَقَالَ: فَعَدَّ سِتَّۃً أَوْ سَبْعَۃً کُلُّہُمْ مِنْ قُرَیْشٍ، فِیہِمْ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الزُّبَیْرِ، قَالَ: بَیْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ عُمَرَ، إِذْ دَخَلَ عَلِیٌّ وَالْعَبَّاسُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا، قَدِ ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُہُمَا، فَقَالَ عُمَرُ: مَہْ یَا عَبَّاسُ! قَدْ عَلِمْتُ مَا تَقُولُ، تَقُولُ ابْنُ أَخِی وَلِی شَطْرُ الْمَالِ، وَقَدْ عَلِمْتُ مَا تَقُولُیَا عَلِیُّ! تَقُولُ ابْنَتُہُ تَحْتِی وَلَہَا شَطْرُ الْمَالِ، وَہٰذَا مَا کَانَ فِییَدَیْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَدْ رَأَیْنَا کَیْفَ کَانَ یَصْنَعُ فِیہِ، فَوَلِیَہُ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ مِنْ بَعْدِہِ، فَعَمِلَ فِیہِ بِعَمَلِ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ وَلِیتُہُ مِنْ بَعْدِ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَأَحْلِفُ بِاللّٰہِ لَأَجْہَدَنَّ أَنْ أَعْمَلَ فِیہِ بِعَمَلِ رَسُولِ اللّٰہِ وَعَمَلِ أَبِی بَکْرٍ، ثُمَّ قَالَ: حَدَّثَنِی أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ وَحَلَفَ بِأَنَّہُ لَصَادِقٌ، أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((إِنَّ النَّبِیَّ لَا یُورَثُ، وَإِنَّمَا مِیرَاثُہُ فِی فُقَرَائِ الْمُسْلِمِینَ وَالْمَسَاکِینِ۔)) و حَدَّثَنِی أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ وَحَلَفَ بِاللّٰہِ إِنَّہُ صَادِقٌ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ النَّبِیَّ لَا یَمُوتُ حَتّٰییَؤُمَّہُ بَعْضُ أُمَّتِہِ۔)) وَہٰذَا مَا کَانَ فِییَدَیْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَدْ رَأَیْنَا کَیْفَ کَانَ یَصْنَعُ فِیہِ، فَإِنْ شِئْتُمَا أَعْطَیْتُکُمَا لِتَعْمَلَا فِیہِ بِعَمَلِ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَعَمَلِ أَبِی بَکْرٍ حَتّٰی أَدْفَعَہُ إِلَیْکُمَا، قَالَ: فَخَلَوَا ثُمَّ جَائَ ا فَقَالَ الْعَبَّاسُ: ادْفَعْہُ إِلٰی عَلِیٍّ فَإِنِّی قَدْ طِبْتُ نَفْسًا بِہِ لَہُ۔ (مسند احمد: ۷۸)

اردو ترجمہ · Urdu

عاصم بن کلیب سے مروی ہے کہ قریش کے بنو تمیم کے ایک بزرگ نے ان کو بیان کیا اس نے چھ سات قریشی بزرگوں کا نام لے کر کہا کہ اس کو ان حضرات نے بیان کیا، ان میں سے ایک نام سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بھی تھا، انہوں نے کہا: ہم سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے، ان کے جھگڑنے کی وجہ سے ان کی آوازیں بہت بلند ہورہی تھیں، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: عباس! ذرا رکو تو سہی، تم جو کچھ کہنا چاہتے ہو میں اسے جانتا ہوں، تم یہ کہنا چاہتے ہو کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے بھتیجے تھے، اس لیے مجھے آدھا مال ملنا چاہیے، اور علی! تم بھی جو کچھ کہنا چاہتے ہو، میں اس کو بھی جانتا ہوں، تم یہ کہنا چاہتے ہو کہ آپ کی بیٹی تمہاری زوجیت میں ہے اور وہ نصف مال کی حقدار ہے۔ سنو! رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھ میں جو کچھ تھا، وہ تو وہی ہے جو ہم سب دیکھ چکے ہیں،ہم جانتے ہیں کہ اللہ کے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس میں کیسے تصرف کیا کرتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعد سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خلیفہ بنے، انہوں نے بھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرح تصرف کیا، سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعد میں ان کا نگران مقرر ہوا ہوں، میں اللہ کی قسم اٹھا کر کہتا ہوں کہ جہاں تک ہو سکا میں اسی طرح عمل کروں گا۔ اس کے بعد سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے قسم اٹھا کر کہا کہ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سچ بولنے والے تھے، ان سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی نبی کاوارث نہیں ہوتا، ان کی میراث تو تنگ دست و نادار مسلمانوں میں تقسیم کی جاتی ہے۔ او ر سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھ سے یہ بھی بیان کیا، جبکہ اللہ کی قسم ہے کہ وہ سچ بولنے والے تھے، یہ بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نبی اس وقت تک فوت نہیں ہوتا، جب تک وہ اپنی امت میں سے کسی کی اقتدا میں نماز ادا نہ کر لے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جو کچھ تھا، ہم سب دیکھ چکے ہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس میں کیسے تصرف کیا کرتے تھے، اب اگرتم دونوں چاہو تو میں یہ مال تمہیں دے دیتا ہوں تاکہ تم بھی اس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرح تصرف کرتے رہو، پس وہ دونوں علیحدہ ہو گئے اور پھر آئے اور سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جی آپ یہ مال سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حوالے کر دیں، میں اس بارے میں علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حق میں دلی طور پر راضی ہوں۔