Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 173 · Chapter 2516

خلافت و امارت کے مسائل

فصل: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جنت میں سیدناعمر ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے جو کچھ دیکھا، اس کا اور ان کی غیرت کا بیان

7 hadiths in this chapter

12191

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12191

Sahih

۔ (۱۲۱۹۱)۔ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((دَخَلْتُ الْجَنَّۃَ، فَرَأَیْتُ قَصْرًا مِنْ ذَہَبٍ، قُلْتُ: لِمَنْ ہٰذَا الْقَصْرُ؟ قَالُوْا: لِشَابٍّ مِنْ قُرَیْشٍ، فَظَنَنْتُ أَنِّی أَنَا ہُوَ، قَالُوْا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ)) (مسند احمد: ۱۳۸۸۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا: میں جنت میں داخل ہوا اور میں نے وہاں سونے سے بنا ہوا ایک محل دیکھا، میں نے دریافت کیا کہ یہ محل کس کا ہے، انہو ں نے کہا یہ ایک قریشی نوجوان کا ہے، میں نے سمجھا کہ شاید اس سے مراد میں ہوں، انہو ں نے بتلایا کہ یہ عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ہے۔

12192

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12192

Sahih

۔ (۱۲۱۹۲)۔ (وَعَنْہٗاَیْضًا) أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((بَیْنَمَا أَنَا أَسِیرُ فِی الْجَنَّۃِ، فَإِذَا أَنَا بِقَصْرٍ فَقُلْتُ: لِمَنْ ہٰذَا یَا جِبْرِیلُ؟ وَرَجَوْتُ أَنْ یَکُونَ لِی، قَالَ: قَالَ: لِعُمَرَ، قَالَ: ثُمَّ سِرْتُ سَاعَۃً فَإِذَا أَنَا بِقَصْرٍ خَیْرٍ مِنَ الْقَصْرِ الْأَوَّلِ، قَالَ: فَقُلْتُ: لِمَنْ ہٰذَا یَا جِبْرِیلُ؟ وَرَجَوْتُ أَنْ یَکُونَ لِی، قَالَ: قَالَ لِعُمَرَ، وَإِنَّ فِیہِ لَمِنَ الْحُورِ الْعِینِ،یَا أَبَا حَفْصٍ! وَمَا مَنَعَنِی أَنْ أَدْخُلَہُ إِلَّا غَیْرَتُکَ۔)) قَالَ: فَاغْرَوْرَقَتْ عَیْنَا عُمَرَ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا عَلَیْکَ فَلَمْ أَکُنْ لِأَغَارَ۔ (مسند احمد: ۱۳۸۸۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں جنت میں چلا جارہا تھا کہ مجھے ایک محل دکھائی دیا، میں نے کہا اے جبریل! یہ کس کا ہے؟ جبکہ مجھے امید تھی کہ یہ میرا ہوگا، انھوں نے کہا: یہ عمر کا ہے، پھر میں مزید کچھ دیر چلا تو پہلے سے زیادہ خوبصورت محل نظر آیا، میں نے کہا: جبریل! یہ کس کا ہے؟ جبکہ مجھے توقع تھی کہ وہ میرا ہوگا، انہو ں نے بتلایا کہ یہ عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ہے اور اس میں فراخ چشم حوریں بھی ہیں، اے عمر! اگر تمہاری غیرت مانع نہ ہوتی تو میں اس کے اندر چلا جاتا۔ یہ سن کر عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی آنکھیں اشک بار ہو گئیں اور انہو ں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ پر تو غیرت نہیں کھا سکتا۔

12193

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12193

Sahih

۔ (۱۲۱۹۳)۔ وَعَنْ اَبِیْ بَرْزَۃَ الْاَسْلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اَصْبَحَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَعَا بِلَالًا فَقَالَ: ((یَا بِلَالُ بِمَ سَبَقْتَنِی إِلَی الْجَنَّۃِ؟ مَا دَخَلْتُ الْجَنَّۃَ قَطُّ إِلَّا سَمِعْتُ خَشْخَشَتَکَ أَمَامِی، إِنِّی دَخَلْتُ الْبَارِحَۃَ الْجَنَّۃَ فَسَمِعْتُ خَشْخَشَتَکَ، فَأَتَیْتُ عَلٰی قَصْرٍ مِنْ ذَہَبٍ مُرْتَفِعٍ مُشْرِفٍ، فَقُلْتُ: لِمَنْ ہٰذَا الْقَصْرُ؟ قَالُوْا: لِرَجُلٍ مِنَ الْعَرَبِ، قُلْتُ: أَنَا عَرَبِیٌّ، لِمَنْ ہٰذَا الْقَصْرُ؟ قَالُوْا: لِرَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِینَ مِنْ أُمَّۃِ مُحَمَّدٍ، قُلْتُ: فَأَنَا مُحَمَّدٌ لِمَنْ ہٰذَا الْقَصْرُ؟ قَالُوْا: لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ۔)) فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((لَوْلَا غَیْرَتُکَیَا عُمَرُ! لَدَخَلْتُ الْقَصْرَ۔)) فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! مَا کُنْتُ لِأَغَارَ عَلَیْکَ، قَالَ: وَقَالَ لِبِلَالٍ: ((بِمَ سَبَقْتَنِی إِلَی الْجَنَّۃِ؟)) قَالَ: مَا أَحْدَثْتُ إِلَّا تَوَضَّأْتُ وَصَلَّیْتُ رَکْعَتَیْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((بِہٰذَا۔)) (مسند احمد: ۲۳۳۸۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو برزہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صبح کے وقت سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بلاایا اور ان سے فرمایا: اے بلال! تم کس عمل کی بنا پر جنت میں مجھ سے سبقت لے جا رہے تھے؟ میں جب بھی جنت میں گیا، وہاں میں نے تمہارے پاؤں کی آہٹ اپنے سامنے سنی ہے۔ گزشتہ رات میں جنت میں گیا تو میں نے تمہاری وہی آواز سنی، پھر میں سونے سے بنے ہوئے ایک بلند وبالا محل کے پاس پہنچا۔ میں نے دریافت کیاکہ یہ محل کس کا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ ایک عربی شخص کا ہے، میں نے کہا: عربی تو میں بھی ہوں، یہ محل ہے کس کا؟ انہو ں نے بتلایا کہ یہ امت محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میں سے ایک آدمی کا ہے، میں نے کہا: میں ہی محمد ہوں، مجھے بتلاؤ کہ یہ محل کس کا ہے؟ انہو ں نے کہا: یہ عمر بن خطاب کا ہے۔ بعد ازاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عمر! اگر تمہاری غیرت کالحاظ نہ ہوتا تو میں محل کے اندر چلا جاتا۔ یہ سن کر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! میں آپ پر غیرت نہیں کر سکتا۔ سیدنا ابو برزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: تم کس عمل کی بنا پر جنت میں مجھ سے سبقت لیے جا رہے تھے؟ انہوں نے کہا: میں جب بھی بے وضو ہوتا ہوں تو وضو کرتا ہوں اور دو رکعت (تحیۃ الوضو پڑھتا ہوں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسی عمل کی وجہ سے ہے۔

12194

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12194

Sahih

۔ (۱۲۱۹۴)۔ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((رَأَیْتُنِی دَخَلْتُ الْجَنَّۃَ، فَإِذَا أَنَا بِالرُّمَیْصَائِ امْرَأَۃِ أَبِی طَلْحَۃَ۔)) قَالَ: ((وَسَمِعْتُ خَشْفًا أَمَامِی، فَقُلْتُ: مَنْ ہٰذَا یَا جِبْرِیلُ؟ قَالَ: ہٰذَا بِلَالٌ، قَالَ: وَرَأَیْتُ قَصْرًا أَبْیَضَ بِفِنَائِہِ جَارِیَۃٌ، قَالَ: قُلْتُ: لِمَنْ ہٰذَا الْقَصْرُ؟ قَالَ: لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَدْخُلَ فَأَنْظُرَ إِلَیْہِ، قَالَ: فَذَکَرْتُ غَیْرَتَکَ۔)) فَقَالَ عُمَرُ: بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی،یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَوَعَلَیْکَ أَغَارُ۔ (مسند احمد: ۱۵۰۶۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں جنت کے اندر گیا ہوں اور وہاں میں نے اپنے سامنے ابو طلحہ کی اہلیہ رمیصاء کو دیکھا ، پھر میں نے اپنے سامنے ایک آہٹ سنی اور کہا : اے جبریل ! یہ کون ہے ؟ انہوں نے کہا : یہ بلال ہیں ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اور میں نے ایک سفید محل دیکھا ، جس کے صحن میں ایک نوجوان لڑکی موجود تھی ۔ میں نے جبریل سے پوچھا : یہ محل کس کا ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ یہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ہے ، میں نے اس کے اندر جا کر اسے دیکھنے کا ارادہ تو کیا ، لیکن مجھے عمر تمہاری غیرت کا خیال آ گیا ۔ یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں ، کیا میں آپ پر غیرت کھا سکتا ہوں ؟

12195

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12195

Sahih

۔ (۱۲۱۹۵)۔ عَنْ صَالِحٍ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ: حَدَّثَنِی ابْنُ الْمُسَیَّبِ أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((بَیْنَمَا أَنَا نَائِمٌ، رَأَیْتُنِی فِی الْجَنَّۃِ، فَإِذَا امْرَأَۃٌ تَوَضَّأُ إِلٰی جَنْبِ قَصْرٍ، فَقُلْتُ: لِمَنْ ہٰذَا الْقَصْرُ؟ قَالُوْا: لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَذَکَرْتُ غَیْرَتَکَ فَوَلَّیْتُ مُدْبِرًا۔)) وَعُمَرُ رَحِمَہُ اللّٰہُ حِینَیَقُولُ ذٰلِکَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَالِسٌ عِنْدَہُ مَعَ الْقَوْمِ، فَبَکٰی عُمَرُ حِینَ سَمِعَ ذٰلِکَ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: أَعَلَیْکَ بِأَبِی أَنْتَ أَغَارُ یَا رَسُولَ اللّٰہِ؟ (مسند احمد: ۸۴۵۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں سویا ہوا تھا، میں نے خواب میں اپنے آپ کو دیکھا کہ میں جنت میں ہوں، ایک خاتون ایک محل کے پاس وضو کر رہی تھی، میں نے پوچھا کہ یہ محل کس کا ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ہے۔ عمر! (میں نے اس کے اندر جانا چاہا لیکن) مجھے تمہاری غیرت یاد آ گئی، پس میں واپس پلٹ آیا۔ جب اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ بات ارشاد فرما رہے تھے تو اس وقت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ‌ بھی لوگوں کے ساتھ آپ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، انہو ں نے جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ بات سنی تو رونے لگ گئے اور کہا: اللہ کے رسول! میرا والد آپ پر قربان جائے، کیا میں آپ پر غیرت کھا سکتا ہوں؟

12196

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12196

Sahih

۔(۱۲۱۹۶) ۔ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدِ ، عَنْ مُعَاذِ قَالَ : إِنْ کَانَ عُمَرُ لَمِنْ أَھْلِ الْجَنَّۃِ ، إِنَّ رَسُولَ اللہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کَانَ مَا رَأی فِی یَقْظَتِہِ أَوْ نَوْمِہِ فَھُوَ حَقَّ ، وَإِنَّہُ قَالَ : ((بَیْنَمَا أَنَا فِی الْجَنَّۃِ إِذْ رَأَیْتُ فِیھَا دَارًا ، فَقُلْتُ : لِمَنْ ھٰذِہِ ؟ فَقِیلَ : لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضی اللہ عنہ ۔)) (مسند احمد : ۲۲۴۷۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یقینا جنتی ہیں، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیداری کی حالت میں یا خواب کی حالت میں میں جو کچھ دیکھا، وہ برحق ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں جنت میں تھا، میں نے ایک محل دیکھا اور پوچھا کہ یہ محل کس کا ہے، بتلایا گیا کہ یہ عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ہے۔

12197

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12197

Sahih

۔(۱۲۱۹۷) ۔ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدِ ، أَنَّ مُعَاذًا قَالَ : وَاللہِ ! إِنَّ عُمَرَ فِی الْجَنَّۃِ ، وَمَا أَحِبُّ أَنَّ لِی حُمْرَ النَّعَمِ ، وَأَنَّکُمْ تَفَرَّقْتُمْ قَبْلَ أَنْ أُخْبِر؟کُمْ لِمَ قُلْتُ ذَاکَ ، ثُمَّ حَدَّثَھُمُ الرُٔؤْیَا الَّتِی رَأَی النَّبِیُٔ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی شَأْنِ عُمَرَ ، قَالَ : وَرُؤْیَا النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حَقَّ ۔ (مسند احمد : ۲۲۳۸۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا مصعب بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جنتی ہیں، مجھے یہ بات پسند نہیں کہ مجھے انتہائی قیمتی سرخ اونٹ مل جائیں اور تم اٹھ کر چلے جاؤ قبل اس کے کہ میں تمہیں پوری بات بتلاؤں کہ میں نے یہ بات کیوں کہی ہے، ا س کے بعد انہو ں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خواب بیان کیا اور پھر کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خواب حق ہے۔