Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 173 · Chapter 2515

خلافت و امارت کے مسائل

باب دوم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب اس باب کی کئی فصلیں ہیں فصل: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض فضائل اور ان کا اپنے اسلاف کی اقتداء کرنا

5 hadiths in this chapter

12186

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12186

Sahih

۔ (۱۲۱۸۶)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَوْ کَانَ مِنْ بَعْدِیْ نَبِیٌّ لَکَانَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۵۴۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے: اگر میرے بعد کوئی نبی آنا ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتے۔

12187

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12187

Sahih

۔ (۱۲۱۸۷)۔ وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قال: ((اَللّٰہُمَّ اَعِزَّ الْاِسْلَامَ بِاَحَبِّ ہٰذَیْنِ الرَّجُلَیْنِ اِلَیْکَ بِاَبِیْ جَہْلٍ اَوْ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَکَانَ اَحَبُّہُمَا اِلَی اللّٰہِ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ۔)) (مسند احمد: ۵۶۹۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یا اللہ! ابو جہل اور عمر بن خطاب میں سے جو آدمی تجھے زیادہ محبوب ہے، اس کے ذریعے اسلام کو عزت عطا فرما۔ اللہ تعالیٰ کو ان میں زیادہ محبوب سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے۔

12188

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12188

Sahih

۔ (۱۲۱۸۸)۔ وَعَنْ اَبِیْ نَوْفَلٍ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَۃُ: إِذَا ذُکِرَ الصَّالِحُونَ فَحَیَّہَلًا بِعُمَرَ۔ (مسند احمد: ۲۵۶۶۷)

اردو ترجمہ · Urdu

ابو نوفل سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: جب صالحین کا تذکرہ کیا جائے تو سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی یاد کیے جانے کے اہل ہیں۔

12189

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12189

Sahih

۔ (۱۲۱۸۹)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ نُسَیٍّ، عَنْ غُضَیْفِ بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّہُ مَرَّ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ: نِعْمَ الْفَتٰی غُضَیْفٌ، فَلَقِیَہُ أَبُو ذَرٍّ فَقَالَ: أَیْ أُخَیَّ اسْتَغْفِرْ لِی، قَالَ: أَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّیاللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَأَنْتَ أَحَقُّ أَنْ تَسْتَغْفِرَ لِی، فَقَالَ: إِنِّی سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ یَقُولُ: نِعْمَ الْفَتٰی غُضَیْفٌ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ ضَرَبَ بِالْحَقِّ عَلٰی لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِہِ۔)) قَالَ عَفَّانُ: عَلٰی لِسَانِ عُمَرَ یَقُولُ بِہِ۔ (مسند احمد: ۲۱۶۲۰)

اردو ترجمہ · Urdu

غضیف بن حارث سے روایت ہے کہ وہ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے قریب سے گزرے، انہو ں نے کہا، غضیف! اچھا آدمی ہے، پھر غصیف کی سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ملاقات ہوئی تو سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: میرے بھائی! آپ میرے لیے مغفرت کی دعا کریں۔ غضیف نے کہا: آپ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابی ہیں، آپ اس بات کے زیادہ حقدار ہیں کہ آپ میرے حق میں دعا کریں، انھوں نے کہا: میں نے عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو سنا ہے وہ کہہ رہے تھے کہ غضیف اچھا آدمی ہے، جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی دل و زبان پر حق کو جاری کر دیا ہے۔

12190

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12190

Sahih

۔ (۱۲۱۹۰)۔ عَنْ أَبِی وَائِلٍ قَالَ: جَلَسْتُ إِلَی شَیْبَۃَ بْنِ عُثْمَانَ فِی ہَذَا الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: جَلَسَ إِلَیَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مَجْلِسَکَ ہٰذَا، فَقَالَ: لَقَدْ ہَمَمْتُ أَنْ لَا أَدَعَ فِیہَا صَفْرَائَ وَلَا بَیْضَائَ إِلَّا قَسَمْتُہَا بَیْنَ الْمُسْلِمِینَ، قَالَ: قُلْتُ: مَا أَنْتَ بِفَاعِلٍ، قَالَ: لِمَ؟ قُلْتُ: لَمْ یَفْعَلْہُ صَاحِبَاکَ، قَالَ: ہُمَا الْمَرْئَ انِ یُقْتَدٰی بِہِمَا۔ (مسند احمد: ۱۵۴۵۷)

اردو ترجمہ · Urdu

ابو وائل سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں : میں مسجد نبوی میں شیبہ بن عثمان کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اسی طرح میرے قریب آ کر بیٹھ گئے جیسے تم بیٹھے ہو ، انہوں نے کہا : میں چاہتا ہوں کہ کعبہ کے اندر جس قدر سونا اور چاندی ہے ، اسے مسلمانوں میں تقسیم کر دوں ، میں نے کہا : آپ یہ کام نہیں کریں گے ۔ انہوں نے کہا : کیوں ؟ میں نے کہا : یہ کام تو آپ سے پہلے آپ کے دونوں ساتھیوں نے نہیں کیا ، یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : وہ دونوں ایسی شخصیات ہیں کہ جن کی اقتدا کی جانی چاہیے ۔