Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 173 · Chapter 2496

خلافت و امارت کے مسائل

فصل سوم: لڑکوں کی حکمرانی کا بیان

4 hadiths in this chapter

12093

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12093

Sahih

۔ (۱۲۰۹۳)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((ہَلَاکُ أُمَّتِی عَلٰییَدِ غِلْمَۃٍ مِنْ قُرَیْشٍ۔)) قَالَ مَرْوَانُ: وَہُوَ مَعَنَا فِی الْحَلْقَۃِ قَبْلَ أَنْ یَلِیَ شَیْئًا، فَلَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ غِلْمَۃً، قَالَ: وَ أَمَا وَاللّٰہِ لَوْ أَشَائُ أَقُولُ بَنُو فُلَانٍ وَبَنُو فُلَانٍ لَفَعَلْتُ، قَالَ: فَقُمْتُ أَخْرُجُ أَنَا مَعَ أَبِی وَجَدِّی إِلٰی مَرْوَانَ بَعْدَمَا مُلِّکُوا، فَإِذَا ہُمْ یُبَایِعُونَ الصِّبْیَانَ مِنْہُمْ، وَمَنْ یُبَایِعُ لَہُ، وَہُوَ فِی خِرْقَۃٍ، قَالَ لَنَا: ہَلْ عَسَی أَصْحَابُکُمْ ہٰؤُلَائِ أَنْ یَکُونُوا الَّذِینَ سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَیَذْکُرُ أَنَّ ہٰذِہِ الْمُلُوکَ یُشْبِہُ بَعْضُہَا بَعْضًا۔ (مسند احمد: ۸۲۸۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کی ہلاکت قریش کے لڑکوں کے ہاتھوں سے ہوگی۔ اس وقت مروان بھی ہمارے ساتھ اس حلقہ درس میں موجود تھا اور ابھی اسے حکومت نہیں ملی تھی، یہ سن کر وہ کہنے لگا: ان نوجوانوں پر اللہ کی لعنت ہو۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اگر میں چاہوں تو بیان کرسکتا اور بتاسکتا ہوں کہ وہ بنو فلاں اور بنو فلاں ہوں گے۔ یعنی سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ان کے قبائل اور خاندانوں کے ناموں سے بھی واقف تھے، بعد میں جب مروان کا خاندان بر سراقتدار آیا تو میں اپنے والد اور دادا کے ہمراہ مروان کے ہاں گیا،وہ اپنے لڑکوں کے حق میں بیعت لے رہے تھے اور بیعت کرنے والے بھی لڑکے ہی تھے، مروان شاہی لباس زیب تن کیے ہوئے تھے، اس نے ہم سے کہا: میں نے ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو سنا تھا کہ وہ ذکر کر رہے تھے کہ یہ بادشاہ ایک دوسرے کے مشابہ ہیں۔

12094

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12094

Sahih

۔ (۱۲۰۹۴)۔ عَنْ مَالِکِ بْنِ ظَالِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَیَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، أَبَا الْقَاسِمِ عَلَیْہِ الصَّلَاۃ وَالسَّلَامُ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ، یَقُولُ: ((إِنَّ ہَلَاکَ أُمَّتِی أَوْ فَسَادَ أُمَّتِی رُئُ وْسٌ أُمَرَائُ أُغَیْلِمَۃٌ سُفَہَائُ مِنْ قُرَیْشٍ۔)) (مسند احمد: ۷۹۶۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ابو القاسم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سچے ہیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تصدیق کی گئی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کی ہلاکت اور فساد قریش کے ناسمجھ نوجوان حکمرانوں کے ہاتھوں سے ہوگا۔

12095

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12095

Sahih

۔ (۱۲۰۹۵)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَعَوَّذُوْا بِاللّٰہِ مِنْ رَاْسِ السَّبْعِیْنَ، وَاِمَارَۃِ الصِّیْبَانِ۔)) (مسند احمد: ۸۶۳۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ستر سال کے بعد والے دور سے اور لڑکوں کی حکومت سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرو۔

12096

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12096

Sahih

۔ (۱۲۰۹۶)۔ عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِیِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ شَہْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ کَلِمَتَیْنِ، مِنَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، کَلِمَۃٌ وَمِنَ النَّجَاشِیِّ أُخْرٰی، سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((انْظُرُوْا قُرَیْشًا فَخُذُوْا مِنْ قَوْلِہِمْ، وَذَرُوْا فِعْلَہُمْ۔)) وَکُنْتُ عِنْدَ النَّجَاشِیِّ جَالِسًا فَجَائَ ابْنُہُ مِنَ الْکُتَّابِ فَقَرَأَ آیَۃً مِنَ الْإِنْجِیلِ، فَعَرَفْتُہَا أَوْ فَہِمْتُہَا فَضَحِکْتُ، فَقَالَ: مِمَّ تَضْحَکُ أَمِنْ کِتَابِ اللّٰہِ تَعَالٰی؟ فَوَاللّٰہِ! إِنَّ مِمَّا أَنْزَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی عِیسَی ابْنِ مَرْیَمَ أَنَّ اللَّعْنَۃَ تَکُونُ فِی الْأَرْضِ، إِذَا کَانَ أُمَرَاؤُہَا الصِّبْیَانَ۔ (مسند احمد: ۱۵۶۲۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عامر بن شہر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے دو خاص باتیں سنی ہیں، ایک نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور دوسری نجاشی سے۔ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ تم قریش پر نظر رکھنا، تم نے ان کی باتیں قبول کر لینی ہیں اور ان کے کردار کو چھوڑ دینا ہے۔ اور میں نجاشی کے ہاں بیٹھا ہوا تھا کہ اس کا بیٹا ایک کتاب لے کرآیا، اس نے انجیل کی ایک آیت پڑھی، میں نے اسے سمجھ لیا تو میں ہنس پڑا، نجاشی نے کہا: تم کس بات پر ہنسے ہو؟ کیا تم اللہ تعالیٰ کی کتاب سن کر ہنسے ہو؟ اللہ کی قسم! عیسیٰ بن مریم پر جو باتیں نازل کی گئی تھیں، ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ جب دنیا میں نوجوان حکمران ہوں گے تو زمین پر لعنت اترے گی۔