Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12075
۔ (۱۲۰۷۵)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لِکَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ: ((أَعَاذَکَ اللّٰہُ مِنْ إِمَارَۃِ السُّفَہَائِ۔)) قَالَ: ومَا إِمَارَۃُ السُّفَہَائِ؟ قَالَ: ((أُمَرَائُ یَکُونُونَ بَعْدِی لَا یَقْتَدُوْنَ بِہَدْیِی، وَلَا یَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِی، فَمَنْ صَدَّقَہُمْ بِکَذِبِہِمْ، وَأَعَانَہُمْ عَلٰی ظُلْمِہِمْ، فَأُولَئِکَ لَیْسُوا مِنِّی، وَلَسْتُ مِنْہُمْ، وَلَا یَرِدُوْا1 عَلَیَّ حَوْضِی، وَمَنْ لَمْ یُصَدِّقْہُمْ بِکَذِبِہِمْ، وَلَمْ یُعِنْہُمْ عَلٰی ظُلْمِہِمْ، فَأُولَئِکَ مِنِّی وَأَنَا مِنْہُمْ، وَسَیَرِدُوْا عَلَیَّ حَوْضِی۔)) (مسند احمد: ۱۴۴۹۴)
اردو ترجمہ · Urdu
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اللہ تمہیں بے وقوفوں اور نااہل لوگوں کی حکمرانی سے بچائے۔ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: بے وقوفوں کی حکومت سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو امراء میرے بعد آئیں گے، وہ میرے طریقے کی اقتداء نہیں کریں گے اور میری سنتوں پر عمل نہیں کریں گے، جس نے ان کے جھوٹے ہونے کے باوجود ان کی تصدیق کی اور ان کے ظلم وجور کے باوجود ان کی مدد کی، ان کا مجھ سے اور میرا ان سے کوئی تعلق نہیں ہو گا اور نہ وہ مجھ پر میرے حوض پر آئیں گے اور جس نے ان کے جھوٹ کی تصدیق نہیں کی اور نہ ان کے ظلم پر ان کی اعانت نہ کی، وہ میرے ہیں اور میں ان کا ہوں اور یہی لوگ میرے پاس میرے حوض پر آئیں گے۔