Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 173 · Chapter 2490

خلافت و امارت کے مسائل

فصل: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان تم میں سے ہر کوئی نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے پوچھ گچھ ہو گی کی وضاحت

5 hadiths in this chapter

12048

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12048

Sahih

۔ (۱۲۰۴۸)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((کُلُّکُمْ رَاعٍ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِیَّتِہِ، الْإِمَامُ رَاعٍ وَہُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِیَّتِہِ، وَالرَّجُلُ فِی أَہْلِہِ رَاعٍ وَہُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِیَّتِہِ، وَالْمَرْأَۃُ رَاعِیَۃٌ فِی بَیْتِ زَوْجِہَا وَہِیَ مَسْئُولَۃٌ عَنْ رَعِیَّتِہَا، وَالْخَادِمُ فِی مَالِ سَیِّدِہِ رَاعٍ وَہُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِیَّتِہِ۔)) قَالَ: سَمِعْتُ ہٰؤُلَائِ مِنَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَأَحْسَبُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((وَالرَّجُلُ فِی مَالِ أَبِیہِ رَاعٍ وَہُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِیَّتِہِ، فَکُلُّکُمْ رَاعٍ وَکُلُّکُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِیَّتِہِِِِِ۔)) (مسند احمد: ۶۰۲۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں ہر کوئی نگران ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں باز پرس ہوگی، حکمران ذمہ دار ہے، اس سے اس کی رعایا کے متعلق پوچھا جائے گا، مرد اپنے اہل وعیال کا ذمہ دار ہے، اس سے اس سے متعلقہ افراد کے بارے میں پوچھ گچھ ہوگی، عورت اپنے شوہر کے گھر کی ذمہ دار ہے، اس سے اس کی ذمہ داریوں کے متعلق سوال وجواب ہوگا، خادم اپنے آقا کے مال پر نگران ہے، اس سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے یہ الفاظ تو نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنے ہیں۔ اور میرا خیال ہے کہ نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ انسان اپنے والد کے مال کا ذمہ دار اور نگران ہے، پس اس سے اس کے بارے میں بھی پوچھ گچھ ہوگی، غرضیکہ تم میں سے ہر آدمی نگران ہے اور اس سے اس کی رعایا کے متعلق پوچھا جائے گا۔

12049

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12049

Sahih

۔ (۱۲۰۴۹)۔ (وَعَنْہٗاَیْضًا) اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَسْتَرْعِی اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی عَبْدًا رَعِیَّۃً قَلَّتْ أَوْ کَثُرَتْ إِلَّا سَأَلَہُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی عَنْہَایَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَقَامَ فِیہِمْ أَمْرَ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی أَمْ أَضَاعَہُ؟ حَتّٰییَسْأَلَہ عَنْ اَھْلِ بَیْتِہٖ خَاصَّۃً۔)) (مسند احمد: ۴۶۳۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جس بندے کو تھوڑی یا زیادہ رعایا پر حکمرانی عطا فرماتا ہے، اس سے ان کے متعلق قیامت کے روز پوچھے گا کہ اس نے ان میں اللہ کا حکم نافذ کیایا نہیں کیا، یہاں تک کہ خاص طور پر ا س سے اس کے اہل کے بارے میں بھی پوچھے گا۔

12050

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12050

Sahih

۔ (۱۲۰۵۰)۔ (وَعَنْہٗاَیْضًا) رَأٰی رَاعِیَ غَنَمٍ فِی مَکَانٍ قَبِیحٍ، وَقَدْ رَأَی ابْنُ عُمَرَ مَکَانًا أَمْثَلَ مِنْہُ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَیْحَکَیَا رَاعِی! حَوِّلْہَا فَإِنِّی سَمِعْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((کُلُّ رَاعٍ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِیَّتِہِ۔)) (مسند احمد: ۵۸۶۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بکریوں کے ایک چروا ہے کو دیکھا کہ وہ انتہائی گندی جگہ بکریاں چرا رہا تھا، جبکہ وہ ا س سے بہتر جگہ دیکھ آئے تھے، اس لیے انھوں نے کہا: چرواہے! تجھ پر افسوس ہے، ان بکریوں کو یہاں سے منتقل کر کے وہاں لے جا، کیونکہ میں نے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ہر ذمہ دار سے اس کی رعایا کے متعلق باز پرس ہوگی۔

12051

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12051

Sahih

۔ (۱۲۰۵۱)۔ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ مَعْقِلَ بْنَ یَسَارٍ اشْتَکٰی، فَدَخَلَ عَلَیْہِ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ زِیَادٍیَعْنِییَعُودُہُ، فَقَالَ: أَمَا إِنِّی أُحَدِّثُکَ حَدِیثًا لَمْ أَکُنْ حَدَّثْتُکَ بِہِ، إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، أَوْ إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَسْتَرْعِی اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی عَبْدًا رَعِیَّۃً، فَیَمُوتُیَوْمَیَمُوتُ وَہُوَ لَہَا غَاشٌّ إِلَّا حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ۔)) وَفِیْ رِوَایَۃٍ: ((فَھُوَ فِی النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۵۵۷)

اردو ترجمہ · Urdu

حسن سے روایت ہے کہ سیدنا معقل بن یسار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیمار پڑ گئے اورعبید اللہ بن زیاد ان کی تیماداری کے لیے آئے، سیدنا معقل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں تم کو ایک حدیث سناتا ہوں، جو میں نے پہلے نہیں سنائی تھی، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ اپنے کسی بند ے کو رعایا پر حکمرانی عطا فرمائے، لیکن اگر وہ حکمران ا س حال میں مرے کہ وہ اپنی رعایا کو دھوکا دیتا تھا تو اللہ تعالیٰ ا س پر جنت کو حرام کردیتا ہے۔ ایک روایت میں ہے: وہ جہنمی ہے۔

12052

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12052

Sahih

۔ (۱۲۰۵۲)۔ (وَبِالطَّرِیْقِ الثَّانِیْ) عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: مَرِضَ مَعْقِلُ بْنُ یَسَارٍ مَرَضًا ثَقُلَ فِیہِ فَأَتَاہُ ابْنُ زِیَادٍیَعُودُہُ، فَقَالَ: إِنِّی مُحَدِّثُکَ حَدِیثًا سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَنِ اسْتُرْعِیَ رَعِیَّۃً فَلَمْیُحِطْہُمْ بِنَصِیحَۃٍ لَمْ یَجِدْ رِیحَ الْجَنَّۃِ، وَرِیحُہَایُوجَدُ مِنْ مَسِیرَۃِ مِائَۃِ عَامٍ۔)) قَالَ ابْنُ زِیَادٍ: أَلَا کُنْتَ حَدَّثْتَنِی بِہٰذَا قَبْلَ الْآنَ، قَالَ: وَالْآنَ لَوْلَا الَّذِی أَنْتَ عَلَیْہِ لَمْ أُحَدِّثْکَ بِہِ۔ (مسند احمد: ۲۰۵۸۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) حسن سے مروی ہے کہ سیدنا معقل بن یسار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیمار پڑ گئے، مرض شدت اختیار کر گئی، ابن زیاد ان کی تیمارداری کے لیے آئے، سیدنا معقل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں تم کو ایک حدیث سناتا ہوں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی کو حکمرانی ملی اور وہ اپنی رعایا کے ساتھ بھلائی نہ کرے تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا،حالانکہ اس کی خوشبو سوسال کی مسافت سے محسوس ہوجاتی ہے۔ ابن زیادنے کہا: تم نے یہ حدیث اس سے پہلے بیان کیوں نہیں کی؟سیدنا معقل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: آپ جس مقام پر اب ہیں، اگر اس پر نہ ہوتے تو میں اب بھی آپ کو یہ حدیث نہ سناتا۔