Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 173 · Chapter 2489

خلافت و امارت کے مسائل

باب سوم: ہر امام، امیر اور لوگوں کے معاملات کا مسئول بننے والے کی ذمہ داری ہے کہ وہ رعایا کے امور میں عدل و انصاف سے کام لے اور ظلم و جور سے بچے، بیشک اس سے اس بارے میں پوچھ گچھ ہوگی

8 hadiths in this chapter

12040

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12040

Zaeef

۔ (۱۲۰۴۰)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَی اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَأَقْرَبَہُمْ مِنْہُ مَجْلِسًا إِمَامٌ عَادِلٌ، وَإِنَّ أَبْغَضَ النَّاسِ إِلَی اللّٰہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَأَشَدَّہُ عَذَابًا إِمَامٌ جَائِرٌ۔)) (مسند احمد: ۱۱۵۴۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عادل حکمران قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہوگا اور وہ سب سے بڑھ کر اللہ کے قریب جگہ پائے گا۔ اور قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسند اور سب سے زیادہ سخت عذاب کا مستحق وہ حکمران ہوگا جو دنیا میں دوسروں پر ظلم ڈھاتا رہا۔

12041

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12041

Sahih

۔ (۱۲۰۴۱)۔ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ یَسَارٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((لَیْسَ مِنْ وَالِی أُمَّۃٍ قَلَّتْ أَوْ کَثُرَتْ لَا یَعْدِلُ فِیہَا إِلَّا کَبَّہُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی عَلٰی وَجْہِہٖفِی النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۵۵۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا معقل بن یسار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کے تھوڑے یا زیادہ افراد پر جس آدمی کو حکومت کرنے کا موقع ملے اور پھر وہ عدل سے کام نہ لے تو اللہ تعالیٰ اسے چہرے کے بل جہنم میں ڈالے گا۔

12042

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12042

Sahih

۔ (۱۲۰۴۲)۔ وَعَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا مِنْ أَمِیرِ عَشَرَۃٍ إِلَّا یُؤْتٰی بِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مَغْلُولًا لَا یَفُکُّہُ إِلَّا الْعَدْلُ أَوْ یُوبِقُہُ الْجَوْرُ۔)) (مسند احمد: ۹۵۷۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی دس افراد کی چھوٹی سی جماعت پر امیر اور حاکم مقرر ہوتا ہے، اسے قیامت کے روز باندھ کر پیش کیا جائے گا، اسے اس کا عدل وانصاف رہائی دلائے گااور اس کا ظلم وجور اس کو ہلاک کر دے گا۔

12043

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12043

Zaeef

۔ (۱۲۰۴۳)۔ عَنْ أَبِی قَحْذَمٍ قَالَ: وُجِدَ فِی زَمَنِ زِیَادٍ أَوْ ابْنِ زِیَادٍ صُرَّۃٌ فِیہَا حَبٌّ أَمْثَالُ النَّوٰی، عَلَیْہِ مَکْتُوبٌ ہٰذَا نَبَتَ فِی زَمَانٍ کَانَ یُعْمَلُ فِیہِ بِالْعَدْلِ۔ (مسند احمد: ۷۹۳۶)

اردو ترجمہ · Urdu

ابو قحذم کہتے ہیں: زیاد یا ابن زیاد کے عہد میں ایک تھیلی میں گٹھلیوں کے برابر غلے کے (موٹے موٹے) دانے ملے، ان پر یہ لکھا ہوا تھا کہ یہ غلہ اس زمانہ میں ہوتا تھا، جب عدل کا دور دورہ تھا۔

12044

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12044

Sahih

۔ (۱۲۰۴۴)۔ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہُ قَالَ: ((مَا مِنْ رَجُلٍ یَلِی أَمْرَ عَشَرَۃٍ فَمَا فَوْقَ ذٰلِکَ إِلَّا أَتَی اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ مَغْلُولًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِیَدُہُ إِلَی عُنُقِہِ، فَکَّہُ بِرُّہُ أَوْ أَوْبَقَہُ إِثْمُہُ، أَوَّلُہَا مَلَامَۃٌ وَأَوْسَطُہَا نَدَامَۃٌ، وَآخِرُہَا خِزْیٌیَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۵۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوامامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو حکمران دس یا اس سے زیادہ افراد پر حکومت پائے، اسے قیامت کے د ن اللہ تعالیٰ کے حضور اس حال میں پیش کیا جائے گا کہ اس کا ہاتھ اس کی گردن سے بندھا ہوا ہوگا، اس کی نیکی اس کو چھڑائے گی یا اس کا گناہ اس کو ہلاک کر دے گا، اس اقتدار کی ابتدا میں ملامت ہے، درمیان میں ندامت ہے اور اس کا انجام قیامت کے روز رسوائی ہے۔

12045

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12045

Sahih

۔ (۱۲۰۴۵)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَکُونُ فِی آخِرِ الزَّمَانِ خَلِیفَۃٌیُعْطِی الْمَالَ وَلَا یَعُدُّہُ عَدًّا))۔ وَفِیْ رِوَایَۃٍ: ((یَقْسِمُ الْمَالَ وَلَا یَعُدُّہٗ))۔ (مسند احمد: ۱۱۰۲۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آخری زمانہ میں ایک ایسا خلیفہ ہو گا، جو شمار کیے بغیر لوگوں کو مال عطا کیا کرے گا۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: وہ لوگوں میں اموال تقسیم کرے گا، مگر شمار نہ کرے گا۔

12046

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12046

Sahih

۔ (۱۲۰۴۶)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّمَا الْإِمَامُ جُنَّۃٌ یُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِہِ، وَیُتَّقٰی بِہِ، فَإِنْ أَمَرَ بِتَقْوٰی وَعَدَلَ فَإِنَّ لَہُ بِذٰلِکَ أَجْرًا، وَإِنْ أَمَرَ بِغَیْرِ ذٰلِکَ فَإِنَّ عَلَیْہِ فِیہِ وِزْرًا۔)) (مسند احمد: ۱۰۷۸۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: امام اور حکمران ایک ڈھال ہے، جس کے پیچھے سے دشمن سے لڑاجاتا ہے اور اس کے ذریعہ دشمن کے وار سے بچاجاتا ہے، اگر وہ تقویٰ کا حکم دے اور عدل سے کام لے تو اسے ان کاموں کا اجر ملے گا اور اگر اس کے سوا کسی دوسری بات کا حکم دے تو اسے اس کا گناہ ہوگا۔

12047

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12047

Zaeef

۔ (۱۲۰۴۷)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: قُلْتُ: وَاللّٰہِ! مَا یَأْتِی عَلَیْنَا أَمِیرٌ إِلَّا وَہُوَ شَرٌّ مِنْ الْمَاضِی، وَلَا عَامٌ إِلَّا وَہُوَ شَرٌّ مِنْ الْمَاضِی، قَالَ: لَوْلَا شَیْئٌ سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَقُلْتُ مِثْلَ مَا یَقُولُ، وَلٰکِنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((إِنَّ مِنْ أُمَرَائِکُمْ أَمِیرًایَحْثِی الْمَالَ حَثْیًا وَلَا یَعُدُّہُ عَدًّا، یَأْتِیہِ الرَّجُلُ فَیَسْأَلُہُ فَیَقُولُ: خُذْ فَیَبْسُطُ الرَّجُلُ ثَوْبَہُ فَیَحْثِی فِیہِ))، وَبَسَطَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِلْحَفَۃً غَلِیظَۃً کَانَتْ عَلَیْہِ،یَحْکِی صَنِیعَ الرَّجُلِ، ثُمَّ جَمَعَ إِلَیْہِ أَکْنَافَہَا، قَالَ: ((فَیَأْخُذُہُ ثُمَّ یَنْطَلِقُ۔)) (مسند احمد: ۱۱۹۶۲)

اردو ترجمہ · Urdu

ابو الو داک کہتے ہیں: میں نے کہا: ہمارے اوپر جو بھی حکمران آتا ہے، وہ پہلے سے بدتر ہوتا ہے اور ہر آنے والا سال بھی گزشتہ سال سے برا ہوتا ہے۔یہ سن کر سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ایک حدیث نہ سنی ہوتی تو میں بھی یہی کہتا، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے اوپر ایک ایسا حکمران آئے گا جو خوب مال تقسیم کرنے والا ہو گا، اسے شمار تک نہیں کرے گا، جو آدمی اس کے پاس آکر سوال کرے گا، وہ کہے گا: لے جا، چنانچہ وہ آدمی اپنا کپڑا بچھا کر اسے بھر کر لے جائے گا۔ اس وقت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اوپر ایک موٹی سی چادر تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے بچھا کر بیان کیا کہ وہ اسے یوں بھر لے گا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چادر کے کناروں کو پکڑ کر دکھایا۔ اور فرمایا: وہ مال سے بھری چادر کو یوں لے کر چلا جائے گا۔