Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12001
۔ (۱۲۰۰۱)۔ عَنْ أَبِی الْحَسَنِ مَوْلَی أُمِّ قَیْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، عَنْ أُمِّ قَیْسٍ أَنَّہا قَالَتْ: تُوُفِّیَ ابْنِی فَجَزِعْتُ عَلَیْہِ فَقُلْتُ لِلَّذِی یَغْسِلُہُ: لَا تَغْسِلْ ابْنِی بِالْمَائِ الْبَارِدِ فَتَقْتُلَہُ، فَانْطَلَقَ عُکَّاشَۃُ بْنُ مِحْصَنٍ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَأَخْبَرَہُ بِقَوْلِہَا فَتَبَسَّمَ ثُمَّ قَالَ: ((مَا قَالَتْ؟ طَالَ عُمْرُہَا۔)) قَالَ: فَلَا أَعْلَمُ امْرَأَۃً عُمِّرَتْ مَا عُمِّرَتْ۔ (مسند احمد: ۲۷۵۳۹)
اردو ترجمہ · Urdu
سیدہ ام قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میرا بیٹا وفات پا گیا، میں اس پر بہت زیادہ غمگین ہوئی، میں نے غسل دینے والے سے کہا کہ میرے بیٹے کو ٹھنڈے پانی سے غسل دے کر اسے مار نہ دینا، تو ان کے بھائی سیدہ عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ نے جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کی یہ بات بتلائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر تبسم کیا اور فرمایا: اس نے کیا کہا؟ اس کی عمر طویل ہو۔ ابو الحسن کہتے ہیں: میرے علم کے مطابق جتنی عمر ان کو ملی، اتنی عمر کسی خاتون کی نہیں تھی۔