Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 172 · Chapter 2476

فضائل و مناقب کی کتاب

سیدہ ام فضل لبابہ بنت حارث ہلالیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ

3 hadiths in this chapter

11998

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11998

Sahih

۔ (۱۱۹۹۸)۔ عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ ( ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ) قَالَتْ: أَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: اِنِّیْ رَأَیْتُ فِیْ مَنَامِیْ فِیْ بَیْتِیْ أَوْ حُجْرَتِیْ عُضْوًا مِنْ أَعْضَائِکَ، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ زَیَادَۃُ فَجَزِعْتُ مِنْ ذٰلِکَ) قَالَ: ((تَلِدُ فَاطَمِۃُ اِنْ شَائَ اللّٰہُ غُلَامًا فَتَکْفُلِیْنَہُ۔)) فَوَلَدَتْ فَاطِمَۃُ حَسَنًا، فَدَفَعَتْہُ اِلَیْہَا فَأَرْضَعَتْہُ بِلَبَنِ قُثَمَ، وَأَتَیْتُ بِہِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمًا أَزُوْرُہُ، فَأََخَذَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَوَضَعَہُ عَلٰی صَدْرِہِ فَبَالَ عَلٰی صَدْرِہِ، فَأَصَابَ الْبَوْلُ اِزَارَہُ، فَزَخَخْتُ بِیَدِیْ عَلٰی کَتِفَیْہِ،(وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَضَرَبَتُ بَیْنَ کَتِفَیْہِ) فَقَالَ: ((أَوْجَعْتِ ابْنِیْ أَصْلَحَکِ اللّٰہُ۔)) أَوْ قَالَ: ((رَحِمَکِ اللّٰہُ۔)) فَقُلْتُ: أَعْطِنِیْ اِزَارَکَ أَغْسِلْہُ، فَقَالَ: ((اِنَّمَا یُغْسَلُ بَوْلُ الْجَارِیَۃِ وَیُصَبُّ عَلٰی بَوْلِ الْغُلَامِ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۴۱۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ ام فضل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئی اور کہا: میں نے خواب میں اپنے گھر یا اپنے حجرے میں آپ کے اعضاء میں سے ایک عضو دیکھا ہے اور میں اس سے گھبرا گئی ہوں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیٹا جنم دے گی اور تم اس کی کفالت کرو گی۔ پس سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے واقعی سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو جنم دیا اور ان کو سیدہ ام فضل کے سپرد کر دیا، انھوں نے ان کو سیدنا قثم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دودھ سے دودھ پلایا، ایک دن میں سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زیارت کرنے کے لیے آپ کے پاس آئی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو پکڑا اور اپنے سینے پر رکھ دیا، پس بچے نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سینے پر پیشاب کر دیا اور وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ازار تک پہنچ گیا، میں نے سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے کندھوں کے درمیان اپنے ہاتھ سے مارا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہاری اصلاح کرے، تم نے میرے بیٹے کو تکلیف دی ہے۔ یا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم کرے۔ پھر میں نے کہا: آپ اپنا ازار مجھے دے دیں، تاکہ میں اس کو دھو دوں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: صرف بچی کے پیشاب کو دھویاجاتا ہے اور بچے کے پیشاب پر پانی بہا دیا جاتا ہے۔

11999

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11999

Sahih

۔ (۱۱۹۹۹)۔ عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ قَالَتْ: شَکُّوْا فِیْ صَوْمِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ عَرَفَۃَ، فَقٰلَتْ أُمُّ الْفَضْلِ: أَنَا أُعْلِمُ لَکُمْ ذٰلِکَ، فَبَعَثَتْ بِلَبَنٍ فَشَرِبَ۔ (مسند احمد: ۲۷۴۰۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ ام فضل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ صحابہ کو عرفہ کے دن یہ شک ہونے لگا کہ آیا آج رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روزے سے ہیں یا نہیں، سیدہ ام فضل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: میں تمہیں اس کا پتہ کرا کے دیتی ہوں،پھر انہوں نے دودھ کا برتن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں بھجوایا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ پی لیا (اور اس طرح پتہ چل گیاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا روزہ نہیں ہے)۔

12000

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12000

Sahih

۔ (۱۲۰۰۰)۔ (وَعَنْہٗ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ أَخْبَرَتْہٗ أَنَّہُمْ شَکُّوْا فِیْ صَوْمِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ عَرَفَۃَ،فَأَرْسَلَتْ إِلَیْہِ بِلَبَنٍ فَشَرِبَ، وَھُوَ یَخْطُبُ النَّاسَ بِعَرَفَۃَ عَلٰی بَعِیْرِہِ۔ (مسند احمد: ۲۷۴۱۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدنا ام فضل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کو عرفہ کے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے روزے کے بارے میں شک ہونے لگا، تو انہوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں دودھ بھجوا دیا اورآپ نے وہ نوش فرما لیا، اس وقت آپ عرفہ میں اونٹ پر سوار ہو کرلوگوں کو خطبہ دے رہے تھے۔